| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چاند کی جانب ایک اور سفر
یورپی ملکوں نے چاند کی جانب اپنا پہلا خلائی جہاز روانہ کیا ہے۔ ’سمارٹ ون‘ نام کا یہ خلائی جہاز فرانسیسی گیانا میں کورو کے خلائی مرکز سے روانہ کیا گیا ہے اور اس کا مقصد یہ تحقیق کرنا ہے کہ زمین کا یہ پڑوسی کس طرح وجود میں آیا تھا۔ نامہ نگار رچرڈ بلیک نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ امریکہ اور روس کے روانہ کردہ کئیی خلائی جہاز اس سے پہلے چاند کی سطح سے مٹی اور پتھروں کے ٹکڑے لا چکے ہیں لیکن یہ سب چاند کے اس حصے کے تھے جو زمین سے نظر آتا ہے۔ سائنس داں جانتے ہیں کہ جو کچھ آچکا ہے وہ پورے چاند کی ساخت کی کہانی نہیں بتا سکتا۔ سمارٹ اول چاند کے گرد چکر لگا کر ایکسرے کی تصویریں اتارے گا۔ اس شعبے کے انچارج ڈاکٹر مینوئل گرینڈ ڈے نے بتایا کہ چاند سے نکلنے والی شعاعوں سے ایکسرے کے جو رنگ پیدا ہوں گے ان سے یہ معلوم ہوجاۓ گا کے چاند کی ساخت میں کون کون سے اجزا شامل ہیں۔ مثال کے طور پر شعاعوں سے اگر وہ رنگ پیدا ہوگا جو سلیکون سے پیدا ہوتا ہے تو ہمیں معلوم ہو جاۓ گا چاند کے خمیر میں سلیکون بھی شامل ہے۔ اس طرح ہم ایک ایک کرکے اس کے سارے اجزا کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں گے۔جب یہ علم حاصل ہوجاۓ گا تو یہ اندازہ بھی لگایا جاسکے گا کہ چاند کیسے بنا تھا۔ اس تحقیق کے علاوہ سمارٹ اول میں کئی نازک آلات کی آزمائش بھی کی جاۓ گی۔ اور ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے کہ ان آلات کی مدد سے خلائی جہاز صرف ستاروں کی سمت دیکھ کر اپنا راستہ خود بنا سکیں گے۔ یہ بھی آزمائش کی جارہی ہے کہ آیا زمین سے رابطہ لیزر کے ذریعہ قائم رکھا جا سکتا ہے۔ یوروپی خلائی ایجنسی کا خیال ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی آئندہ کے زیادہ جرآت مندانہ اقدامات کے لۓ بہت مفید ثابت ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||