’زندگی کی ابتدا زمین نہیں مریخ پر ہوئی‘

زیادہ امکان ہے کہ حیات زمین پر مریخ سے آئی ہوگي: پرورفیسر بینیر
،تصویر کا کیپشنزیادہ امکان ہے کہ حیات زمین پر مریخ سے آئی ہوگي: پرورفیسر بینیر

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ شاید کرۂ ارض پر زندگي شروع ہونے سے پہلے اس کی ابتدا سیارہ مریخ پر ہوئی۔

نئی تحقیق سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ زمین پر زندگی شروع ہونے پہلے اربوں برس قبل سیارہ مریخ زندگی کی ابتدا کے لیے زیادہ بہتر جگہ رہی ہوگی۔

اس نظریے کے ثبوت یہ ہیں کہ زندگي کے لیے ضروری سب سے پہلے مالیکیول کیسے جمع ہوئے ہو گئے۔

اس نظریے کی تفصیلات اٹلی کے شہر فلورنس میں ہونے والی گولڈ سمتھ میٹنگ کے دوران پروفیسر سٹیون بینیر نے پیش کی تھی۔

سائنس دان اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ زندگی کے وجود کے لیے ضروری آر این اے، ڈی این اے اور پروٹینز بنانے والے اہم مالیکیول کی تخلیق کے لیے پہلی بار ایٹمز ایک ساتھ کیسے جمع ہوئے ہونگے۔

یہ نظریہ کہ زندگی کا وجود پہلے مریخ پر ہوا تھا اور پھر وہ کرۂ ارض پر آئی پہلے بھی کئی بار سامنے آ چکا ہے لیکن پروفیسر بینیر نے اس نظریے کو اور واضح کیا ہے۔

فلورنس میں پروفیسر بینیر نے ان نتائج کو پیش کیا جن سے بارن اور مولی بیڈنم جیسے مادوں سے لیس ان معدنیات کا پتہ چلتا ہے جو ذی حیات مالیکیولوں کے اجتماع کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ بارن معدنیات کاربن ہائیڈریٹ کی مدد سے حیات سے پہلے کیمائی مواد کی تشکیل میں معاون ہوتے ہیں اس کے بعد ملیبڈینم اس درمیانی مالیکیول کی از سر نو درجہ بندی کرکے آر این اے تشکیل کرتا ہے۔

اسی نظریے سے یہ مسئلہ کھڑا ہوتا ہے کہ آخر زمین پر زندگی پہلے کیسے شروع ہوئی کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زمین اپنے ابتدائی مرحلے میں بارن اور ملیبڈینم جیسی معدنیات کی تشکیل کے لیے موضوع نہیں تھی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آر این اے کی تشکیل کے لیے بارن معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے اور زمین کے ابتدائي مرحلے میں وہ اس مقدار میں کرۂ ارض پر دستیاب نہیں تھے۔

پروفیسر بینیر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’ جب مولی بیڈنیم میں اعلیٰ سطح آکسیجن پائی جائےگی تب ہی یہ ممکن ہے کہ حیات کی تشکیل ہو پائے۔ جب زندگی کی ابتدا ہوئی ہوگی اس وقت اس طرح کی مولیبڈنیم زمین پر دستیاب نہیں ہوگی کیونکہ تین ارب سال پہلے زمین کی سطح پر آکسیجن بہت کم تھی لیکن مریخ پر زیادہ تھی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ’یہ اس بات ایک اور ثبوت ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ حیات زمین پر مریخ سے آئی ہوگي۔‘

کہا جاتا ہے کہ ابتداء میں مریخ کی آب و ہوا خشک تھی اور یہ بھی زندگی کی ابتداء کے لیے اسے موزوں جگہ بناتی ہے۔

پروفیسر بینیر کہتے ہیں کہ ’اس بات کے شواہد مل رہے ہیں کہ ہم سب کا تعلق اصل میں مریخ سے ہے، زندگی مریخ پر شروع ہوئی اور ایک چٹان کی صورت میں زمین پر آئی۔‘