’سگریٹ نوشی ترک کرنے میں بلڈ ٹیسٹ اہم ثابت ہو سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو سگریٹ نوشی کی عادت سے چھٹکارا دلانے میں خون کی ایک جانچ اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
لینسیٹ میں تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جتنے لوگ سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے قدم بھی اٹھا لیتے ہیں ان میں سے 60 فی صد افراد سگریٹ چھوڑنے کے اگلے ہفتے پھر سے پینے لگتے ہیں۔
لیکن ریسرچروں کا خیال ہے کہ اس بات کے علم سے سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی جس کے تحت یہ پتہ چل جائے کہ کوئی شخص کتنی جلدی نکوٹین کو توڑ سکتا ہے۔
جبکہ دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کا ٹیسٹ کرانے سے کیا فائدہ ہوتا ہے اس کی جانچ بھی ضروری ہے۔
سگریٹ میں نکوٹین سب سے زیادہ عادت ڈالنے والا مادہ ہے۔ سگریٹ پینے والوں کو اس کی طلب اس وقت بہت ہوتی ہے جب ان کے جسم میں نکوٹین کی سطح کم ہونے لگتی ہے اور انھیں پھر سے پینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
لیکن مختلف لوگوں کے لیے نکوٹین کو توڑنے یا حل کرنے کی شرح مختلف ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہspl
بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جو لوگ اسے بہت جلدی تحلیل کر لیتے ہیں ان میں سیگریٹ کی طلب زیادہ ہوتی ہے اور ان کے لیے اس کا ترک کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں امریکہ کی پنسلوینیا یونیورسٹی کے محققوں نے 1240 افراد کو سگریٹ نوشی کے مختلف مراحل سے گزارا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے تمام رضاکاروں کے خون کی جانچ کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ نکوٹین معمول کی رفتار سے ٹوٹ رہا ہے یا کم شرح سے۔
اس کے بعد رضاکاروں کو یا تو نکوٹین پیچ یا ویرینیکلائن دوا دی گئی یا پھر ویرینیکلائن کے نام پر ایک عام گولی دی گئی۔
ویرینیکلائن ڈاکٹروں کی ہدایت پر دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اس کے ممکنہ سائد ایفکٹ پر نظر رکھتے ہیں جن میں ڈپریشن میں جانے یا خود کشی تک کا خطرہ شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سائنسدانوں کو معلوم چلا کہ جن کے خون میں نکوٹین معمول کے مطابق حل ہوتی ہے اگر وہ ویرینیکلائن لیتے ہیں تو ان کے لیے سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا حاصل کرنا نکوٹین پیچ کے مقابلے نسبتاً زیادہ آسان ہے۔
جن کے خون میں نکوٹین دیر سے حل ہو رہی تھی ان میں بھی کامیابی کی شرح یہی تھی۔ تاہم انھوں نے ویرینیکلائین کے سائڈ ایفکٹ زیادہ بتائے۔
اس تحقیق میں شامل اہم محقق پروفیسر کیرین لرمین نے کہا: ’عام نظام والے لوگوں کے لیے یہ گولی زیادہ مفید ہے جبکہ ایک تہائی آبادی کے لیے جن میں نکوٹین ٹوٹنے کی رفتار دھیمی ہے ان کے لیے پیچ بہتر ہے۔‘







