اب سیاسی ویڈیو گیمز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی کارکن کچھ عرصہ سے انٹرنیٹ کو انتظامی آلے کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں مگر اب ایسی وڈیو گیمز بنائی جا رہی ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کریں یا ان میں سیاسی پیغام ہو اور جن سے کھیلنے والوں میں تھوڑا شعور آجائے۔ اٹلی کا تجارتی دارالحکومت میلان ایک تاریخی شہر ہے اور وہاں پیسے کی ریل پیل ہے۔ یہاں پر کوئی بھی انقلاب ناممکن سا لگتا ہے۔ مگر اگر آپ گلی میں سینٹرو سوشئال لا پرگولا میں داخل ہوں جہاں میلان کے نوجوانوں کا ایک انتہا پسند گروہ اکٹھا ہوتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق میڈیا سے ہے جن کے لیے نیٹ ایک اہم سیاسی تنظیم کا آلہ ہے۔ سیاسی ارکان کے گروپ ’چین ورکر‘ کے ایلکس فوٹی نے بی بی سی کے کلک آن لائن پروگرام کو بتایا کہ ’نیٹ مجمع کی دانائی کو ایک جگہ جمع کرنے کا ایک ذریعہ ہے‘۔ انٹرنیٹ کے ذریعے سینٹرو کے یہ گروپ بہت آسانی اور کم خرچے میں سیاسی مظاہروں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ لیکن جو سیاسی کارکن گلیوں میں نہیں آسکتے وہ ادارے کی ویب سائٹ ’مولی انڈسٹریا‘ کے ذریعے ان میں حصہ لے سکتے ہیں۔ وہ گھر بیٹھ کر اس کے ذریعے مے ڈے پریڈ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ مولی انڈسٹریا ویڈیو گیمز کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ ان گیمز کے ذریعے سرمایہ داری نظام اور جدید لیبر مارکیٹ کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔ ایک آن لائن کھیل ’ٹمپاٹیکو‘ میں کھلاڑیوں کو اپنے کارکنوں کو خوش رکھنا ہوتا ہے تاکہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ لیکن جب کارکن کے مسائل حل نہیں ہوتے تو وہ بیمار ہونے کا بہانہ کرتا ہے یا ہڑتال کر دیتا ہے۔ مگر آخر کار مالک کا پلہ بھاری ہوتا ہے، اگر وہ کارکن سے خوش نہیں تو وہ اسے اسی وقت نوکری سے فارغ کر سکتا ہے۔ گیمز بنانے والے پاؤلو پیٹدرچنی کا کہنا ہے کہ ’مختلف پیغام پہنچانے کے لیے یہ کافی نہیں کہ اچھے رنگ اور گرافکس استعمال ہوں بلکہ وڈیو گیمز کے اصولوں اور تکنیکی مہارت کے ذریعے ایک نظریہ پہنچانا مقصود ہوتا ہے‘۔ پیراگوئے کا ایک گروہ نیوز گیمنگ بھی اسی طرح کے کھیل بنا رہا ہے۔ انہوں نے ایک کھیل 12 ستمبر بنائی ہے۔ اس کھیل میں کھلاڑی گھٹیا قسم کے مزائیلوں سے دہشت گردوں کی تلاش کرتے ہیں جس کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ان کی گیم میڈرڈ ایک سادہ اور بجھی بجھی سی گیم ہے جس میں کھلاڑی کو روشنی کے لیے موم بتیاں جلانی ہوتی ہیں۔ آخر میں شعلے بجھ سے جاتے ہیں۔ ان وڈیو گیمز کے بنانے والے ان کے ذریعے سیاسی نظریات اور نظاموں پر طنز و مزاح کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمگیری پالیسوں کی وجہ سے زیادہ تر کھیلوں میں ان کا نشانہ امریکہ ہی ہوتا ہے۔ عام طور پر ویڈیو گیمز دنیاوی مسائل سے دور بھاگنے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں لیکن ان کھیلوں کے بنانے والے لوگوں نے انہیں سیاسی اظہار رائے کا ذریعہ بھی بنا دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||