چاند پر اڈہ: ماہرین میں اختلاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت کو پیش کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق سائنسدانوں میں اس بات پر اختلاف پیدا ہوگیا ہے کہ آیا چاند کو مریخ کے سفر میں اڈے کے طور پر استعمال کیا جائے یا نہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چاند کے قطبین پر موجود برف کو مریخ پر جانے والے راکٹوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ دوسرے ماہرین اس امکان کو کلّی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاند پر خلائی دوربین نصب کرنے کے امکانات پر بھی اختلافی آراء موجود ہیں۔ یونیورسیٹی آف ٹیکساس میں قائم میکڈونلڈ رصدگاہ کے ماہر ڈینیئل لیسٹر خلا میں دوربین کی موجودگی کے حق میں ہیں۔ ادھر اریزونا یونیورسیٹی کے پروفیسر جان لوئیس امریکی حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ چاند کی برف کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کا خیال دل سے نکال دے۔ ان کا کہنا ہے: ’میرے نزدیک یہ تجویز تکنیکی وجوہ کی بنا پر قابل عمل نہیں ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ برف فولاد کی طرح سخت ہے اور دوسرے یہ گھپ اندھیرے میں پائی جاتی ہے۔ اور وہاں پر درجۂ حرارت بھی اسقدر سرد ہے کہ کان کنی کے آلات شیشے کی طرح بھُربھرے ہو جائیں گے۔‘ اس سال جنوری میں صدر بش نے چاند اور پھر مریخ پر خلانورد بھیجنے کے منصوبے پر عملدرآمد کے عزم کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||