صبح سگریٹ نوشی سے کینسر کا خطرہ زیادہ

،تصویر کا ذریعہSPL
ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق ایسے افراد کو کینسر جلدی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جو صبح بیدار ہونے کے فوری بعد سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔
سگریٹ نوشی کرنے والے سات ہزار چھ سو دس افراد پر کی گئی یہ تحقیق جریدے کینسر میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق کے مطابق جو لوگ صبح کے بعد دن کے کسی حصے میں تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں ان کے مقابلے میں ایسے لوگ جو صبح جاگنے کے کوئی نصف گھنٹے کے اندر تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کے دوگنے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کی دیگر عادات کا ان نتائج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
برطانیہ میں کینسر ریسرچ کے مطابق جو لوگ تمباکو نوشی شروع کرنے میں جلدی کرتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کے پھیپھڑوں میں زیادہ دھواں جاتا ہو۔
امریکہ میں پین سٹیٹ کالج آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا چار ہزار سات سو چھہتر اور بغیر کینسر کے اٹھائیس سو پینتیس سگریٹ نوش افراد کا معائنہ کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ صبح بیدار ہونے کے تیس منٹ کے اندر تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں ان کو ایک گھنٹہ بعد تمباکو نوشی شروع کرنے والوں کے برعکس کینسر کا مرض لاحق ہونے کے 79 فیصد زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
اس جریدے میں شائع ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں تمباکو نوشی کرنے والے ایک ہزار اٹھ سو پچاس افراد کا مشاہدہ کیا گیا، ان میں سے ایک ہزار پچاس کو سر اور گردن کا کینسر تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مشاہدے کے مطابق جو لوگ ایک گھنٹے بعد سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں ان کے برعکس نصف گھنٹے کے اندر سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں کینسر یا ٹیومر کے پیدا ہونے کے 59 فیصد زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
اس تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے ’ اس تعلق کے بارے میں ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’اس طرح تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے جسم میں نکوٹین اور ممکنہ طور پر دیگر زہریلے مواد کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اور یہ نصف گھنٹہ یا زیادہ تاخیر سے تمباکو نوشی شروع کرنے کے مقابلے میں تمباکو نوشی کے زیادہ عادی ہوتے ہیں۔‘
کنیسر ریسرچ یو کے کے پروفیسر رابرٹ ویسٹ کا کہنا ہے ’جو لوگ جاگنے کے فوری بعد تمباکو نوشی شروع کر دیتے ہیں وہ ہر سگریٹ کو زیادہ زور سے پھونکتے ہیں۔‘
’اس کی یہ ممکنہ وضاحت کی جا سکتی ہے کہ جلدی تمباکو نوشی شروع کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں میں زیادہ دھواں داخل ہوتا ہے اور اس صورت میں کینسر کا سبب بننے والے کیمیکل کے پھیپھڑوں پر اثر انداز ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔‘







