مریخ پر زندگی موجود ہے؟

ایک صدی سے زیادہ عرصے سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ آیا مریخ پر زندگی موجود ہے۔ لگتا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں لوگوں کو اس سوال کا جواب مل جائے گا۔

19ویں صدی کے آخری برسوں میں امریکی خلاباز پرسیوال لورل کا خیال تھا کہ انھوں نے مریخ کی سطح پر نہریں دیکھی ہیں۔ ان کے بقول یہ مشاہدہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ہمارے قریب ترین سیارے پر نہ صرف زندگی کا وجود ہو سکتا ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی ایسی تہذیب بھی ہو جو ہماری تہذیب سے برتر ہو۔

پرسیوال لورل کی اس بات سے لوگوں کے لیے ایک نئی خیالی دنیا کے دروازے کھل گئے اور پھر ایچ جی ویلز کا مشہور ناول ’دی وار آف دا ورلڈز‘ یا دنیاؤں کی جنگ شائع ہوگیا، جس کے بعد کئی ایسی کہانیاں اور فلمیں بننے لگیں جن میں مریخ سے آئی ہوئی مخلوق دنیا پر قبضہ کر لیتی ہے۔

پہلے خلائی مشن نے کیا دیکھا تھا؟

جب سنہ 1960 اور 70 کے عشروں میں سرخ سیارے کے ارد گرد چکر لگانے والے تحقیقی مشن نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا کہ مریخ پر نہریں پائی جاتی ہیں تو لوگوں میں مایوسی اور کسی قدر چین کے ملے جلے جذبات دیکھنے میں آئے۔

ناسا کے خلائی مشن ’وائیکنگ‘ نے مریخ کی جو تصویر کھینچی اس میں یہ سیارہ ایک ویران اور سرد مقام ہی دکھائی دیا۔

لیکن اس مایوسی کے باوجود لوگوں نے وائیکنگ کی بھیجی ہوئی تصاویر کو بہت دلچسپ پایا کیونکہ انھیں مریخ کی پُرسرار خوبصورتی پسند آئی۔

کئی سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ انھوں نے مریخ پر زمین سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب کے آثار دیکھے ہیں
،تصویر کا کیپشنکئی سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ انھوں نے مریخ پر زمین سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب کے آثار دیکھے ہیں

شاید یہی وجہ تھی کہ لوگ بڑی بے چینی سے مریخ کی سرخ مٹی کے نمونوں کے تجزیے کا انتظار کر رہے تھے جو ’وائیکنگ ون‘ نامی مشن نے اکھٹے کیے تھے۔ مٹی کے ان نمونوں میں سے ایک نمونہ ایسا تھا جس کے تجزیے سے یہ امید پھر جاگ اٹھی کہ مریخ پر زندگی موجود ہے۔ لیکن جلد ہی اس تجزیے کو بھی رد کر دیا گیا۔

اس تجزیے کے بعد کے 20 برسوں میں زیادہ تر لوگ اسی خیال کے حامی رہے کہ مریخ سرخ خاک سے بھرا ہوا ایک سیارہ ہے جہاں کوئی جاندار نہیں پایا جاتا۔

مریخ پر زندگی کب شروع ہوئی تھی؟

اس کے بعد سنہ 1990 اور سنہ 2000 کے عشروں کے دوران کئی خلائی مشن ایسے تھے جنہوں نے مریخ کی ایسی تصاویر وغیرہ اتاریں جن سے لگتا ہے کہ مریخ کی جو شکل ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ ہمیشہ ایسی نہیں تھی۔

اس کے علاوہ ان تصاویر سے یہ اشارے بھی ملے کہ کئی مقامات پر مریخ کی سطح کے نیچے شاید برف موجود ہے اور شاید کبھی اس سطح میں کششِ ثقل جیسی مقناطیسی خصوصیات بھی موجود تھیں۔

مریخ کا ایک ابتدائی منظر: ویران مگر پرسکون
،تصویر کا کیپشنمریخ کا ایک ابتدائی منظر: ویران مگر پرسکون

اس صدی کے پہلے عشرے کے آخر میں بھیجے جانے والے خلائی مشنز کی اکھٹی کی ہوئی معلومات کی روشنی میں مریخ کی ایک ایسی شبہہ ابھرنا شروع ہوئی جس میں یہ سیارہ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسی ہماری زمین آج سے 3.8 ارب سال پہلے ہوا کرتی تھی۔ نئی معلومات سے اس خیال کو تقویت ملی کہ لاکھوں سال پہلے اس سرخ سیارے کی فضا خاصی کثیف تھی اور یہاں جھیلیں اور گہرے سمندر بھی موجود تھے۔

اگر یہ سب کچھ یہاں موجود تھا تو اس کا مطلب ہے کہ کبھی اس سیارے پر زندگی کا ظہور ہوا ہو گا، بالکل اسی وقت جب زمین پر زندگی کے ابتدائی آثار پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔

لیکن اس ابتدائی سازگار ماحول کے پیدا ہونے کے بعد مریخ پر ایسی بڑی تباہی آئی جس کی وجہ سے اس کے ارد گرد موجود مقناطیسی دائرہ ختم ہو گیا اور یہ سیارہ اپنا پانی اور موافق آب و ہوا کھو بیٹھا۔

آج مریخ پر زندگی کے امکانات کیا ہیں؟

اب تک کا واضح ترین ثبوت کی مریخ پر پانی موجود ہے
،تصویر کا کیپشناب تک کا واضح ترین ثبوت کی مریخ پر پانی موجود ہے

اس بات کے امکانات کم ہیں کہ آج مریخ پر زندگی موجود ہے، لیکن یہ بات ناممکنات میں بھی نہیں۔

کسی بھی جگہ زندگی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں مائع شکل میں پانی موجود ہو۔ اب ان ثبوتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور گذشتہ ہفتے ناسا کے پاس اس بات کا مضبوط ترین ثبوت آ گیا ہے کہ مریخ پر پانی کی موجودگی اب محض خیال نہیں رہا۔ اگرچہ اس پانی کی مقدار بہت کم نظر آئی ہے، تاہم مریخ پر پانی کی موجودگی کے امکانات خاصے زیادہ ہو گئے ہیں۔

آج سے پندرہ برس پہلے ناسا نے مریخ کی سطح پر ایسے نشانات دریافت کر لیے تھے جو ایسے راستوں کی نشاندھی کرتے ہیں جہاں پر پانی بہتا رہا ہو۔ لیکن مریخ کا درجۂ حرارت اتنا کم ہے کہ پندرہ برس پہلے اس خیال کو رد کر دیا گیا تھا کہ یہ نشانات پانی کے بہاؤ سے بنے تھے۔

اس کے بعد سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ چند ماہ میں مریخ کی سطح پر ان نشانات میں یا تو اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس بھی وجہ سے یہ نشانات بن رہے ہیں وہ وجہ آج بھی مریخ پر موجود ہے۔

کیا یورپی ممالک کی تخلیق، ایکسو ماراز مریخ پر زندگی کا وجود ثابت کرے گی
،تصویر کا کیپشنکیا یورپی ممالک کی تخلیق، ایکسو ماراز مریخ پر زندگی کا وجود ثابت کرے گی

اس سلسلے میں تازہ ترین معلومات گذشتہ ہفتے منظر عام پر آئی ہیں جو کہ ماضی کی معلومات سے قدرے مختلف ہیں۔اس مرتبہ سائنسدانوں کو اس بات کا ثبوت ملا ہے کہ مریخ کی سطح پر موجود دراڑوں اور بہتے پانی کے نشانات میں نمکیات بھی شامل ہیں۔ یہ مشاہدہ خاصا اہم ہے کیونکہ نمک برف کو پگھلا سکتا ہے جس کے بعد برف پانی بن کر سطح پر بہہ سکتی ہے۔

اس دریافت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سرخ سیارہ سویا ہوا نہیں بلکہ وہاں کسی قسم کی ارضیاتی یا جیولوجیکل تبدیلیاں رو نما ہو رہی ہیں۔ اب امکانات بڑھ گئے ہیں کہ مریخ پر شاید زندگی سادہ اجسام کی شکل میں موجود ہے۔

لیکن دوسری طرف اگر مریخ کی سخت، خشک سطح اور اس پر تابکاری کی مسلسل بمباری کو مد نظر رکھیں تو یہ امکان خاصا معدوم دکھائی دیتا ہے کہ آج بھی زمین پر زندگی موجود ہے۔ بہرکیف تازہ ترین مشن کی معلومات اتنی قوی ضرور ہیں کہ سائنسدان آنے والے برسوں میں بھی مریخ پر زندگی کا کھوج لگاتے رہیں گے۔