ڈائنوسار کی نئی دریافت

ایک تازہ تحقیق کے مطابق ڈائنوسار جیسی مخلوق گزشتہ اندازوں سے نوے لاکھ برس پہلے موجود تھی۔
یہ تازہ تحقیق پولینڈ میں پچیس کروڑ برس پرانی چٹانوں میں پائے جانے والے ان جانوروں کے نقوش پر کی گئی ہے۔
تحقیق کاروں نے رائل سوسائٹی جنرل نامی جریدے میں اس بارے میں لکھا ہے اور اس مخلوق کو ’پروروٹوڈیکٹائلس‘ کا نام دیا ہے۔
یہ نقوش چھوٹے ہیں جن کی لمبائی کچھ سینٹی میٹر تک ہے۔ اس معلومات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ڈائنوسار جیسی اس مخلوق کا سائز بلی جتنا اور وزن ایک سے دو کلو تھا۔
زمین پر تقریباً ساڑھے چھبیس کروڑ برس پہلے بڑے پیمانے پر آتش فشانی اور عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے سے نوے فیصد زندگی ختم ہو گئی تھی۔
اب تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ ان واقعات کے تقریباً ڈیڑھ سے دو کروڑ برس بعد ڈائنوسار ارتقائی مراحل طے کر کے وجود میں آ گئے تھے۔
لیکن ان تازہ نقوش کی دریافت سے اب یہ پتا چلا ہے کہ ڈائنوسار کے ابھرنے کا زمین پر آنے والی اس بڑی تباہی سے قریبی تعلق تھا۔



