ایپل کے ایپ سٹور پر سائبر حملہ، سینکڑوں چینی ایپس متاثر

یہ پہلا موقع ہے کہ ایپل کے ایپ سٹور پر اتنے بڑے پیمانے پر کسی مضر ایپ کی موجودگی کا پتہ چلا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیہ پہلا موقع ہے کہ ایپل کے ایپ سٹور پر اتنے بڑے پیمانے پر کسی مضر ایپ کی موجودگی کا پتہ چلا ہے

امریکہ کی کمپیوٹرز اور موبائل فون بنانے والی معروف کمپنی ایپل کے مطابق اس نے چینی ایپ سٹور میں ایک مضر سافٹ ویئر کی موجودگی کے انکشاف کے کئی ایپس کو سٹور سے ہٹا دیا ہے۔

اس سے پہلے معلوم ہوا تھا کہ اس نے چینی ایپ سٹور کی سینکڑوں ایپس میں ایک نقصان دہ سافٹ ویئر ’ایکس کوڈ گوسٹ‘ موجود ہے۔

اس پروگرام کی ایپ سٹور میں موجودگی کی اطلاع کئی سائبر سکیورٹی کمپنیوں کی جانب سے دی گئی تھی۔

ایپل کا کہنا ہے کہ ہیکر نے ایپس میں یہ نقصان دہ کوڈ شامل کرنے کے لیے ایپ بنانے والے ماہرین کو قائل کیا کہ وہ اس کام کے لیے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس کا جعلی ورژن استعمال کریں۔

کمپنی کی ترجمان کرسٹین موناگہان نے ایک ای میل پیغام میں کہا ہے کہ ’ہم نے اس جعلی سافٹ ویئر کی مدد سے بنائی گئی ایپلیکیشنز ایپ سٹور سے ہٹا دی ہیں۔‘

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمپنی ایپس تیار کرنے والوں سے بھی رابطے میں ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اپنی ایپلیکیشنز کی دوبارہ تیاری کے لیے ایکس کوڈ کا صحیح ورژن استعمال کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ایپل کے ایپ سٹور پر اتنے بڑے پیمانے پر کوئی مضر ایپ کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔

ایپل کی جانب سے تاحال یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ صارف اس بات کو یقینی کیسے بنائیں کہ ان کی مشین پر موجود ایپ متاثرہ تو نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنایپل کی جانب سے تاحال یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ صارف اس بات کو یقینی کیسے بنائیں کہ ان کی مشین پر موجود ایپ متاثرہ تو نہیں ہے

ایپل کے ماہرین مسلسل اپنے ایپ سٹور کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور سائبر سکیورٹی کی کمپنی پالو آلٹو نیٹ ورک انکارپوریٹڈ کے مطابق اس سائبر حملے سے قبل آج تک ایپ سٹور میں صرف پانچ بار ایسی کسی مضر ایپلیکیشن کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ایکس کوڈ کا وائرس زدہ ورژن چین کے ایک سرور سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا۔

چینی سائبر سکیورٹی فرم میہو360 ٹیکنالوجی کمپنی نے کہا ہے کہ اسے ایسی 334 ایپس کا پتہ چلا ہے جو ایکس کوڈ گوسٹ سے متاثر ہوئی تھیں۔

تاہم ایپل نے متاثرہ ایپس کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی۔

ایپل کی جانب سے تاحال یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ صارف اس بات کو یقینی کیسے بنائیں کہ ان کی مشین پر موجود ایپ متاثرہ تو نہیں ہے۔

پالو آلٹو نیٹ ورک کے ڈائریکٹر آف تھریٹ انٹیلیجنس رائن اولسن کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس لیے ’بہت بڑی چیز‘ ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہیکر ایپل کے ایپ سٹور کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب دیگر سائبر حملہ آور بھی یہی طریقہ استعمال کر سکتے ہیں اور اس کا دفاع بھی آسان نہیں ہے۔