امریکہ سپر کمپیوٹر کی دوڑ میں آگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی بی ایم کے بلیو جین / ایل سپرکمپیوٹر کے مارکیٹ میں آنے سے سپر کمپیوٹر کی دوڑ میں امریکہ نے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس کمپیوٹر کو امریکہ کے محکمہ توانائی نے لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری کے لیے تیار کیا ہے۔ آئی بی ایم کے تجربات میں بلیو جین / ایل سپر کمپیوٹر کی رفتار 70.72 ٹیرافلوپ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے جاپان کی این ای سی کمپنی کے ارتھ سمولیٹر نامی کمپیوٹر کی رفتار 35.86 ٹیرافلوپ ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ رفتار لن پیک نامی ٹیسٹ کی مدد سے ریکارڈ کی گئی۔ یہ ٹیسٹ ایک سیکنڈ میں کی جانے والی کلکیولیشنز کی بنیاد پر نتائج اخذ کرتا ہے۔ 2005 میں اپنی تکمیل کے بعد بلیو جین / ایل سپر کمپیوٹر اپنے موجودہ ماڈل سے بھی زیادہ طاقتور ہوگا۔ ٹاپ500 لسٹ کے سربراہ ایرک سٹرمائر کے مطابق ’اگلے سال اپنی مکمل شکل میں یہ ایک قریبا ً ناقابلِ شکست کمپیوٹر ہو گا‘۔ یہ کمپیوٹر امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت اور ان کی کارکردگی کی جانچ کے معاملے میں سائنسدانوں کی مدد کرے گا۔ دوسرے نمبر پر سیلیکون گرافکس کا کولمبیا نامی کمپیوٹر آیا ہے جو کہ کیلیفورنیا میں واقع امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کے ایمز ریسرچ سنٹر میں ہے۔ لینکس آپریٹنگ سسٹم کی اس مشین کی رفتار اکتوبر میں 42.7 ٹریلین کلکیولیشنز فی سیکنڈ ناپی گئی تھی۔ اس کمپیوٹر کو موسمیاتی تحقیق اور خلائی انجینئرنگ میں استعمال کیا جائے گا۔ جاپانی سپر کمپیوٹر ارتھ سمولیٹر جون 2000 سے تیز ترین کمپیوٹر کی مسند پر براجمان تھا۔ یہ کمپیوٹر ماحولیات اور زلزلہ سے متعلق مواد پر کام کرتا ہے۔ بلیو جین / ایل سپر کمپیوٹر سب سے پہلے سپر کمپیوٹر’ کرے1‘ سے پچاس لاکھ گنا تیز ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||