مریخ پر زندگی کی موجودگی کے خیال کو دھچکا

2003 میں پہلی بار مریخ پر میتھین گیس کی موجودگی کے دعوے کیے گئے تھے
،تصویر کا کیپشن2003 میں پہلی بار مریخ پر میتھین گیس کی موجودگی کے دعوے کیے گئے تھے

مریخ پر بھیجے جانے والے خلائی مشن سے وابستہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روبوٹک گاڑی کیوروسٹی کی سیارے پر میتھین گیس کی تلاش میں ناکامی سے مریخ پر اب کسی قسم کی زندگی کی موجودگی کے خیال کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

دوربینوں اور سیارچوں سے مریخ پر میتھین کی کم مگر قابلِ ذکر مقدار کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم کیوروسٹی کو وہاں اس گیس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

زمین کے ماحول میں اربوں ٹن میتھین گیس موجود ہے اور اس میں سے 95 فیصد میتھین مائیکروب جاندار جیسے کہ جانوروں کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا خارج کرتے ہیں۔

محققین کو امید تھی کہ مریخ پر موجود مالیکیول وہاں اب بھی کسی قسم کی زندگی کی موجودگی کا پتا دے سکتے ہیں تاہم کیوروسٹی کے بہترین آلات کی گیس کی نشاندہی میں ناکامی سے ان کی اس خوش امیدی کو دھچکا لگا ہے۔

کیوروسٹی کے لیزر سپیکٹومیٹر کے مرکزی محقق ڈاکٹر کرس ویبسٹر کا کہنا ہے کہ ’ماضی کے پیمانوں کے مطابق ہمیں امید تھی کہ ہم وہاں ایک ارب میں سے دس حصے یا اس سے زیادہ گیس تلاش کر پائیں گے اور ہم اس کے لیے پرجوش تھے۔ جب آپ جوش میں کچھ تلاش کرنے جاتے ہیں اور وہ آپ کو نہیں ملتا تو پھر مایوسی کا احساس تو ہوتا ہی ہے۔‘

کیوروسٹی روور گزشتہ تیرہ ماہ سے مریخ پر موجود ہے
،تصویر کا کیپشنکیوروسٹی روور گزشتہ تیرہ ماہ سے مریخ پر موجود ہے

ناسا کی روبوٹک خلائی گاڑی کی اس تلاش کے بارے میں سائنس نامی آن لائن جریدے میں چھپے مقالے میں بتایا گیا ہے۔

یہ گاڑی اگست 2012 میں مریخ پر اترنے کے بعد وہاں کی فضا میں موجود گیسوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ مقالے کے مطابق ان جائزوں میں میتھین کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

سائنسدانوں کے مطابق اگر وہاں میتھین موجود بھی ہے تو وہ ماحول میں ایک ارب میں سے ایک اعشاریہ تین حصے بھی نہیں اور یہ اندازے ماضی کے مقابلے میں چھ گنا کم ہیں۔

مریخ پر میتھین کی موجودگی کے ابتدائی مثبت اندازوں پر ماہرین کا خیال تھا کہ سرخ سیارے پر بھی میتھین پیدا کرنے والے کیڑے ہو سکتے ہیں جو کہ اس کی سطح کے نیچے موجود ہوں۔

تاہم ڈاکٹر ویبسٹر کے خیال میں اب امکان نہیں کہ یہ خیال بالکل صحیح ہو۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’اگرچہ یہ جائزہ اس خیال کو بالکل رد نہیں کرتا کہ وہاں کسی قسم کی مائیکروبایل موجودگی ہے تاہم اس کا امکان ضرور کم ہو جاتا ہے کیونکہ میتھین اس قسم کی موجودگی کی نشانی ہوتی ہے۔‘

تاہم یورپ خلائی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اولیور ویٹاسی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل مزید تجزیوں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر اولیور نے ہی 2003 میں پہلی بار مریخ پر میتھین گیس کی موجودگی کے دعوے کیے تھے۔

ان کے مطابق مریخ سے آنے والے ڈیٹا میں کچھ اشارے ہیں لیکن اسے ابھی شائع نہیں کیا جا سکتا چونکہ وہ بہت پیچیدہ حساب کتاب ہے اور وہ یہ کہ میتھین گیس ایک خاص اونچائی تقریباً 25 سے 40 کلومیٹر پر زیادہ ہوتی ہے۔ کیوروسٹی کے نتائج دلچسپ ضرور ہیں لیکن یہ معاملہ ابھی طے نہیں ہوا ہے۔‘