پرندوں کے جدِ امجد ڈائنوسار

چین کے شمال مشرقی علاقے سے بڑے ڈائنوساروں کے بہت محفوظ فوسلز ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ابتداء میں ڈائنوساروں کے پر ہوتے تھے۔
چین سے ملنے والے فوسلز 150 ملین سال پرانے ہیں۔
یہ نئے فوسلز جرمنی میں ملنے والے پرندے ’آرکیوپیٹرکس‘ فوسلز سے بہرحال پرانے ہیں۔
بیجنگ میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے پروفیسر زو زنگ نے سانیئسی جریدے ’نیچر‘ کو بتایا کہ یہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ ڈائنوسار پرندوں کے جدِامجد تھے۔
اس نظریہ پر ہمیشہ تکرار رہی ہے کہ ڈائنوسار بعد میں پرندے بن گئے تھے یا نہیں۔ اس تکرار کی وجہ یہ تھی کہ ڈائنوساروں کے پر نہیں ملتے تھے۔ اس طرح اس نظریے کے حامیوں کو اس پر تنقید کا موقع ملتا رہا۔

لیکن نئے فوسلز جو کہ دو مختلف جگہوں پر سے ملے ہیں انیسویں صدی کے آخر میں جرمنی سے دریافت ہونے والے ’آرکیوپیٹرکس‘ سے تقریباً دس ملین برس پرانے ہیں۔
دریافت ہونے والے ایک ڈائنوسار کے فوسل کو ’اینچیئورنیس ہگسلے‘ کہا گیا ہے اور یہ بہت اچھی حالت میں ہے۔
پروفیسر زو کے مطابق اسے کے پھیلے ہوئے پر اس کے بازوؤں، دم اور پیروں کو ڈھانپے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس سال کے اوائل میں جو پہلا فوسل ہمیں ملا تھا وہ نامکمل تھا۔‘
لیکن اس کے بعد ان کو دوسرا فوسل ملا جو کہ بہت اچھی حالت میں محفوظ تھا۔ ’اس کے پورے ڈھانچے پر آپ پر دیکھ سکتے تھے۔‘
’اس دوسرے فوسل کی دریافت کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ یہ بہت اہم نسل ہے، اور پرندوں اور ان کی پرواز کے متعلق ہماری معلومات کے حوالے سے ہمارے لیے یقینی طور پر سب سے اہم نسلوں میں سے ایک۔‘







