باکو ایک قدیم شہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باکو کی پہلی جھلک نے تو مجھے بالکل متاثر نہیں کیا بلکہ سچ پوچھئے تو ذہن میں سب سے پہلا نقش تو تیل کی بڑی بڑی بدصورت پائپ لائنوں نے قائم کیا جو ایک بڑے سے اژدھا کی طرح شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ اور پھر رہی سہی کسر سمندر کے منظر نے پوری کر دی جہاں ہلال نماایپشران کے ساحل کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھو توسمندر کے اندر دور تک دائیں اور بائیں دونوں طرف تیل کے کنووں کے آہنی میناروں نے ایک گھیرا سا بنا رکھا ہے۔ مجھے یہ منظر دیکھ کر بہت ہی دکھ ہوا کہ بحیرہ کیسپیین کے مغرب میں آذربائجان کے ساحل کا یہ حصہ تو ہمیشہ کے لیے تباہ ہو گیا ہے۔ اور مجھے اس بات سے بھی سخت مایوسی ہوئی کہ جس شہر کو میں بوسنیا کے دارالحکومت ساراسژیوو کی طرح سلطنت عثمانیہ کے دور کا ایک تاریخی شہر سمجھ کر دیکھنے کی شوقین تھی وہ ایک صنعتی جنگل نکلا۔ لیکن اس کے بعد جب میں نے شہر کے باقی حصوں میں گھوم پھر کے دیکھا تو آہستہ آہستہ اس شہر کا حسن مجھ پر اجاگر ہوا اوراسکی تاریخی عمارات، قالینوں اور دوسری دستکاری کی دوکانوں اورچھوٹے بڑے ریستورانوں سے شہر کی دلچسپیوں کا اندازہ ہوا لیکن شہر کے جس حصے نے واقعی میرا دل موہ لیا وہ قلعے کی دیواروں کے اندر اس کا قدیم شہر ہے جسے ’اچارے‘ شہر کہتے ہیں۔ دیوار کے ساتھ ساتھ سارے شہر کا چکر لگانے کے لیے تو آدھا گھنٹہ ہی کافی ہے لیکن اسے کے اندر شیروان شاہ کا محل، اس کی ساحل کی جانب دستکاری کی دوکانیں، گیزگلاسی کا برج اورکاروان سرائے کا علاقہ دیکھنے کے لیے کم از کم آدھا دن چاہئے۔ آج کل شیروان شاہ کے محل کا خاصہ بڑا حصہ سیاحوں کے لیے بند ہے کیونکہ اس کی مرمت ہو رہی ہے چنانچہ اس کے حسن اور عظمت کا میں صحیح اندازہ نہیں لگا سکی۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں تعمیر کیے گئے محل، دیوان خانے، مسجد، مدرسے اور دوسری عمارات کا خاصہ بڑاحصہ اس وقت خستہ حالت میں ہے لیکن اگراس کا مقابلہ ہندوستان کی مغلیہ عمارات یا غرناطہ میں الحمرا سے کیا جائے تو یہ نہائت سادہ سا محل ہے۔ اس کی محرابوں والے برآمدوں، دالانوں اور چھوٹی چھوٹی راہداریوں کو دیکھ کر پرانے مسلمان دور کے روائتی انداز تعمیر کا سراغ ملتا ہے ۔ نقش و نگار اور مینا کاری زیادہ تر وقت کی آندھیوں کے ساتھ اڑ چکی ہے۔ گیز گلاسی یا دوشیزہ کا برج ساحل کی جانب قلعے کے برج کی طرح کی گول سی کوئی تیس میٹر بلند عمارت ہے جس کے اندرتنگ سی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے آپ اوپر تک جا سکتے ہیں اور دور تک شہر اور ساحل کا نظارہ کر سکتے ہیں ۔ اس کی تعمیر ساتویں یا آٹھویں صدی میں شروع ہوئی تھی اور گیارھویں اور بارھویں صدی میں اس کے اوپر کی منزلیں تعمیر ہوئیں۔ اسے دوشیزہ کا برج اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک کہانی کے مطابق ایک خانزادی نے جس کے باپ نے اس کی فرمائش پر یہ برج تعمیر کیا تھا اپنے ہی باپ کی ہوس سے بچنے کے لیے اس سے سمندر میں کود کر خودکشی کر لی تھی۔ دوشیزہ کے برج کے سامنے ہی پرانے حمام کے کھنڈرات ہیں اور بہت سی قالینوں اور دوسری دستکاری کی اشیا کی دوکانیں ہیں ایسی ہی جیسی پاکستان، مشرق وسطی کے ممالک اور بوسنیا کے بازاروں میں نظر آتی ہیں۔ وہیں سے دو تین گلیاں اوپر کارواں سرائے ہے جو پرانے زمانے میں سرائے ہوا کرتی تھی اور جس کے زیر زمین اصطبل میں اب شہر کا فیشن ایبل اور مہنگا ترین ریسٹورانٹ ہے۔ اس کی قدیم طرز کی پتھروں اور اینٹوں کی عمارت ،اس کے لزیزکباب اور روائتی موسیقی اس کی کامیابی کا راز ہیں۔ سب سے زیادہ دلچسپی اور لطف کا باعث مجھے اچارے شہر کی تنگ اور پتھروں کی بنی ہوئی گلیاں لگیں جن میں چلتے ہوئے پرانے گھروں کےقدیم دروازوں اور بالکنیوں کو دیکھتے ہوئے لاہور کے اندرون شہر کی پرانی عمارتیں یاد آئیں۔ ایسی ہی عمارتیں اپنے بچپن میں میں نے گجرات اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں دیکہی تھیں۔ ان گھروں میں اب بھی لوگ رہتے ہیں لیکن انہیں بڑی تیزی سے غیر ملکی ادارے اور بڑی کمپنیاں خرید رہے ہیں اور انکی مرمت کے بعد دفتروں اور نہائت خوبصورت اپارٹمنٹوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اسی علاقے میں کئی ملکوں کے سفارتخانے بھی ہیں۔
شہر کے مشہور چوک بڑی سڑکیں اور چوارہے مختلف ادوار کی یاد دلاتے ہیں کچھ سووئت زمانے اور کچھ اس سے پہلے وقتوں کی یادگار ہیں۔ آچارے شہر کے بڑے تاریخی دروازوں کے سامنے ہی نظامی عجائب گھر کی پیلے رنگ کی شاندار عمارت ہے اور اس کے پیچھے شہر کا مشہور فوارہ چوک ہے اور یہ شہر کا بارونق ترین حصہ ہے۔ یہا ں گھاس کے کھلے میدان کےگرد دائرے کے صورت میں دوکانیں اورریسٹورانٹ ہیں جس کے ساتھ ہی نظامی سٹریٹ کا سب سے بڑا شاپنگ سینٹر ہے۔ سمجھ لیجئےآذر بائیجان کی مال روڈ یہی ہے۔ جس پہ شام ہوتے ہی نوجوان لڑکے لڑکیوں کے علاوہ بال بچوں سمیت لوگ خریداری کےلیے کم اور ٹہلنےکے لیے زیادہ آتے ہیں۔لیکن کیا شریف اور مہذب لوگ ہیں کہ کہیں کوئی دھول دھپہ تو کیا غل غپاڑہ بھی سنا ئی نہیں دیتا۔ گلیوں میں برطانیہ کی طرح میں نے لوگوں کو بئیر کے ٹین یا دوسرا کچرا بھی پھینکتے نہیں دیکھا البتہ جو بات ان سڑکوں اور گلیوں پرتکلیف دہ لگی وہ کہیں کہیں نہائت خاموشی سے بھیک مانگتی بوڑہی خواتین تھیں جن کے چہروں کی بےبسی یوں لگتا ہے کہ اس با رونق بازار میں کسی کو نظر نہیں آتی۔ ایک جگہ جسے دیکھنے کی یاد دہانی ہر آذری کراتا ہے وہ مینار شہدا ہے۔ یہ ساحل سے ذرا دور پہاڑی کے اوپران شہدا کا قبرستان ہے جو آرمینیا کی جنگ میں کام آئے۔ ان میں سو سے اوپر وہ شہید بھی شامل ہیں جو 1990 سوویت فوجی کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہاں قبروں کی قطاروں کے بیچوں بیچ ایک سڑک مینار پہ جا کر ختم ہوتی ہے۔ ہر قبر کے کتبے پر مدفون کی تصویر لگی ہے یہ رواج میں نے خطہ بلکان کے ملکوں میں بھی دیکھا تھا۔ قبروں پر پھول تو ضرور رکھے تھے لیکن کہیں کوئی تلاوت کرنے والا نظر نہیں آیا۔ مینار ایک نہایت باوقار اور سادہ سی عمارت ہے جس کے بیچوں بیچ شعلہ جل رہا ہے۔ لیکن ایک جگہ جو کسی کی یاد دہانی کے بغیر بھی دیکھنے کے قابل ہے وہ شہر سے تیس پینتیس کیلو میٹر کے فا صلے پر زرتشت دور کی آتش گاہ ہے۔ پتھروں اور کچی مٹی کی دیوار کے بڑے سے احاطے کے بیچ میں ایک نہایت سادہ سی اینٹوں کی چار دیواری ہے جس میں چھوٹی سی پائپ کے سرے پرگیس کی ٹوٹی لگی ہے تاکہ دائمی شعلہ جلتا رہے لیکن آتش گاہ کے نگران رشید دادہ ژے نے بتایا کہ آتش گاہ کو جو وظیفہ ملتا ہے اس میں گیس کا بل ادا نہیں ہو سکتا اس لیے انہوں نے آگ بجھا دی ہے۔ میرے جی میں آیا کہ اس بارے میں کسی سے احتجاج کروں کہ وہ ملک جو دنیا کو تیل اور گیس بیچنے کے لیے ہزاروں میل لمبی پائپ لائن بچھا رہا ہے اس کے پاس ایک عبا دت گاہ کے لیے گیس ختم ہو گئی اور جس شعلے نے ملک کو نام دیا اس کو بجھانےپہ کسی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔ مجھے اس سےدہلی میں ہمایوں کے مقبرے کی ٹوٹی پھوٹی مسجد کا کھنڈر یاد آیا جس میں کوئی اذان نہیں دیتا۔ دیوار کے ساتھ پتھروں اور مٹی کے چھوٹے چھوٹےحجرے بنے ہوئے ہیں جن میں پجاری اور زائرین رہا کر تے تھے۔ حجرے میں بیٹھےچند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کرکے میں نے دیوار کے ساتھ سر ٹکایا تو وہاں کی خاموشی میں عبادت گزاروں کی گھنٹیوں کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||