BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2003, 13:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ورچوئل مجرم حاضر ہو
آن لائن گیمز
کیا انٹرنیٹ پر طاقتور کے پاس کمزور کو مارنے کا اختیار ہونا چاہئے؟

آن لائن کھیلوں کی دنیا میں دیو، جنگجو، ہیرو اور چڑیلیں کوئی نئی چیز نہیں ہیں لیکن اب اس گینگ میں اصلی مجرموں نے بھی شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

اگرچہ یہ بات ناقابلِ یقین دکھائی دیتی ہے کہ آخر کمپیوٹر پر کھیلے جانے والے کھیلوں میں کیسے جرم کا ارتکاب کیا جا سکتا ہے لیکن جنوبی کوریا کی پولیس نے ان مجرموں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔

ہزاروں آن لائن کھلاڑیوں کے ورچوئل گھروں پر ڈاکوؤں نے حملے کئے ہیں، انہیں اٹھا کر ان کے اپنے ورچوئل گھروں سے باہر پھینک دیا ہے اور ان کی تمام ورچوئل ملکیت اور اشیاء چوری کر لی ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ یہ ورچوئل جرائم اتنے ہی تکلیف دہ ہیں جتنے کہ حقیقی دنیا میں کئے جانے والے جرائم۔

جنوبی کوریا میں، جہاں کے باشندے آن لائن کھیلوں کے لئے اتنے ہی جنونی ہیں جتنے پاکستان اور بھارت کے لوگ کرکٹ کے بارے میں، پولیس کے مطابق صرف سال دو ہزار تین کے پہلے چھ ماہ میں رپورٹ ہونے والے چالیس ہزار سائبر جرائم میں سے نصف کا تعلق آن لائن گیمز کے ساتھ ہے۔

آن لائن گیمز
’بس بھئی بس، زیادہ بات نہیں، تمہاری طاقت میرے پاس آچکی‘

یہ مسئلہ اس لئے بھی خاص طور پر تشویشناک ہو گیا ہے کہ آن لائن گیمز سے متعلق اشیاء کی تجارت بہت سے لوگوں کے لئے روزی کا ذریعہ بن چکی ہے۔

ان کھیلوں کو آن لائن کھیلنے کیلئے کھلاڑی اکاؤنٹ کھولتے ہیں۔ بعض اوقات ایک زیادہ طاقتور کردار حاصل کرنے کےلئے ہزاروں پاؤنڈز کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک ورچوئل کردار جو صرف کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر صرف ڈیٹا ہے، حقیقی قیمت رکھتا ہے۔ اگر کوئی اور اس پر قابض ہو جائے یا اس سے زیادہ طاقت ور کردار حاصل کرکے آپ کو اپنے ہی ورچوئل گھر سے نکال باہر کرے تو ایسی صورت میں ورچوئل جرم اور حقیقی جرم کی سرحدیں مبہم ہو جاتی ہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف واروک میں قانون کے پروفیسر ڈاکٹر روجر لینگ کا کہنا ہے کہ ’غیر حقیقی اشیاء کی چوری بالکل ممکن ہے اور قانون کو اسے جرم قرار دینے میں کوئی تامل نہیں۔‘

سٹینفورڈ لاء سکول میں ٹیکنالوجی کے قوانین کی ماہر جینیفر گارنک کا کہنا ہے ’مجھے نہیں پتہ کہ فوری طور پر ابھی حکومتیں ورچوئل اشیاء کی چوری کے مقدمات قائم کر سکتی ہیں یا نہیں تاہم مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ اس دلیل میں وزن ہے کہ ورچوئل اشیاء قیمتی ہو سکتی ہیں۔‘

آن لائن
کیاگواہان، وکلاء، عدالت اور جج سبھی ورچوئل ہوں گے؟

پھر یہ بھی مسئلہ ہے کہ اس طرح کے جرم کو ثابت کرنا بہت مسئلہ ہے کیونکہ کمپیوٹر کے ڈیٹا کے ریکارڈ میں آسانی سے ردّوبدل کی جا سکتی ہے۔ کھیلیں بنانے والی ایک فرم کے کمیونٹی مینیجر کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت کہ آن لائن جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمیں ایک مختلف طرز کے انصاف اور عدلیہ کے نظام کی بھی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد