’مریخ پر نظر آنے والی لکیریں بہتے پانی کے نشان ہیں‘

امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائسندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں مریخ کی سطح پر دکھائی دینے والی تاریک لکیریں بہتے ہوئے پانی کے باعث بنی ہیں۔

ناسا کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ دکھائی دینے والی ڈھلانوں پر نمک کی موجودگی کے آثار ہیں۔

<link type="page"><caption> مریخ کی سطح پر مائع پانی کی موجودگی کے شواہد</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2015/04/150413_liquid_water_mars_nasa_rh" platform="highweb"/></link>

ایسی نمکیات مریخ کی محدود ہوا میں پانی کو منجمد یا بھاپ بنا کر اڑا سکتی ہیں تاہم اسے اتنا وقت مل گیا کہ وہ دور تک جاتے ہوئے نشانات بنا گیا۔

اس مطالعے کی تفصیلات محقق لوجا اوجھا نے سائنسی جریدے کو بتائیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ مریخ پر زندگی کی موجود ہے کیونکہ مریخ کی سطح پر مائع پانی کی موجودگی کسی جاندار (بیکٹیریا) کی موجودگی کا امکان پیدا کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مریخ پر جانے کا ارادہ رکھنے والے خلا نوردوں کے لیے وہاں زندہ رہنے میں مدد ملے گی۔

مریخ کی سطح پر مائع پانی کی موجودگی کسی جاندار (بیکٹیریا) کی موجودگی کا امکان پیدا کرتی ہے
،تصویر کا کیپشنمریخ کی سطح پر مائع پانی کی موجودگی کسی جاندار (بیکٹیریا) کی موجودگی کا امکان پیدا کرتی ہے

امریکی خلائی ایجنسی کی محقق میری بیتھ نے بتایا کہ ’اس سے خلائی سفر پر آنے والی لاگت کم ہوگی اور سیارے پر انسانی سرگرمیوں کے لیے قدرت پر انحصار بڑھے گا۔‘

محققین کا خیال رہا ہے کہ مریخ پر اکثر پانی بہتا ہوگا۔ تاہم یہ اتنا آسان نہیں وہاں درجہ حرارت عام طور پر اتنا کم ہوتا ہے کہ نقطۂ انجماد سے گر جاتا ہے اور فضا میں اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ کوئی بھی مائع چیز H2O وہ اُبل سکتی ہے۔

کیوروسٹی روور کی جانب سے بھیجے گئے شواہد کے مطابق مریخ کی سرد راتیں نمکین تہہ کے بننے کے لیے مثالی ہیں لیکن دن کی تپش سے یہ تہہ ختم ہو جاتی ہے۔

تاہم مریخ کی وادیوں کے 15 برس میں کیے جانے مشاہدے سے علم ہوتا ہے کہ اس پر موجود لکیریں موسموں کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر اوجھا کی جانب سے پیش کیے گئے ڈیٹا میں چار مقامات پر سیارے کے موسمِ گرما کے دوران لکیریں گہری اور ہلکی ہوتی رھیں۔

تحقیق کے نتائج سے تصدیق ہوتی ہے کہ مریخ کی چٹانوں کی ڈھلوانوں پر پانی بہتا ہوگا مگر اس پانی کی موجودگی کو ثابت کرنے کے لیے مزید کام کیے جانے کی ضرورت ہے۔