| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیلیلیوکی تباہی کافیصلہ
امریکی سائنس دانوں نے جیوپیٹر یعنی مشتری نامی سیارے کے بارے میں تحقیق کرنے والے گیلیلیو خلائی مشن کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گیلیلیو خلائی جہاز چودہ برسوں سے اس سیارے کے اطراف میں کائنات کا کامیابی سے مطالعہ کرتا رہا ہے۔ خلاء کا مطالعہ کرنے والے امریکی ادارے ناسا کے سائنس دان اکیس ستمبر کو گیلیلیو خلائی مشن کو مشتری کی طوفانی بادلوں میں ڈبو دیں گے جہاں وہ آتشی دباؤ کی نذر ہوجائے گا۔ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا کیونکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ گیلیلیو مشن سے بھٹکنے والے کچھ جرثومے یوروپا نامی سیارچے کو آلود کرسکتے ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یوروپا پر زندگی کا امکان ہے۔ یوروپا مشتری کے گرد چکر لگانے والا سیارچہ ہے ویسے ہی جیسے چاند کرۂ ارض کیلئے ہے۔ سائنس دانوں کو شک ہے کہ اگر یوروپا پر پانی موجود ہوا تو گیلیلیو پر استعمال کیے جانے والے تابکار پلوٹینیم سے اس کے آلود ہونے کا خطرہ ہے۔
عام طور پر ناسا کے سائنس دان اس طرح کے خلائی مشن کو جرثوموں سے پاک کردیتے ہیں تاکہ نظام شمشی میں آلودگی کے خطرے سے بچا جاسکے۔ لیکن ناسا کے سائنس دانوں نے گیلیلیو کے ساتھ ایسا نہیں کیا تھا۔ لیکن یوروپا پر زندگی کا امکان اور اس سے گیلیلیو کے ٹکرانے کے خدشات کی وجہ سے گیلیلیو کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انیس سو پچانوے میں جب گیلیلیو مشتری پر پہنچا تو اس نے اس سیارے کی فضا میں ایک مشن بھیجا جو موسم کی رپورٹ حاصل کرتا تھا۔ لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ مشن اس سیارے کے بادلوں کے اس علاقے میں پہنچ گیا جہاں طوفانی آتش ہے۔ گیلیلیو سے ہی اس بات کا پتہ چلا کہ مشتری کی فضا میں آتش فشاں موجود ہیں اور آتش فشاں کے ایک سو کلومیٹر اوپر برف اور دیگر گیسوں پر مبنی ایک موٹی سطح ہے۔ گیلیلیو نے ہی مشتری کے اطراف میں چلنے والے سیارچوں کا دریافت بھی کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |