فالج کے کچھ مریضوں کے لیے سگریٹ نوشی چھوڑنا آسان

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ میں انسولر کورٹیکس کے رول کو سمجھنے کے لیے ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے

،تصویر کا ذریعہzephyrscience photo library

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ میں انسولر کورٹیکس کے رول کو سمجھنے کے لیے ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسانی دماغ کا ایک مخصوص حصہ اسے سگریٹ نوشی کی عادت ڈالتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فالج سے جن لوگوں کے دماغ کے اس حصے کو نقصان پہنچتا ہے جسے انسولر کورٹیکس کہا جاتا ہے ان کے لیے سگریٹ نوشی چھوڑنا آسان ہوتا ہے۔

سائسندانوں نے سٹروک کے 156 مریضوں کا معائنہ کیا جنہیں مختلف طرح سے دماغ میں چوٹیں آئی تھیں۔

ان میں سے جن لوگوں کے دماغ میں انسولر کورٹیکس کو نقصان پہنچا تھا انھوں نے دوسرے مریضوں کے مقابلے کامیابی کے ساتھ سگریٹ نوشی چھوڑ دی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دماغ کہ اس حصے کو نشانہ بنایا جائے تو لوگوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بازار میں اس وقت سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لیے جو ادویات دستیاب ہیں وہ دماغ میں نکوٹین کی طلب کو دور کرنے کا کام کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ گمز اور پیچز لوگوں میں نکوٹین کی طلب کو کم کرنے کے لیے محدود مقدار میں نکوٹین سپلائی کرنے کا کام کرتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ میں انسولر کورٹیکس کے رول کو سمجھنے کے لیے ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ واضح ہے کہ دماغ کے اس حصے میں سگریٹ نوشی کی عادت سے متعلق کوئی سرگرمی ضرور ہوتی ہے۔

ریسرچ کے یہ انکشافات دو سائنسی جریدوں میں شائع کیے گئے ہیں ۔

ریسرچ میں شامل مریض سگریٹ نوشی کے عادی تھے اور انہیں فالج کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

سکین کے بعد معلوم ہوا کہ ان میں سے 38 کے دماغ میں انسولر کورٹیکس کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 118 کے دماغ کے دوسرے حصے متاثر ہوئے تھے۔

ان تمام مریضوں کے ڈاکٹروں نے انہیں سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

اس کے بعد تین ماہ تک ان مریضوں کو دیکھا گیا کہ کتنے مریضوں نے آسانی سے سگریٹ نوشی ترک کی۔

ان میں سے ان لوگوں نے آسانی سے سگریٹ نوشی ترک کردی جن کے دماغ میں انسولر کورٹیکس متاثر ہوا تھا۔