’لڑکیوں میں مکڑیوں کا ڈر پیدائشی‘

امریکہ میں ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین میں خطرناک جانوروں کا خوف پیدائشی ہوتا ہے۔
ماہرین نے جریدے ’نیو سائنٹسٹ‘ میں لکھا ہے کہ خواتین میں پیدائشی وہ رجحان پایا جاتا ہے جو انسان کے غاروں میں رہنے والے آباؤ اجداد میں موجود تھا۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ بچوں کے محافظ کے طور پر خواتین ان جانوروں سے بچتی ہیں جو ان کے اپنے یا ان کے بچوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ کارنیگی میلان یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈیوڈ ریکیسن نے کہا دس بچیوں اور دس بچوں کو تحقیق کے دوران مکڑیوں کی مختلف تصاویر دکھائی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک تصویر میں مکڑی کے ساتھ مسکراتا ہوا چہرہ تھا اور دوسری میں پھول کے ساتھ ڈرے ہوئے انسان کی تصویر تھی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بچیوں نے جن میں گیارہ ماہ کی بچی بھی شامل تھی لڑکوں کے مقابلے میں مکڑی اور مسکراتے ہوئے چہرے پر زیادہ غور کیا۔ لڑکوں نے دونوں تصاویر پر ایک ہی جتنا دھیان دیا۔
ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بچیاں کو یہ بات عجیب لگی کہ مکڑی کے ساتھ کوئی بھی کیوں خوش ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ مرد زیادہ خطرے مول لیتے ہیںاور جن میں یہ رجحان زیادہ ہوتا ہے وہ شکار میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بات میں سمجھ میں آتی ہے کہ خواتین سانپوں اور مکڑیوں سے کیوں محتاط ہوتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ جدید دور کے خوف جن میں اونچائی کا خوف، ہسپتال کا خوف، پرواز کا خوف مرد و خواتین میں یکساں ہوتا ہے۔



