’4 ارب سال قبل مریخ کا ماحول زمین جیسا تھا‘

سیارہ مریخ کی سطح کا تجزیہ کرنے والے امریکی خلائی ادارے ناسا کے روبوٹ کیوروسٹی کو ٹھوس ثبوت ملے ہیں کہ سرخ سیارہ کبھی رہائش کے قابل تھا۔
سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق مریخ کے ماحول کے اب تک کے سب سے مفصل تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ چار ارب سال قبل مریخ اور زمین کے ماحول میں زیادہ فرق نہیں تھا۔
تجزیے کے مطابق مریخ کی فضا میں ایک دبیز تہہ موجود تھی اور سیارے کی سطح گرم اور گیلی بھی تھی تاہم یہ اب بھی واضح نہیں کہ آیا مریخ پر کبھی زندگی موجود تھی یا نہیں۔
اس سے قبل ناسا کی روبوٹ گاڑی نے مریخ کی سطح سے اس بات کا ثبوت حاصل کیا تھا کہ سیارے کے بہت سے ارضی مناظر بہتے ہوئے پانی نے تشکیل دیے ہیں۔
سائنس دانوں نے کہا تھا کہ انھیں سرخ سیارے کے ڈیڑھ سو کلومیٹر چوڑے گیل گڑھے کے فرش پر گول کنکر ملے ہیں جن کی شباہت زمین کے دریاؤں میں ملنے والی بجری جیسی ہے۔
کیوروسٹی نے گیل گڑھے میں کئی چٹانوں میں اس قسم کے مظاہر کی تصاویر کھینچی تھیں۔
کیوروسٹی کو مریخ کی سطح پر گزشتہ برس چھ اگست کو اتارا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس نے گیل نامی گڑھے کی جانب سفر کیا ہے۔
ناسا کی اس مریخ گاڑی کا مشن یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا مریخ پر موجود اس گڑھے میں ماضی میں کبھی ایسا ماحول رہا ہے جو جراثیمی زندگی کے لیے سازگار ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحقیق میں پتھروں کی ساخت معلوم کرنا بے حد ضروری ہے کیوں کہ وہاں ان ارضیاتی حالات کا سراغ موجود ہو گا جس کے تحت وہ وجود میں آئے تھے۔







