’گوشت خوری سے چہرے کی ساخت تبدیل ہوئی‘

سائنس دانوں کے مطابق ان تبدیلیوں کی ممکنہ وجہ پکانے کی صلاحیت تقریباً پانچ لاکھ سال قبل تک رائج نہیں ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہSCIENCE PHOTO LIBRARY

،تصویر کا کیپشنسائنس دانوں کے مطابق ان تبدیلیوں کی ممکنہ وجہ پکانے کی صلاحیت تقریباً پانچ لاکھ سال قبل تک رائج نہیں ہوئی تھی

انسانوں میں اپنے آبا و اجداد کے مقابلے میں چھوٹے دانت اور چہرے کی ساخت کی ممکنہ وجوہات کچا گوشت کھانا اور پتھروں سے اوزار بنانا ہوسکتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ابتدائی دور کے انسانوں میں کھانا پکانے کا رواج نہ ہونا، گوشت اور اوزاروں کا استعمال چبانے کے لیے چھوٹے دانتوں کے ارتقا کی وجہ بنا تھا۔

چھوٹے دانتوں کی موجودگی ممکنہ طور پر چند مزید تبدیلیوں کی وجہ بھی بنی جن میں بہتر لسانی صلاحیت اور دماغ کی جسامت میں تبدیلی شامل ہیں۔

امریکی یونی ورسٹی ہارورڈ کے پروفیسر ڈینیل لیبرمین اور ڈاکٹر کیتھرین زنک کی تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔

مصنفین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کھانا پکانے کا عمل بہت عرصے بعد شروع ہوا تھا۔ ہماری نسل کے ابتدائی اراکین ’ہومو‘ دریافت شدہ فوسلز کے ریکارڈ میں بہت کم نظر آتی ہے۔

تقریباً 20 لاکھ سال قبل جب تک ہومو ایریکٹس نامی نوع وجود میں آئی، انسان بڑے دماغ اور جسم کے ارتقائی مراحل طے کرچکے تھے جو روزمرہ کی ضروریات کے لیے درکار توانائی کی ضرورت پوری کر سکتے تھے۔

تاہم پیچیدہ مراحل سے گزر کے وہ بھی چھوٹے دانت اور ان کے ساتھ چبانے کے لیے قدرے کمزور پٹھوں کے ارتقائی سلسلے سے گزر چکے تھے۔ انسانوں کے قدیم آبا و اجداد کے مقابلے میں ان کی آنتیں بھی چھوٹی تھیں۔

سائنس دانوں کے مطابق ان تبدیلیوں کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ پکانے کی صلاحیت تقریباً پانچ لاکھ سال قبل تک رائج نہیں ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غالباً انھوں نے چبانے والے قدرے چھوٹے پٹھوں اور چھوٹے دانتوں کے ارتقا میں اہم کردار ادا نہیں کیا۔

پروفیسر لیبرمین کہتے ہیں ’اگر آپ چیمپینزیوں کے ساتھ وقت گزاریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے دن کا نصف حصہ چبانے میں گزار دیتے ہیں۔

سائنس دانوں نے چبانے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے تجربے کا حصہ بننے والے بالغوں کو گوشت اور سبزیوں کی وہ اقسام کھلائیں جو ہمارے ابتدائی آبا و اجداد ممکنہ طور پر اپنی غذا میں گوشت شامل کرنے سے قبل کھاتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

انھوں نے چبانے کے دوران استعمال ہونے والے پٹھوں کی جانچ کی اور اس بات کا جائزہ لیا کہ نگلنے سے قبل کھانا کتنی اچھی طرح چبایا گیا تھا۔

تحقیق سے اخذ ہونے والے نتائج کے مطابق خوراک میں ایک تہائی گوشت کی شمولیت اور پتھروں سے بنے اوزاروں کے استعمال، گوشت کے ٹکڑے کرنے، اور سبزیوں کو پیسنے کے بعد ابتدائی انسانوں کے چبانے میں 17 فیصد کمی آئی تھی۔ جبکہ چبانےمیں استعمال ہونے والی طاقت میں 26 فیصد کمی آئی تھی۔

اپنی تحقیق میں لیبرمین اور زنک اس نکتے پر بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ ’ہمیں مزید معلوم ہوا کہ خوراک میں گوشت کی شمولیت کا زیادہ تر انحصار شاید گوشت کے ٹکڑے کرنے والے میکانی عمل اور ٹیکنالوجی پر تھا۔

’ابتدائی انسانی نوع ہومی نِن کو میسر سخت قسم کے پودوں پر مشتمل خوراک کے مقابلے میں گوشت کو چبانے کے لیے فی کیلوری چبانے والے عضو کو کم طاقت لگانی پڑتی تھی۔ تاہم تقریباً 33 لاکھ سال قبل پتھر کے اوزاروں کی ایجاد سے پہلے گوشت کے ٹکڑے کرنے میں ہومی نِن کی داڑھوں کا غیر موثر پن گوشت کے استعمال میں ایک بڑی رکاوٹ رہا ہو گا۔‘