BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 June, 2006, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دریافت: جدید کے قدیم ترین
زیورات
سیپیوں کو ہاروں اور کڑوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا تھا
سائنسدانوں نے ایسے جواہرات کی نشاندھی کی ہے جن کے بارے میں قیاس کیا جا رہا ہے کے انہیں جدید دور کے اولین لوگوں نے بنایا تھا۔


ان میں سے تین سیپیاں ایسی ہیں جن کے بارے میں محققین کا قیاس ہے کہ نوے ہزار سے ایک لاکھ سال پہلے کی ہیں۔

ان میں دو قدیم سیپیاں اسرائیل میں کوہِ کارمل کی ڈھلان پر واقع سخل نامی غار سے اور ایک الجیریا میں عود جبلانا کے مقام سے ملی ہے۔

امریکی سائنس جرنل کا کہنا ہے کہ اس سلسلے کی دیگر دریافتیں نئی دریافتوں سے بھی 25 ہزار سال قدیم ہو سکتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان سیپیوں میں یکساں فاصلوں پر ایک جیسے سوراخ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں ہار یا کڑوں میں استعمال کیا جاتا ہو گا۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان سیپیوں کی بناوٹ آثار قدیمہ کے ذریعے منکشف ہونے والے انسانی طرز عمل کے بارے میں اہم پیش رفت کا پتہ دیتے ہیں۔

نیچرل ہسٹری میوزیم لندن پروفیسر کرس سٹرینگر کا کہنا ہے کہ ’ہار یا اس طرح کی دوسری زیورات کے استعمال کے حیثیت علامتی ہوتی ہے اور جب ہم اس طرح کی چیزیں پہنتے ہیں تو ہم کوئی خاص طرح کا پیغام دے رہے ہوتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ پیغام طاقتور، دولتمند اور جنسی ہونے کے اظہار کے علاوہ اس بات کا اظہار ہو سکتے کے آپ کس طرح کے لوگوں میں سے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس کے سماجی معنی بھی ہوتے ہوں گے‘۔

اس سے قبل ناروے کی برجن یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹوفر ہینشلوڈ اور ان کی ٹیم نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان موتیوں کی دریافت سے ہمارے اباؤ اجداد کے خیالات کی اولین تصویر سامنے آتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس زمانے میں اس طرح کے اوزار استعمال کیے جاتے ہوں گے

قبل ازیں خیال کیا جاتا تھا کے دنیا کے قدیم ترین زیورات پپینتالیس ہزار سال پرانے ہیں۔

پروفیسر کرسٹوفر ہینشلوڈ کی ٹیم کا خیال ہے کہ ان سیپیوں کو دریا سے اٹھا کر غاروں تک لے جایا گیا ہو گا کیونکہ ان کے مطابق قریب ترین دریا بھی وہاں سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اسی بارے میں
باکو ایک قدیم شہر
28 July, 2004 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد