’انسان سب سے بڑا شکاری ہے‘

بالغ جانوروں کے شکار کو ترجیح دینا کوئی پائیدار طریقہ کار نہیں ہے جسے بنیادی نظام حیاتیات سے ختم ہونا چاہیے
،تصویر کا کیپشنبالغ جانوروں کے شکار کو ترجیح دینا کوئی پائیدار طریقہ کار نہیں ہے جسے بنیادی نظام حیاتیات سے ختم ہونا چاہیے
    • مصنف, جانتھن ایموس
    • عہدہ, بی بی سی سائنس

سائنس میگزین میں چھپنے والی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انسان ایک منفرد قسم کا ’سپر شکاری‘ ہے۔

اس تحقیق میں عالمی اعداد و شمار کے تجزیے سے انسان کے شکار کرنے کے ظالمانہ طریقوں اور ان سے جانوروں کی نسل پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انسان عام طور پر سمندر سے جو مچھلیاں نکال رہا ہے وہ اس تعداد سے 14 گنا زیادہ ہیں جو سمندر میں رہنے والی مخلوق اپنی غذائی ضروریات کے لیے شکار کرتی ہے۔

اسی طرح زمین پر ہم جن اہم گوشت خور جانوروں جیسے ریچھ، بھیڑیا اور شیر کو مار رہے ہیں، وہ جانوروں کے دوسرے جانوروں کو شکار کرنے کی شرح سے نو گنا زیادہ ہے۔

تحقیق کار کرس ڈیریمونٹ اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انھیں سب سے زیادہ حیرانی یہ جان کر ہوئی کہ انسان اپنے شکار کے لیے زیادہ تر بالغ جانوروں پر انحصار کرتا ہے۔ یہ جانوروں کے قدرتی نظام کےخلاف ہے، جس کی وجہ سے جانوروں کی اقسام کی نابالغ نسلیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

اس تحقیق کے ایک حصے میں ان آلات کا بھی ذکر ہے جو انسان شکار کے لیے استعمال کرتا ہے۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف وکٹوریا کے پروفیسر ڈیریمونٹ کا کہنا ہے کہ ہم ایک بالغ جانور کا کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ شکار کر سکتے ہیں، لیکن یہ ایک عارضی فائدہ ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسان کو شکار کے لیے پہلے کی طرح خطرناک طریقے استعمال نہیں کرنے پڑتے۔‘

پروفیسر ڈیریمونٹ کہتے ہیں کہ بالغ جانوروں کے شکار کی وجہ سے جنگلی حیات کا توازن بگڑ رہا ہے اور عالمی غذائی زنجیر کی کڑیاں درہم برہم ہو رہی ہیں۔

تحقیق کے شریک مصنف پوفیسر ٹام ریمچین بالغ جانوروں کے شکار سے ہونے والے نقصانات کو مالی نظام سے مثال دیتے ہیں۔

ان کہ کہنا ہے کہ ’بالغ جانور نظام کا ’’پیداواری یا تولیدی سرمایہ‘‘ ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک بینک اکاؤنٹ یا پنشن فند میں سرمایہ رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اسی سرمائے کو کھا رہے ہیں جبکہ ہمیں اس سے حاصل ہونے والے نفع یعنی نابالغ جانوروں پر انحصار کرنا چاہیے جو کئی اقسام ہزاروں کی تعداد میں پیدا کرتی ہیں۔‘

ان میں سے خاصی تعداد بڑے جانوروں کا شکار بن جاتی ہے یا پھر ناکافی غذا، بیماری اور حادثات وغیرہ کا شکار ہو کر مر جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی ان میں سے بہت سی تعداد بچ جاتی ہے۔

ڈاکٹر ڈیریمونٹ کہتے ہیں کہ بالغ جانوروں کے شکار کو ترجیح دینا کوئی پائیدار طریقہ کار نہیں ہے جسے بنیادی نظامِ حیاتیات سے ختم ہونا چاہیے۔

’مچھلیوں کی بہت سی اقسام میں جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے وہ زیادہ بارآور ہو جاتی ہیں یعنی زیادہ انڈے دیتی ہیں اور نتیجتاً زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ظاہر ہے ان میں سے کچھ بچوں کو زندہ رہنا ہوتا ہے اور نئے بچے پیدا کرنے ہوتے ہیں۔‘

ڈاکٹر کرس کاربون زوالاجیکل سوسائٹی آف لندن میں شکار اور شکاری کے تعلق پر تحقیق کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGUILLAUME MAZILLE

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر کرس کاربون زوالاجیکل سوسائٹی آف لندن میں شکار اور شکاری کے تعلق پر تحقیق کرتے ہیں

’اس لیے جب ان مچھلیوں کو ان کی تولیدی عمر میں اتنی بڑی تعداد میں شکار کیا جاتا ہے تو ایک طرح سے ہم ان کی نسل کی افزائش کو ختم کر رہے ہوتے ہیں۔‘

قدرت کے نظام میں شکار کے کم ہونے سے شکار کرنے والے کی آبادی بھی کم یا محدود ہو جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسان کو اس تعلق کے زوال پر فتح دے دی ہے۔

جانوروں کے تحفظ کے نظام کا معیار زیادہ تر اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ چھوٹے جانوروں کا شکار نہ کیا جائے تاکہ نئی نسل کی افزائش ہو سکے۔ شکاری جال اسی خیال کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔

پروفیسر ریمچین کا کہنا ہے کہ دوسرا طریقہ اختیار کرنا گو کہ مشکل ہے مگر اس کے لیے تکنیکی حل دستیاب ہیں۔

’ایسے جال بنائے جاسکتے ہیں جو بڑی آسانی سے ایک مخصوص جسامت سے بڑی مچھلی کو اندر آنے سے روک سکتے ہیں۔ اور اگر ایک دفعہ ارادہ کر لیا جائے تو عقلمند لوگ اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ کس طرح ’’تولیدی سرمائے‘‘ کو بچا کر چھوٹی مچھلیوں یعنی ’’نفع‘‘ پر انحصار کیا جائے۔‘

شکار کی تعداد کو بھی اس تعداد سے قریب رکھا جائے جو سمندر میں قدرتی طور پر شکار ہونے والی مچھلیوں کی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کرس کاربون زوالاجیکل سوسائٹی آف لندن میں شکار اور شکاری کے تعلق پر تحقیق کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ یہ تحقیق دلچسپ ہے جس میں کچھ حقیقی اعداد و شمار کو سامنے لایا گیا ہے جو اس شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جتنی لمبی چوڑی یہ تحقیق ہے اس لحاظ سے اس میں اعداد و شمار کم ہیں خاص طور پرسمندری ماحولیا ت سے متعلق۔

ڈاکٹر کاربون کہتے ہیں کہ جہاں تک چھوٹے جانوروں کے شکار کا سوال ہے اس کا دار و مدار بھی اس بات پر ہے کہ ہم جانور کی کس قسم پر بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ جانوروں کی تمام اقسام کا نظام ایک طرح نہیں ہوتا۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس تحقیق سے انسان اور اس کے شکار کی تعداد کے توازن جیسے ایک بنیادی مسئلے کی نشاندہی ہوتی ہے۔