جوہری معاملہ پر ٹائپنگ کی غلطی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نائجیریا نے پہلے جاری کئے گئے اپنے اس بیان کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے پاکستان سے جوہری صلاحیت خریدنے کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔ نائجیریا کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نواچوکو بیلو نے کہا ہے کہ جوہری صلاحیت کا حوالہ محض ٹائپنگ کی ایک غلطی تھی۔ اس سے پہلےوالا بیان پاکستان کے چیف آف سٹاف اور نائیجیریا کے وزیر دفاع کے درمیان ابوجا میں ملاقات کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ پاکستان کے جوہری سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اس اعتراف کے بعد کہ انہوں نے جوہری معلومات لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کو فراہم کی تھیں، پاکستان کڑی تنقید کی زد میں ہے۔ نائجیریا کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس ملاقات میں جوہری معاملات پر سرے سے کوئی مذاکرات ہوئے ہی نہیں۔ پاکستان نے بھی نائجیریا کو جوہری صلاحیت کی پیشکش کی تردید کی ہے۔ نائجیریا کی وزارت دفاع کا ابتدائی بیان بدھ کی رات جاری کیا گیا تھا۔ اس بیان میں پاکستان کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل محمد عزیز خان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان ابھی یہ طے کررہا ہے کہ نائجیریا کی افواج کو مضبوط بنانے کے لئے کس طرح پاکستان کی جوہری صلاحیت یہاں منتقل کی جائے۔ اب نائجیریا کا یہ کہنا ہے کہ جنرل خان وزیر دفاع رابیو موسیٰ سےصرف فوجی تعاون پر بات چیت کررہے تھے۔ جنوری میں بھی اسی طرح کا ابہام اس وقت پیدا ہوگیا تھا جب نائجیریا کے نائب صدر اتیکو ابو بکر نے کہا تھا کہ انہوں نے جنوبی کوریا میں اپنے ہم منصب سے میزائیل بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے پر بات چیت کی ہے۔ بعد میں نائجیریا کے ایک سرکاری ترجمان نے بیان دیا تھا کہ ایسی صلاحیت حاصل کرنے کا ان کی حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||