چاند کی سیر ،دس کروڑ ڈالر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ دس کروڑ ڈالر کا ٹکٹ خیرد سکتے ہوں تو اب آپ بھی چاند کی سیر پر جا سکیں گے۔ جس نجی کمپنی نے سنہ دو ہزار ایک میں خلا میں پہلے سیاح کو بھیجنے کے انتظامات کیے تھے وہ اب مزید دو سیاحوں کو بھیجنا چاہتی ہے۔ ’سپیس ایڈوینچرز‘ نامی اس کمپنی نے کہا ہے کہ وہ سن دو ہزار آٹھ میں دو سیاحوں کو چاند کے سفر پر بھیجے گی۔ یہ سفر دس سے بارہ دن کا ہوگا اور اس کا خرچ صرف دس کروڑ ڈالر ہوں گے۔ کپمنی اس منصوبہ پر روسی خلائی ادارے کے ساتھ کام کرے گی اور ان سیاحوں کو روسی پائلٹ کے ساتھ روسی خلائی جہاز سویوز پر سفر کرائے گی۔ خلائی جہاز راستے میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر کچھ دیر رکے گا۔ خلائی جہاز چاند پر اترے گا نہیں لیکن مسافر جہاز سے ہی چاند کی سطح دیکھ سکیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کئی افراد نے اس منصوبے میں ابھی سے اپنی دلچسپی ظاہر کر دی ہے۔ کمپنی کے چیف اگزیکلٹیو ایرِک اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو اس قسم کے سفر پر اتنی رقم خرچ کرنا چاہتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کم سے کم ہزار افراد ہیں جو اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ چار سال پہلے اس قسم کے سفر پر جانے والے پہلے نجی شہری ڈینس ٹیٹو تھے۔ لیکن انہوں نے امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کو بتایا کہ وہ دوبارہ اس سفر پر اس لیے نہیں جائیں گے کہ اب ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور وہ پینسٹھ سال کے ہو گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||