ٹی ریکس کا قدیم ترین رشتہ دار دریافت

سائنسدانوں نے ٹی ریکس کے نام سے پہچانے جانے والے شکاری ٹائرینوسار کا رشتہ دار تصور کیے جانے والے قدیم ترین رکاز(فوسل) کی نشاندہی کی ہے۔
ٹی ریکس گروہ میں شامل کیے جانے والا یہ فوسل تیس سنٹی میٹر لمبا کھوپڑی کا ٹکڑا ہے جو انیس سو میں گلوسٹرشائر میں ایک کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔
اس فوسل کو سنہ 1910 میں ڈائنوسارز کی نئی قسم میگالوسارز کا نام دیا گیا تھا اور اسے سنہ 1942 میں نیچرل ہسٹری میوزیم کے حوالے کیا گیا تھا۔ ایک برطانوی اور جرمن ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے ثبوت تلاش کیے ہیں جس سے اس فوسل کا تعلق ڈائنوسارز کے مشہور ترین خاندان سے ثابت ہوتا ہے۔
پروکریٹوسارس نامی یہ ڈائنوسار ایک سو پینسٹھ ملین قبل سال وسطی جراسک دور میں زمین پر پایا جاتا تھا۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ گوشت خور ڈائنوسار قریباً تین میٹر لمبا تھا اور اس کا وزن پچاس سے ساٹھ کلو کے درمیان تھا۔
نیچرل ہسٹری میوزیم کی ڈاکٹر اینجلا ملنر کے مطابق ’یہ ایک انوکھا نمونہ ہے۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے لیے حیران کن تھا جب ہمارے تجزیے سے یہ پتہ چلا کہ ہمارے پاس ٹی ریکس کا قدیم ترین رشتہ دار موجود ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ پروکریٹوسارس اور ٹی ریکس کی کھوپڑیوں کی ساخت اور حجم میں واضح فرق کے باوجود ان میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ملنر کے مطابق ’اگر آپ پروکریٹوسارس کا تفصیلی جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے کھوپڑی میں جبڑوں کے پٹھوں کے پھیلاؤ کے لیے ویسے ہی سوراخ موجود ہیںْ۔ اس کے دانت بھی ویسے ہی ہیں خصوصاً سامنے والے جبڑے۔ اس کے دانت چھوٹے اور کیلے کی شکل کے ہیں جیسے کے ٹی ریکس کے ہوتے ہیں‘۔
ڈاکٹر ملنر کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک صدی قبل جمع کیے جانے والے رکاز کا اب دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے اور اس سے دنیا میں ڈائنوسارز کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔



