BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 October, 2003, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو لاکھ برس قدیم ’چہرے‘ دریافت
مجسمہ
مجسمہ دو لاکھ برس قدیم بتایا جارہا ہے

ایک ماہرِ آثارِ قدیمہ نے دعوٰی کیا ہے کہ اس نے پتھر پر تراشیدہ انسانی چہرے دریافت کئے ہیں جو دو لاکھ برس قدیم ہیں۔

یہ انسانی مجسمے پیاترو گائیتو نامی شخص نے سن دو ہزار ایک میں اٹلی کے ایک علاقے بورزوناسکا کی مہم کے دوران دریافت کئے۔

ان کا کہنا ہے کہ پتھر کے اس ٹکڑے پر دو انسانی چہرے تراشنے کی کوشش کی گئی ہے جو مختلف سمتوں میں دیکھ رہے ہیں اور ان کی گردن مشترک ہے۔ ان میں سے ایک کی داڑھی بھی دکھائی گئی ہے اور گائیتو کے مطابق یہ چہرہ تاثرات سے پر ہے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت علاقے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایک پوری چٹان قدیم زمانے میں تراشی گئی تھی جسے وہ ’بورزون‘ کا چہرہ کہتے ہیں۔

گائیتو نے یہ چہرے اس وقت دریافت کئے جب ایک عمارت کی تعمیر کے لئے ملبہ جمع کیا جا رہا تھا۔ یہ چٹان کا ٹکڑا اسی ملبے میں شامل تھا۔ ان کا خیال ہے کے دو لاکھ برس قدیم مجسمے کسی مذہبی رسومات میں استعمال کئے جاتے تھے۔

گائیتو کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ یہ مجسمہ ارتقائے انسانی کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے جب نسان نے سیدھے کھڑے ہونا سیکھ لیا تھا اور ’ہومو اریکٹس‘ کہلانے والی یہ نسل اس علاقے میں آباد تھی۔

تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دعوٰی متنازعہ ہے کیونکہ ہومو اریکٹس نسل کے انسان اتنی صلاحیت نہیں رکھتے تھے کہ وہ فنونِ لطیفہ کے فن پارے تشکیل دیتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد