خلائی روبوٹ کی دمدار ستارے پر تاریخی لینڈنگ

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی اور یورپی خلائی سائنس دانوں نےایک خلائی تحقیقی روبوٹ کو زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور ایک دمدار ستارے کی سطح پر اتارا کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
فائلی گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق آٹھ بج کر 35 منٹ پر روزیٹا سے 67 پی/چوریوموف جیراسیمینکو نامی دمدار ستارے کی طرف چھوڑا گیا۔
اس خلائی مہم کا مقصد نظام شمسی کی تشکیل کے بارے میں چند سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانا ہے۔
پاکستانی وقت کے مطابق فائلی رات نو بجے دمدار ستارے کی سطح پر اترا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے روزیٹا خلائی جہاز سے الگ ہو کر دمدار ستارے کی طرح رواں دواں ’فائلی‘ نامی تحقیقی روبوٹ کی بھیجی گئی پہلی تصویر حاصل کر لی ہے۔ اس تصویر میں خلائی جہاز ’روزیٹا‘ اور اس کے شمسی پینل نظر آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تاہم اس وقت فائلی کے دمدار ستارے کی سطح پر موجودگی کے بارے میں بے یقینی پائی جاتی ہے کیونکہ اسے ایک جگہ پر ٹکنے میں مدد دینے والے ہارپونز صحیح طریقے سے کام نہیں کر سکے تھے۔
مشن کا مقصد دمدار ستاروں کی ساخت پر روشنی ڈالنا ہے جو اس وقت سے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں جب سے نظامِ شمسی وجود میں آیا ہے۔
یہ انتہائی مشکل مشن تھا کیوں کہ چار کلومیٹر چوڑے 67پی کی سطح برفانی ہے اور اس کی کششِ ثقل بھی بہت کم ہے، اس لیے خدشہ تھا کہ کہیں فائلی سطح سے ٹکرانے کے بعد اچھل کر دوبارہ خلا میں نہ چلا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس خطرے سے بچنے کے لیے فائلی میں سکرو اور ہارپون نصب کیے گئے ہیں جو اسے ایک جگہ ٹکنے میں مدد دیں گے۔

اس کے علاوہ ایک اور خطرہ یہ بھی ہے کسی پتھر سے ٹکرا کر فائلی الٹ نہ جائے کیوں کہ اس کے اندر اپنے آپ کو سیدھا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ 67پی کی سطح پر ٹیلے، گڑھے اور دراڑیں ہیں، اس لیے مشن کی کامیابی کے لیے فائلی کو کسی صاف جگہ پر اترنا تھا۔
روبوٹ کو دمدار ستارے کی سطح پر اتارنے کے مرحلے سے پہلے سائنس دان سٹیفن اولامیک نے کہا تھا: ’ہمیں ہارپونز اور آلے کے پیروں میں موجود سکروز پر انحصار کرنا پڑے گا کیوں کہ سطح نرم ہے۔ جس سے ہمارا کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔‘
اس سے قبل فائلی کو روزیٹا سے الگ کر دمدار ستارے کی جانب بھیجنے کا مشن تاخیر کا شکار ہو گیا تھا کیوں کہ ایک تھرسٹر فائر نہیں کیا جا سکا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
دمدار ستاروں کے اندر اس اصل مواد کا راز موجود ہے جس سے آج سے ساڑھے چار ارب سال قبل ہمارا نظامِ شمسی وجود میں آیا تھا۔
ایک نظریے کے مطابق سیاروں پر پایا جانے والا پانی دمدار ستاروں ہی سے آیا ہے۔ ایک اور نظریے کے مطابق ان میں زندگی کے لیے درکار بنیادی مادے موجود ہیں جن کی مدد سے زمین پر زندگی کا آغاز ہوا۔







