ہندوستان نیوکلائی منصوبہ میں شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نیوکلائی فیوثن ریاکٹر بنا نے والے محدود ممالک پر مبنی ایک گروپ کا حصہ بن گیا ہے۔ اس عالمی کوشش میں ہندوستان کے علاوہ چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپی یونین اور امریکہ شامل ہیں۔ ہندوستان کو عالمی تھرمونیوکلائی تجربہ کاری ریاکٹر ٹیم یعنی اٹر (ITER) میں شامل کرنے کا فیصلہ کوریا کے مقام جیجو میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں ادارے کے نئے ڈائریکٹر جنرل کانامی ایکدا بھی چنے گئے۔ اس دس ارب یورو کے منصوبہ کا مقصد نیوکلائی فیوثن کے ذریعے بجلی پیدا کرنا ہے جیسے کہ سورج میں ہوتا ہے۔ ریاکٹر فرانس کے شہر کاداراش میں تعمیر کیا جائے گا اور مکمل ہونے میں اس کو دس سال لگ جائیں گے۔ اس موقع پر اٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہندوستان کے اس منصوبے میں شامل ہونے سے دنیا کی آدھی سے زائد آبادی اس کوشش کا حصہ بن گئی ہے۔ اٹر کا منصوبہ عالمی اسپیس اسٹیشن کے بعد تاریخ میں دوسرا بڑا سائنس کا منصوبہ ہوگا۔ قومی اور علاقائی سطحوں پر کئی دہائیوں کے تجربوں کے بعد، اٹر حتمی طور پر ثابت کردے گا کہ نیوکلائی فیوثن کو عملی طور پر حاصل کرنا ممکن ہے یا نہیں۔ فیوثن کے ذریعے ایٹم کے مرکزہ کو جوڑا جاتا ہے جبکہ فشن میں ان کو علیہدہ کیا جا تا ہے۔ سورج میں فیوثن کا عمل ایک کروڑ ڈگری جبکہ زمین پر فیوثن دس ارب ڈگری کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ فیوثن سے ماھول کو بہت کم نقصان ہوتا ہے کیونکہ کاربن ڈائی آ کسائیڈ پیدا نہیں ہوتا۔ فیوثن سے دنیا کے آئندہ صدی میں پیدا ہونے والے جوہری مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم بڑے تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے فیوثن شاید کامیاب نہ ہوسکے۔ منصوبے میں ہندوستان کی شمولیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کو امید ہے کہ فیوثن کامیاب ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی22 January, 2004 | صفحۂ اول ایٹمی سائنسدان: حراست پر مظاہرے23 January, 2004 | صفحۂ اول جوہری پھیلاؤ:مغرب کادامن داغدار22 February, 2004 | صفحۂ اول جوہری معاملہ پر ٹائپنگ کی غلطی04 March, 2004 | صفحۂ اول ’ایٹمی باقیات لیبیا سے امریکہ روانہ‘07 March, 2004 | صفحۂ اول وزارت خارجہ کا تبصرے سے انکار13 April, 2004 | صفحۂ اول جاپان:جوہری فرم کے خلاف تحقیقات 10 August, 2004 | صفحۂ اول ’ایران کا جوہری پروگرام منجمد`29 November, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||