مریخ کی سطح پر مائع پانی کی موجودگی کے شواہد

،تصویر کا ذریعہReuters
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی ’کیوروسٹی‘ مریخ گاڑی نے سرخ سیارے کی سطح پر مائع پانی کی موجودگی کے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کی سردی میں مائع کی شکل میں پانی ہونا مشکل ہے لیکن سطح پر موجود نمک کے باعث نقطۂ انجماد کم ہو جاتا ہے جس کے باعث سطح پر نمکین تہہ جم جاتی ہے۔
ان شواہد کے باعث اس اندازے کو مزید تقویت ملی ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ مریخ پر پڑے گڑھوں پر نظر آنے والے محلول کے نشانات بہتے ہوئے پانی سے پڑے ہیں۔
یہ تفصیلات سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNasa
سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ مریخ کی سطح پر موجود نمک پانی کے بخارات کو جذب کرتا ہے جس کے باعث ایک نمکین تہہ بن جاتی ہے۔
اس نمکین تہہ کا درجہ حرارت منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اتنی شدید سردی میں کسی بھی جاندار کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔
تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کی سطح سے 15 سینٹی میٹر نیچے درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے اور اس میں جانداروں کا وجود ممکن ہے۔
کیوروسٹی روور کی جانب سے بھیجے گئے شواہد کے مطابق مریخ کی سرد راتیں نمکین تہہ کے بننے کے لیے مثالی ہیں لیکن دن کی تپش سے یہ تہہ ختم ہو جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







