ناگاساکی کبھی ٹائریناسورز کا مسکن تھا

،تصویر کا ذریعہpress association
جاپان کے جنوب مشرق میں ملنے والے ڈائناسور کے دانت اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ یہ جگہ کسی زمانے میں بڑے بڑے ٹائریناسورز کا مسکن تھی۔
ناگاساکی پریفیکچر میں گزشتہ برس فوصل بنے ہوئے یہ دانت جن پتھروں کی تہہ سے دریافت ہوئے ہیں ان کی عمر کا تخمینہ 81 ملین سال لگایا گیا ہے۔
جاپان میں ’اساہی شمبون‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ارضی دور کا مطالعہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فوصل بنے ہوئے جو دانت دریافت ہوئے ہیں، امکان ہے کہ وہ تینتیس فٹ لمبے ڈائناسور کے نچلے جبڑے کے ہیں۔
فوکوئی پریفیکچر ڈائناسور میوزیم کا کہنا ہے کہ جاپان میں پہلے بھی نسبتاً چھوٹے ٹائریناسور کے دانت ملے ہیں لیکن موجود دریافت اس بات کا پہلا ٹھوس ثبوت ہے کہ یہاں کبھی ایسے بڑے بڑے ڈائناسور بسا کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہpress association
کازونوری میاٹا جو میوزیم کے بڑے تحقیق کار ہیں کہتے ہیں ’اس دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ ناگاساکی میں ٹرائناسورز ایک ماحولی نظام چلاتے تھے جو زمین کے راستے اس زمانے میں ایشیائی برِ اعظم سے جڑا ہوا تھا۔‘
اگرچہ دونوں دانتوں کی دریافت ایک ہی مقام سے ہوئی ہے لیکن ابھی یہ معلوم نہیں کہ کیا یہ دونوں دانت ایک ہی جانور کے تھے۔ ابھی یہ تعین ہونا بھی باقی ہے کہ اس جانور کا تعلق کس نوع سے تھا۔
بڑا دانت تین اعشاریہ دو انچ (آٹھ اعشاریہ دو سنٹی میٹر) لمبا ہے۔ میوزیم کا کہنا ہے کہ دوسرا دانت اگرچہ ٹوٹا ہوا ہے لیکن جب یہ ڈائناسور کے جبڑے میں نصب تھا تو شاید کافی بڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہpress association
ٹائریناسورز 66 ملین سال سے لے کر 81 ملین سال قبل تک کے دورانیے میں ایشیا اور شمالی امریکہ میں پائے جاتے تھے۔ ٹرائناسورز کے خاندان کی بہت سی قسمیں تھیں اور ان جانوروں کا قد و قامت بھی ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ کوئی بہت بڑا ٹی ریکس تھا تو کوئی نسبتاً حال ہی میں دریافت ہونے والا ’پنوشیو ریکس‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







