جانور جو ڈائنوسار کی معدومی کے حادثے سے بچ نکلا

’ایسا لگتا ہے کہ دودھ پلانے والے یہ جانور اپنی باری کا انتطار کر رہے تھے، اور جیسے ہی ڈائنوسار ختم ہوئے، یہ پھلنا پھولنا شروع ہو گئے‘
،تصویر کا کیپشن’ایسا لگتا ہے کہ دودھ پلانے والے یہ جانور اپنی باری کا انتطار کر رہے تھے، اور جیسے ہی ڈائنوسار ختم ہوئے، یہ پھلنا پھولنا شروع ہو گئے‘

لینئن سوسائٹی کے زولوجیکل جنرل میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سائنس دانوں نے جانوروں کی ایک قدیم قسم دریافت کی ہے جو ڈائنوساروں کے معدوم ہونے کے حادثے کے دوران بچ گئی تھی۔

چوہوں سے مشابہت رکھنے والی اس عظیم الجثہ مخلوق کے آثار اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ ڈائنوساروں کے ختم ہونے کے بعد دودھ پلانے جانوروں نے کس طرح ان کی جگہ لی۔

<link type="page"><caption> ڈائنوسار ’سکڑ‘ کر پرندے بن گئے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2014/08/140801_dinosaurs_shrank_to_birds_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’ڈائنوسار دمدار ستارے نے ختم کیے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2013/03/130322_dinosaurs_comet_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پرندوں کے جدِ امجد ڈائنوسار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2009/09/090925_dinosaurs_as.shtml" platform="highweb"/></link>

اس نئی دریافت کو کمبیٹوسالس سمونسا کا نام دیا گیا ہے، جس کی خوراک درخت اور پودے تھے، اور جس کی شکل اودبلاؤ سے ملتی جلتی تھی۔

تحقیق کاروں نے اس جانور کے دانتوں پر خاص طور پر غور کیا ہے جو درخت اور پودے کھانے والے جانوروں جیسے ہیں، جن کی پیچھے قطار کی شکل میں پیچیدہ قسم کے دانت ہیں، جبکہ کترنے کے لیے سامنے چار بڑے دانت بھی موجود ہیں۔

ڈاکٹر بروسیٹ نے مزید بتایا کہ ’انھوں نے جانور کی اس قسم کا نام نیو میکسیکو کے علاقے کمبیٹو واش پر رکھا ہے جہاں اسے دریافت کیا گیا تھا۔ جبکہ نام کے دوسرا حصہ سالس کا مطلب ہے ’تیز دانت،‘ کیونکہ اس جانور کے دانت بہت تیز تھے۔‘

اس نئی دریافت کو کمبیٹوسالس سمونسا کا نام دیا گیا ہے، جس کی خوراک درخت اور پودے تھے، اور جس کی شکل اودبلاؤ سے ملتی جلتی تھی

،تصویر کا ذریعہSteve Brusatte.University of Edinburgh

،تصویر کا کیپشناس نئی دریافت کو کمبیٹوسالس سمونسا کا نام دیا گیا ہے، جس کی خوراک درخت اور پودے تھے، اور جس کی شکل اودبلاؤ سے ملتی جلتی تھی

تباہی کے بعد

جانوروں کے اس معدوم گروہ کو مجموعی طور پر ملٹی ٹیوبر کولیٹس کہا جاتا ہے، جو جوراسک دور میں ڈائنو ساروں کے ساتھ ہی پیدا ہوئے تھے۔ اور دس کروڑ سال سے زیادہ زمین پر رہے یہاں تک کہ ان کی جگہ روڈینٹس (چوہے جیسے جانوروں) نے لے لی۔

’ارضیات کی تاریخ کے مطابق پھر زمین سے ایک سیارچہ ٹکرایا جس نے ڈائنو ساروں کی نسلوں کو ختم کر دیا اور پھر جانوروں کے اس گروہ کی افزائش شروع ہوگئی۔‘

’اس طرح زمین پر دودھ پلانے والے جانوروں کا ارتقا ہوا اور آج واقعی ہم جو کچھ ہیں اسی جانور کی نسل کا آخری نتیجہ ہیں۔‘

سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ اور اس طرح کے دوسرے جانوروں کی دریافت سے ہمیں جاننے میں مدد ملتی ہے کہ دنیا کی تباہی کے بعد دودھ پلانے والے جانوروں کی نسل کس طرح تغیر پذیر ہوئی۔

ڈاکٹر بروسٹ نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ دودھ پلانے والے یہ جانور اپنی باری کا انتطار کر رہے تھے، اور جیسے ہی ڈائنوسار ختم ہوئے، یہ پھلنا پھولنا شروع ہو گئے۔‘