| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی سائنسدان: حراست پر مظاہرے
ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ کے خلاف وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں اور متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں نے ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں عام لوگوں نے شرکت نہیں کی۔ مسلم لیگ(ن) نے وکلا کے ساتھ احتجاج میں حصہ لیا لیکن پیپلز پارٹی ان سے دور ہی رہی۔ لاہور میں زیر حراست سائنسدان ڈاکٹر نذیر کی والدہ حسین بیگم، بہن خالدہ لطیف اور بھانجی عظمیٰ نے بھی مجلس عمل کے مظاہرے میں شرکت کی۔ ڈاکٹر نذیر کی بھانجی عظمیٰ نے کہا کہ ڈیڑھ ہفتہ کے بعد ڈاکٹر نذیر کا جمعہ کو ٹیلی فون آیا ہے جس پر انہوں نے اپنی خیریت بتائی اور گھر والوں کی خیریت پوچھی اور پھر فون کٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نذیر نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں سے بات کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نذیر کی والدہ نے کہا کہ ان کا بیٹا غدار نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا تو وہ ملک کو ایسی گراں قدر چیز کیوں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایٹمی پروگرام سائنسدانوں کی دن رات کی محنت کا ثمر ملا ہے کسی جرنیل نے تحفہ میں نہیں دیا۔ اسلام آباد میں لال مسجد اور لاہور میں مسجد شہدا پر مجلس عمل کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا جنہوں نے جنرل مشرف کے خلاف اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگارہے تھے۔ لاہور میں متحدہ مجلس عمل کے پنجاب کے صوبائی صدر حافظ ادریس نے کہا کہ ایٹمی سائنسدانوں کے حراست میں لئیے جانے سے ساری قوم سراپا احتجاج ہے اور اگر حکومت نے انہیں رہا نہیں کیا تو قوم صدر مشرف کو معاف نہیں کرے گی۔ مجسل عمل کے رہنماوں نے جنرل مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن بند کریں اور کشمیر پر ہندوستان کو یکطرفہ رعائتیں دینا بند کریں۔ اسلام آباد میں مجلس عمل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر ان ایٹمی سائنسدانوں کی تذلیل کا سلسلہ فوراً بند نہ ہوا تو مجلس عمل قوم کو اسلام آباد مارچ کی کال دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سائنسدانوں کے خلاف یکطرفہ اقدامات کیے ہیں اور پارلیمینٹ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ لاہور میں وکلاء نے ہائی کورٹ میں جزوی طور پر کام کیا۔ جمعہ کے روز ہائی کورٹ میں عموماً مقدمات کی سماعت معمول سے کم ہوتی ہے۔ وکلاء نے جائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ حامد خان اور دوسرے بار ایسوسی ایشنوں کے رہنماؤں کے ساتھ ہائی کورٹ سے مسجد شہدا تک مارچ بھی کیا۔ وکلاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ایٹمی سائنسدانوں کی تذلیل بند کی جائے، ملک کو امریکی کالونی نہ بنایا جائے اور ڈاکٹر عبدالقدیر پر پوری قوم کو رشک ہے۔ مظاہرین ”گو مشرف گو” اور ”ڈاکٹر عبدالقدیر” زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ وکلاء کے مظاہرے میں مسلم لیگ(ن) کے صوبائی رہنماوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سینئیر وکیل حامد خان نے کہا کہ ایٹمی سائنسدانوں کی تذلیل کرنے والوں کو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور ساری وکلا برادری ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور ان کے وقار کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||