دمدار ستارے پر’فیلے‘ ابھی بھی نظروں سے اوجھل

،تصویر کا ذریعہ
یورپی سپیس ایجنسی کی طرف سے بھیجے گئے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کو ڈھونڈنے کی کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔
فیلے کو ستارے پر بھیجنے والے مصنوعی سیارے روزیٹا کی طرف سے حال ہی میں بھیجی گئی تصاویر میں بھی فیلے کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
فیلے 12 نومبر کو پی67 نامی ستارے پر اترا تھا، جہاں سے وہ بہت زیادہ بھیجنے کے بعد خاموش ہو گیا تھا۔
شمسی توانائی نہ ملنے کی وجہ سے یہ روبوٹ اپنے پینلز کے ذریعے بیٹری مکمل طور پر چارج کرنے میں ناکام رہا تھا اور وہ اب سٹینڈ بائی حالت میں ہے۔
یورپی سپیس ایجنسی کے سائنسدان اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فیلے اب ضروری شمسی توانائی حاصل کرنے کے بعد خود ہی اپنی اصلی جگہ کے متعلق بتائے۔
سائنسدانوں کو یہ تو اندازہ ہے کہ روبوٹ کہاں ہو سکتا ہے لیکن اس کی حتمی نشاندہی کرنا ایک مشکل کام ہے۔
فیلے کو دمدار ستارے پر قدم جمانے کے لیے دو بار کوشش کرنا پڑی تھی کیونکہ پہلی کوشش کے دوران یہ دمدار ستارے کی سطح کو چھونے کے بعد اچھل کر دوبارہ خلا میں 11 کلومیٹر تک چلا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور واقع پی 67 نامی دمدار ستارے پر اتارے جانے والے خلائی روبوٹ نے اپنی بیٹری کے خاتمے سے قبل کافی معلومات زمین پر بھیجیں اور سائنسدانوں کے مطابق اس مختصر روبوٹ سے جس کارکردگی کی امید تھی، وہ اپنی ذخیرہ شدہ توانائی کے خاتمے سے قبل بھیج چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیلے اس وقت دمدار ستارے کی سطح پر ایک چٹان کے سائے تلے موجود ہے اور اس وجہ سے اسے سورج کی پوری روشنی نہیں مل پا رہی۔
دسمبر 12، 13 اور 14 کو روزیٹا نے اس جگہ کی تصاویر بھیجیں جہاں خیال ہے کہ فیلے ہے اور پھر ہر ایک تصویر کو سکین کیا گیا کہ فیلے کا پتہ چل سکے لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی ہے۔
یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی خلائی جہاز نے کسی ستارے کی سطح پر قدم رکھا ہو۔
روزیٹا اب پی 67 سے دور چلا گیا ہے اور اس نے اپنی اونچائی 20 سے 30 کلومیٹر تک بڑھا لی ہے۔ ابھی واپس جانے کا کوئی فوری منصوبہ بھی نہیں ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر فیلے کی نشاندہی نہ بھی ہو سکی تو پھر بھی فیلے خود ہی کبھی نہ کبھی اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔
جب پی 67 سورج کے قریب پہنچے گا تو اس سے روبوٹ کے لیے روشنی کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی اور اس کے شمسی توانائی کے پینلوں کی بیٹری ری چارج ہو جائے گی۔







