’جارحانہ ورزش سے زکام کے امکان میں کمی‘

ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر ہفتے کم از کم ڈھائی گھنٹے کی جارحانہ ورزش کرنے سے زکام لگنے کے امکان میں کافی کمی آتی ہے۔
لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی جانب کیے جانے والے اس ’فلو سروے‘ آن لائن سروے میں 4800 افراد نے شرکت کی۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہلکی پھلکی ورزش سے یہ حفاظتی اثر پیدا نہیں ہوتا۔
اس موسمِ سرما میں زکام کے مریضوں کی شرح قدرے کم رہی ہے۔
فلو سروے پانچ سال سے جاری ہے اور ہر سال وہ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کس کو زکام لگتا ہے اور کس کو نہیں۔
سروے کے سوالات میں عمر، بچوں کا ہونا یا نہ ہونا کے علاوہ یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ کہ وہ ہفتے میں کتنی دیر تک جارحانہ طرز کی ورزش کرتے ہیں جیسے کہ سائیکل کی سواری، دوڑنا یا کھیل کود۔
اس کے بعد ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر ہفتے ویب سائٹ پر آئیں اور بتائیں کہ کیا انھیں زکام یا اس سے ملتے جلتے اثرات محسوس ہو رہے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہر ہزار میں سے کم از کم ایک سو ایسے زکام کے کیسز ہیں جنھیں جارحانہ ورزش سے حل کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سال گذشتہ چند سالوں کے مقابلے میں زکام میں 6 فیصد سے کم ہو کر 4.7 فیصد مریض تھے۔
زکام میں کمی کا رجحان بچوں میں بھی دیکھا گیا جو کہ تقریباً آٹھ فیصد سے کم ہو کر پانچ فیصد رہ گیا۔
فلو سروے حکومت کو بھی معلومات فراہم کرتا ہے اور برطانیہ کے پبلک ہیلتھ کے فلو کی نگرانی کے پروگرام کا بھی حصہ ہے۔







