’مریخ پر بہت بڑے آتش فشاں پھٹے تھے‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ مریخ پر ایسے بڑے آتش فشاں تھے جن کے پھٹنے سے اربوں ٹن پتھر اور راکھ کا اخراج ہوا ہوگا۔
جو مکالسکی اور جیکب بلیچر کی یہ تحقیق نیچر جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
ان سائنسدانوں کے مطابق مریخ پر عریبیہ ٹیرا نامی جگہ پر ایسے سُپر آتش فشاں کے آثار موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان آتش فشاؤں نے مریخ کے ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا ہوگا۔
ان سائنسدانوں کے مطابق سپر آتش فشاں سے گیس کے اخراج نے اس سیارے کے موسم کو تبدیل کردیا ہوگا اور راکھ اس پورے سیارے پر پھیل گئی ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی راکھ ہے جو اب امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے روبوٹ روور کیوروسٹی کو مل رہی ہے۔
’سائنسدانوں کو معلوم ہے کہ پہلے ایک بلین سالوں میں مریخ میں آتش فشاں موجود تھے لیکن سائنسدانوں کو اس بارے میں شواہد نہیں مل رہے تھے۔ نیچر جرنل میں جن سپر آتش فشاؤں کے شواہد ہم دے رہے ہیں اس سے یقین ہے کہ کافی سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔‘
سپر آتش فشاں اس آتش فشاں کو کہا جاتا ہے جس سے اخراج ایک ہزار مکعب کلومیٹر سے زیادہ کا ہو۔
زمین پر ایسی کئی آتش فشائیں تھیں لیکن کئی ہزار سال سے کسی سے بھی اخراج نہیں ہوا۔ سپر آتش فشاؤں میں سے ایک وہ ہے جس پر موجودہ دور میں امریکی ییلو سٹون نیشنل پارک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سُپر آتش فشاں کے پھٹنے سے پہاڑ وجود میں نہیں آتا۔ ان کے پھٹنے سے ایک گڑھا سا بن جاتا ہے۔
ان دونوں سائنسدانوں نے مریخ کے جنوبی حصے میں کئی سپر آتش فشاؤں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گڑھے کسی شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے نہیں بنے کیونکہ یہ گڑھے بڑے ناہموار ہیں۔
ان سائنسدانوں کا کہنا ہے ’ہزاروں مکعب کلومیٹر کا اخراج ہوا ہو گا اور یہ اعداد سب سے کم ہیں۔ اس کا حجم تقیباً ییلو سٹون جتنا ہی ہو گا یعنی ستّر کلومیٹر۔ اس گڑھے کو پار کرنے کے لیے گاڑی میں ایک گھنٹہ لگے گا۔‘
یونیورسٹی آف لندن کے ماہر مریخ ڈاکٹر پیٹر گرنڈروڈ کا کہنا ہے ’زمین پر سپر آتش فشاؤں پر تحقیق کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ تبدیلیوں کے باعث شواہد چھپ جاتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن مریخ پر سپر آتش فشاؤں کے بارے میں معلوم کرنا اس سے بھی مشکل ہے کیونکہ ہمارے پاس معلومات بہت محدود ہیں۔‘








