BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 April, 2005, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھیل حقیقی زندگی پرحاوی
چین میں انٹرنیٹ کیفے
چین کے کمپیوٹرگیمز میں قدیمی جنگجواور آگ اگلنے والے ڈریگن چھائے ہوئے ہیں۔اور کبھی کبھی یہ کھیل حقیقی زندگی پرحاوی ہو جاتے ہیں۔

بین ا لاقوامی کمپنیاں چین کی کمپیوٹر گیم انڈسٹری پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ وہاں ان کے کاروبار کی ترقی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ .

لیکن حال ہی میں چین میں اخباروں کی سرخیوں میں آنے والےایک غیر معمولی قصے نے عجیب سے رجحان کی سمت اشارہ کیا جو باعث تشویش ہے۔

ایک چالیس سالہ شخص کوئی چینگ ووئی ایک مشہور آن لائین گیم لیجینڈ آف میر تھری کھیل رہا تھا۔یہ شخص اس کھیل میں پوائینٹس جمع کرنے کے لئے گھنٹوں کھیلتا رہا تاکہ وہ اس کھیل میں ڈریگن سابر نام کے ہتھیار کے استعمال کا حق حاصل کر سکے

لیکن اس نے ایک غلطی کر دی کہ کھیل کااپنا وہ قیمتی ہتھیار آن لائین پر ایک اور شخص کو کھیلنے کے لئے دے دیا جس نے فوراً حقیقت میں اسے 900 امریکی ڈالر میں کسی اور کو فروخت کر دیا۔

مسٹر کوئی چینگ ووئی کو اس قدر غصہ آیا کہ وہ اپنی شکایت لیکر پولیس کے پاس گئے لیکن پولیس نے انہیں بتایا کہ قانون میں اس طرح کی ورچوئل پراپرٹی کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

اس کے بعد مسٹر ووئی اس شخص کے گھر گئے جس نے آن لائین گیم کے ان ہتھیار کو فروخت کر دیا تھا انہوں نے غصے میں آکر اس کے سینے میں چاقو گھونپ دیا جس سے اس کی موت ہو گئی۔

مستر ووئی کو جان بوجھ کر کئے جانے والے قتل کا مجرم قرار دیا گیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ اس شخص کو مارنا نہیں چاہتے تھے۔

اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں لوگ ان گیمز کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

کچھ لوگوں کے لئے انٹر نیٹ کے گیمز کسی بھی چیز سے زیادہ اہم ہیں اور دودوستوں نے تو یہ طے کیا ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد کسی ایک خاص گیم میں اپنی بالا دستی قائم کرنا ہوگا۔

یہ دونوں باری باری سے کھیلتے تھے جب ایک سوتا ہے تو دوسرا کھیل جاری رکھتا آخرکار اپنی مشترکہ کوششوں کے بعد انہوں نے اتنے پوائینٹس حاصل کر لئے کہ وہ ملک میں اس گیم کے چیمپیئن بن گئے اس کے بعد انہوں نے کھیل بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

چین کے شہروں اور قصبوں میں رات میں کرنے کے لئے زیادہ کچھ نہیں ہوتا اسی لئے لوگ انٹرنیٹ کیفے میں جاتے ہیں جہاں نوجوانوں کو بڑی تعداد میں کھیلوں میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ انٹرنیٹ کیفے جرائم کے اڈے کہے جانے لگے ہیں اور ملک میں انٹر نیٹ سے متعلق اموات کی کہانیاں عام ہوگئی ہیں مثال کے طور پر دو لڑکے رات بھر انٹرنیٹ کیفے میں کھیلنے کے بعد ریلوے لائین پر سوگئے ۔

گزشتہ برس چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد سو ملین تھی جن میں بڑی تعداد آن لائین گیمز کھیلتی ہے۔

صرف چھ سال قبل آن لائین گیمز کمپنی شروع کرنےوالے ایک 30 سالہ شخص کو چین کا ودسرا دولت مند ترین انسان قرار دیا گیا ہے۔

بیجنگ اس مارکیٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور انٹرنیٹ گیمز کا ایک کالج شروع کیا جا رہا ہے جہاں ماہرین صحت مند اور مثبت رجحان کے گیمز تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد