پیار کی باتیں مکڑا بھی کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہ
سائنسدانوں نے یہ راز افشا کیا ہے کہ مکڑا مکڑی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سریلی آوازوں کا سہارا لیتا ہے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف سِنسناٹی سے منسلک ماہرین الیگزینڈر سویگر اور پروفیسر جارج یِٹز نے یہ انکشاف وُولف سپائیڈر قسم کے مکڑوں پر تجربات کے بعد کیا جس میں انھوں نے ان مکڑوں کی آوازوں کو ریکارڈ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکڑا بلی کی طرح خرخر کی آواز نکال کر دراصل مکڑی کو محبت کا پیغام دے رہا ہوتا ہے۔
ریکارڈ شدہ آوازوں کو جب ماہرین نے مکڑئیوں کو سنایا تو وہ آواز کی جانب متوجہ ہوگئیں۔ ماہرین کے مطابق مکڑا مخصوص انداّ سے پتوں پر تھرتھراہٹ یا ارتعاش پیدا کرتا جس سے نکلنے والی آواز پتوں کے راستے مکڑی تک پہنچتی ہے۔
الیگزینڈر سویگر اور پروفیسر جارج یِٹز نے اپنی تحقیق کے نتائج امریکہ کی ’اکوسٹیکل سوسائٹی‘ نامی تنظیم کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جو بہرے پن کے بہتر علاج کے لیے کام کرتی ہے۔
دونوں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق یہ جاننے میں مددگار ہو سکتی ہے کہ آواز کے ذریعے پیغام رسانی کی ابتدائی شکل کیا تھی۔
ٹیم نے جب شمالی امریکہ میں پائے جانے والے مکڑوں کی ایک قسم کا مطالعہ شروع کیا تو انھوں نے دیکھا کہ اس موضوع پر جو چند مضمون شائع ہو چکے تھے ان میں اس بات کا ذکر تھا کہ امریکہ کے جنگلات میں مکڑے مل کر ایسی آواز پیدا کرتے ہیں جسے’مکڑوں کا گیت‘ کہا جا سکتا ہے۔
مکڑوں کی اکثریت تھرتھراہٹ پیدا کرنے اور اسے محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ پیغام رسانی وہ اپنی ٹانگوں کی ذیعے کرتے ہیں۔ اپنے اردگرد دوسرے کیڑوں مکوڑوں کی تھرتھراہٹ بھی وہ اپنی ٹانگوں سے ’سنتے‘ ہیں اور پھر انھیں شکار کرتے ہیں۔
ریکارڈنگ سٹوڈیو
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسٹر سویگر کا کہنا تھا کہ ’میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا شمالی امریکہ میں پائے جانے والے وولف مکڑے بھی ابلاغ کے لیے آواز کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
یہ معلوم کرنے کے لیے مسٹر سویگر اور ان کی ٹیم نے مکڑوں کی آوازیں ریکارڈ کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا سٹوڈیو قائم کیا جس میں مکڑوں کو مختلف قسم کی چیزوں پر چھوڑا گیا اور ان سے نکلنے والی آوازوں کو ریکارڈ کیا گیا۔
جب سائنسدانوں نے مکڑئیوں سے نکلنے والی مخصوص بُو سٹوڈیو میں چھوڑی تو اس کے جواب میں مکڑوں نے بلی کی طرح خر خر کی آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ مکڑے یہ آواز اپنا کنگھی جیسا عضو زمین یا پتوں وغیرہ پرگھسیٹ کر پیدا کرتے ہیں۔
بعد میں ٹیم نے یہ ریکارڈ شدہ آوازیں مکڑئیوں کو سنائیں، ینعی مکڑئیوں تک یہ آوازیں تھراتھراہٹ کی بجائے ہوا کے ذریعے پہنچائی گئیں۔
ماہرین نے دیکھا کہ مکڑیئوں نے ان آوازوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مکڑوں میں ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ آواز پیدا کرنے والا اور اسے سننے والا، دونوں کسی ایسی سطح پر کھڑے ہوں جہاں پہلا تھرتھراہٹ پیدا کر سکے اور دوسرا اسے محسوس کر سکے۔
مسٹر سویگر کے مطابق ’ہم نے دیکھا کہ مکڑوں میں گفتگو یا ابلاغ کے لیے صرف ہوا کے دوش پر پہنچنے والی آواز کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ تھراتھراہٹ بھی ضروری ہے۔ مکڑے پتھر، لکڑی یا مٹی پر تھراتھراہٹ پیدا نہیں کر سکتے، لیکن اگر آپ مکڑے کو پتے، کاغذ اور تنے ہوئے کپڑے پر چھوڑیں تو وہ نہ صرف آواز بلکہ تھراتھراہٹ بھی پیدا کرتے ہیں۔
پروفیسر یِٹز کے مطابق ’مکڑی اس تھرتھراہٹ اور ہوا کے دوش پر آنے والی آواز دونوں کو سنتی ہے‘ اور یوں مکڑے کا پیغام محبت مکڑی تک پہنچ جاتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یِٹز کا کہنا تھا کہ ’مکڑے اور مکڑی کی ٹانگوں میں مخصوص اعضاء (سینسری آرگنز) پائے جاتے ہیں جنھیں ’سینسیلیا‘ کہا جاتا ہے۔ آپ سمجھ لیں یہ مکڑی کے گُھٹنے ہوتے ہیں، اور مکڑے ان گھٹنوں کی مدد سے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔‘
اس تحقیق کے بعد ماہرین کو امید ہے کہ وہ یہ راز معلوم کر لیں گے کہ آیا مکڑے نے گانا بجانا جنگل میں خشک پتوں پر پیدا ہونے والی آوازوں سے سیکھا اور اگر یہ مفروضہ ثابت ہو جاتا ہے تو ہمیں یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں آواز کے ذریعے پیغام رسانی کی ابتدا اور اس کا ارتقاع کیسے ہوا۔







