کیا چاند پر پھول اگانا ممکن ہوگا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ امریکی خلا بازوں نے پہلی مرتبہ چاند پر قدم رکھا، چاند گاڑی چلائی اور وہاں گولف بھی کھیلا لیکن یورپی ماہرین چاند پر پھول اگانے کا ارادہ کرکے اس دوڑ میں امریکہ کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں ہیں۔ تو کیا ایسا ممکن ہوسکے گا؟ کیا چاند پر بھی بہار آسکے گی؟ ’انسان کے لیئے ایک چھوٹا بیج، مگر انسانیت کے لیئے مضبوط شاخ۔۔۔‘ درحقیقت یورپی خلائی ادارے ’اِسا‘ یعنی یورپین سپیس ایجنسی کے برنارڈ فوئنگ کا خیال ہے کہ چاند پر اگایا جانے والا پھول ممکنہ طور پر ’ٹیولپ‘ ہوگا جوکہ خاص یورپ کی پہچان ہے۔ برنارڈ کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹیولپ کو اُگنے کے لیئے زمین سے غذائیت کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کی نشونما کے لیئے ضروری اجزاء اس کے بیج یا ’بلب‘ کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں اور یہ بہت مضبوط ہوتا ہے اس لیئے ایسا کرنا شاید ممکن ہو سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا تجربہ کرنے میں کوئی مذائقہ نہیں۔ برنارڈ نے مزید کہا کہ پودے میں تکنیکی طور پر ایسی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں جو اسے ان حالات میں زیادہ سے زیادہ وقت کے لیئے زندہ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں یعنی چاند پر اگایا جانے والا ٹیولپ یا ’مون ٹیولپ‘۔ یہ تجربہ کامیاب ہو یا نہ ہو، فی الوقت تو ایمسٹرڈیم کے ٹیولپس کا چاند پر اگانا ایک خیال ہی ہے۔ ’اِسا‘ کے منصوبوں میں چاند پر شمسی توانائی سے چلنے والا روبوٹ بھیجنا بھی سرفہرست ہے۔ ڈاکٹر برنارڈ کا کہنا ہے کہ دس برس پہلے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ادارے کے پاس فنڈز کی کمی تھی اور چاند کی آب و ہوا کے بارے میں بھی زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ ’لیکن آج ایسا کرنا ممکن ہے کیونکہ ہم چاند کے بارے میں بہت کچھ جان گئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ چاند کے قطبین پر چند ایسے مقامات ہیں جہاں ہمیشہ سورج کی روشنی رہتی ہے۔ ’ہم اپنا روبوٹ ایسے مقام پر اتار سکتے ہیں‘۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو چاند کے بارے میں ایسی معلومات حاصل ہوسکیں گی جو اب سے پہلے سامنے نہیں آئی تھیں۔ |
اسی بارے میں چاند پر جانے کی بھارتی تیاریاں08 January, 2004 | نیٹ سائنس چاند کی سیر ،دس کروڑ ڈالر12 August, 2005 | قلم اور کالم چاند کا سفر، پینتیسویں سالگرہ21 July, 2004 | نیٹ سائنس کیا آپ چاند گرہن دیکھ پائے؟04 May, 2004 | نیٹ سائنس چاند کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے: اکرم درانی28 November, 2003 | پاکستان آئیے چاند کو ای میل بھیجیں05 February, 2004 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||