کزن سے شادی کرنے کے جینیاتی مسائل: حقیقت کیا ہے اور فسانہ کیا

Pareja de recién casados dentro de un auto.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ڈرافٹنگ
    • عہدہ, بی بی سی منڈو

ہر ثقافت کے اپنے ٹیبوز (ممنوعہ موضوع) ہوتے ہیں، یہ وہ پکے عقیدے ہیں جو بتاتے ہیں کہ بعض طرز عمل غلط بلکہ قابلِ نفرت ہیں۔

بنیادی طور پر ٹیبو ممنوعہ سماجی کنٹرول کی ایک قسم ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کون سے طرز عمل قابل قبول ہیں اور کون سے نہیں۔

ٹیبو ثقافت کا ایک بڑا حصہ ہیں اور ایک معاشرے میں قابل نفرت سمجھی جانے والی چیز کو دوسرے معاشرے میں روزمرّہ کے عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

کزن سے شادی دنیا بھر میں کافی عام ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور شمالی افریقہ کے ممالک میں۔

دنیا کے تقریباً 10 فیصد خاندان ایسے جوڑوں پر مشتمل ہیں جو ایک دوسرے کے کزن ہیں۔ یہ دنیا کے 750 ملین سے زیادہ افراد ہیں۔

اگر آپ یہ دیکھنے کے لیے دنیا کے نقشے پر نظر ڈالتے ہیں کہ کزن سے شادی کہاں قانونی ہے، تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، افریقہ کے کچھ حصوں اور ایشیا میں اس کی اجازت ہے۔

لیکن امریکی کزن میرج کے قوانین کا نقشہ ایک پیچ ورک کیے ہوئے لحاف کی طرح لگتا ہے۔

نیویارک، کیلیفورنیا اور فلوریڈا سمیت کچھ ریاستوں میں آپ بغیر کسی پابندی کے اپنی پہلی کزن سے شادی کر سکتے ہیں لیکن بہت سی دوسری ریاستوں میں، جیسے ویسٹ ورجینیا، کینٹکی اور ٹیکساس، کزن سے شادی مکمل طور پر ممنوع ہے۔

پھر اس کے علاوہ وہ ریاستیں ہیں جو کزنز کے درمیان شادی کی اجازت دیتی ہیں لیکن حدود کے ساتھ۔ ایریزونا، الینوائے اور یوٹاہ میں آپ اپنی کزن سے صرف اسی صورت میں شادی کر سکتے ہیں جب آپ میں سے کوئی ایک بانجھ ہو یا آپ دونوں کی عمریں ایک خاص حد سے زیادہ ہوں۔

اور ریاست مین میں آپ اپنی کزن سے صرف اسی صورت میں شادی کر سکتے ہیں جب آپ نے جینیاتی مشاورت حاصل کر لی ہو۔

جینیاتی مشاورت کیوں؟ اگر امریکیوں سے پوچھا جائے کہ کزن میرج کیوں غلط ہے تو زیادہ تر یہی کہیں گے کہ اس جوڑے کے بچوں کو جینیاتی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

لیکن کیا یہ سچ ہے؟

ایک جیسے جینز کو ساتھ ملانے کا خطرہ

نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کی جینیاتی ماہر وینڈی چنگ جینیاتی ڈس آرڈرز (عارضوں) پر تحقیق کرتی ہیں، یعنی جب ڈی این اے غیر معمولی یا خراب ہونے کی کچھ علامات ظاہر کرتا ہے۔

چنگ جینیاتی عارضوں میں مبتلا خاندانوں کی کونسلنگ اور علاج بھی کرتی ہیں۔

چنگ کہتی ہیں کہ ’میرے لیے جینیات انتہائی منطقی ہے۔ اور سائنس کو سمجھنے اور لوگوں، متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے کے قابل ہونا بہت اطمینان بخش کام ہے۔‘

جب ایک جنین رحم میں بڑھتا ہے، تو ایسے بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں جو جینز بدل سکتے ہیں اور خرابی پیدا کر سکتے ہیں۔

پیدائشی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں، جیسے کہ جب جسم کا کوئی حصہ متوقع طریقے سے نہیں بڑھتا۔ اس کی ایک مثال پیدائشی طور پر پھٹا یا کٹا ہوا ہونٹ ہے۔

Genetic counseling seeks to determine if there are abnormal genes that can lead to malformations in children.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجینیاتی کونسلنگ سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ جینیاتی غیر معمولی پن سے بچوں میں کچھ پیدائشی خرابی پیدا ہو سکتی ہے یا نہیں

فرسٹ کزن کی اولاد میں جینیاتی بیماری کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں کیسی ہے؟

چنگ کہتی ہیں کہ ’بس بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کرنے سے ہی آپ میں بنیادی قسم کے مسائل میں سے ایک کا خطرہ تین اور چار فیصد کے درمیان شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ فرسٹ کزنز میں یہ خطرہ دوگنا ہوتا ہے۔‘

آپ کے اپنے حالات کے مطابق ایسی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے آپ اپنی کزن سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

سب سے پہلے خاندان میں دولت رکھنے کا خیال اور پھر یہ کہ آپ ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں۔

آپ میں سے جو لوگ خاندان کی طے کی ہوئی شادی کے بندھن میں بندھے ہیں، وہ شاید کسی ایسے شخص کے ساتھ بہتر انداز سے رہ رہے ہوں جس کے ساتھ آپ نے خاندانی ملاپ کے کئی سال گزارے ہیں، نسبتاً اس مرد یا عورت کے جس کے ساتھ آپ نے صرف چند ملاقاتیں ہی کی ہوں۔

یورپ اور امریکہ میں کزن کے درمیان شادی بہت عام ہوا کرتی تھی۔ چارلز ڈارون، ایڈگر ایلن پو اور البرٹ آئن سٹائن جیسے لوگوں نے اپنی پہلی کزن سے شادی کی تھی۔

اور یہ صرف دور دراز ماضی میں نہیں ہے۔ نیویارک کے سابق میئر روڈولف جیولیانی کی پہلی بیوی ان کی سیکنڈ یا دور کی کزن تھیں۔

غیر معمولی یا خراب جینز

عام طور پر کزنز کے درمیان شادی کافی محفوظ ہوتی ہے لیکن بعض مخصوص آبادیوں یا خاندانوں میں زیادہ خطرات ہو سکتے ہیں۔

چنگ کا کہنا ہے کہ یہ جینیاتی حالات پر منحصر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کچھ حالتیں ایسی ہوتی ہیں جہاں کسی چیز کے ہونے کے لیے دو کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کے پاس آپ کے جین کی دو کاپیاں ہیں، ایک آپ کی ماں کی طرف سے اور ایک آپ کے والد کی طرف سے، اور کچھ بیماریوں کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی جین کی دونوں کاپیوں میں جینیاتی تبدیلیاں ہوئی ہوں۔‘

ماہرِ جینیات کہتی ہیں کہ اگر آپ کے پاس وہ جین 50 فیصد کام کر رہی ہے، تو آپ کا کام پھر بھی چل سکتا ہے۔ لیکن جب آپ کی 100 فیصد ابنارمل یا غیر معمولی ہوتی ہے، تو ہی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

جب چنگ غیر معمولی رویے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، تو وہ آٹوسومل ریسیسیو کنڈیشنز کے بارے میں بات کر رہی ہوتی، اور یہ ہزاروں اقسام کی ہیں۔

کچھ کافی معروف اور سنجیدہ ہیں، جیسے سِکل سیل انیمیا، سسٹک فائبروسس یا سپائنل مسکیولر ایٹروفی وغیرہ۔

Elsa y Albert Einstein.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایلا آئن سٹائن اور البرٹ آئن سٹائن کزنز تھے اور ان کے بچے نہیں تھے

دنیا میں اکثر لوگ کچھ غیر معمولی ریسسیو جینز بھی رکھتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایک غیر معمولی کاپی ہے، تو آپ ٹھیک ہیں، لیکن اگر آپ کے پاس دو غیر معمولی کاپیاں ہیں، تو آپ میں خرابی ہو سکتی ہے۔

اس لیے ریسسیو ڈس آرڈر کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کی شادی آپ کی کزن کے ساتھ ہی ہوئی ہو۔

تاہم چینگ کہتی ہیں کہ ’جب آپ اپنی جینیاتی معلومات کا 12.5 فیصد اپنے ساتھی کے ساتھ بانٹتے ہیں، تو اس بات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ آپ دونوں ایک ہی جین کے اندر تبدیلی لاتے ہیں جو آپ کو مشترکہ آباؤ اجداد سے وراثت میں ملی ہے۔‘

کیا ہو اگر وہ دونوں ایک ہی جینیاتی حالت کے کیریئر ہوں؟

اس وقت اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ بچہ جینیاتی عارضے کے ساتھ پیدا ہوگا۔

نسلی خاندان

کزن کی شادی میں جینیاتی خطرے کا تعیّن کرنے کے لیے چنگ کہتی ہیں کہ ہم صرف اس جوڑے یا خاندان کو نہیں دیکھ سکتے۔

’یہ صرف فرسٹ کزن میرج کا معاملہ نہیں ہے، یہ دراصل آبادی کے بڑے تناظر میں ہے جس میں یہ ہو رہا ہے۔‘

’بعض برادریوں میں نسلوں سے باہمی شادیاں ہوتی رہی ہوں گی۔ چاہے وہ جزیرہ ہو، قصبہ ہو یا شہر، بعض جینز میں بعض جینیاتی تغیرات کی نسبتاً زیادہ فریکویسنی ہو سکتی ہے جو بیماری کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔

بعض شاہی خاندانوں میں یہ اقتدار کو برقرار رکھنے یا خاندان کے اندر دولت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ صرف آپ کی جینیاتی معلومات کے 12.5 فیصد حصے کو شیئر کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔

’حقیقت میں، آپ ممکنہ طور پر متعدد نسلوں سے تعلقات کی وجہ سے اپنی جینیاتی معلومات کا ایک بہت بڑا حصہ بانٹ رہے ہیں۔‘

Regina Peruggi y Rudolph Giuliani
،تصویر کا کیپشنریجینا پیروگی، رڈولف کی سیکنڈ کزن ہیں۔ وہ 1968 سے لے کر 1982 تک شادی کے بندھن میں رہے تھے اور پھر علیحدہ ہو گئے تھے۔ ان کی بھی کوئی اولاد نہیں ہے

چنگ کہتی ہیں کہ جب کسی آبادی میں ماضی میں کزنز کے درمیان بہت سی شادیاں ہوتی رہی ہوں، تو وہاں جینیاتی عارضوں میں مبتلا بچے پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

لیکن جب کزنز کے درمیان بہت زیادہ شادیاں نہ ہوں تو یہ خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔

جینیاتی ماہرین کزنز کے درمیان تمام شادیوں کے متواتر خطرے کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ہر خاندان اور ہر جوڑا مختلف ہوتا ہے۔

ایک جوڑے کو درپیش خطرے کا تعین کرنے کے لیے ایک جینیاتی ماہر کو ان کے جینز دیکھنے کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ دونوں ایک جیسی ابنارمیلیٹیز (جسمانی معذوری یا غیر معمولی پن) رکھتے ہیں۔

یہ خاص طور پر ان برادریوں میں اہم ہے جہاں اس طرح کے عارضے سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں، جیسا کہ نیویارک میں الٹرا آرتھوڈوکس (حد سے زیادہ قدامت پسند) یہودی جن کے ساتھ چنگ کام کرتی ہیں۔

چنگ کہتی ہیں کہ کمیونٹی کے ایک رکن، ربی ایکسٹین، بدقسمتی سے اس وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ ان کے کئی بچے ٹے سیکس Tay-Sachs بیماری میں مبتلا تھے، جو کہ ایک مہلک بیماری ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

’آج تک ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں ہے اور بچے 5 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور یہ جاننا ایک قسم کا داغ ہو سکتا ہے کہ آپ کو Tay-Sachs ہے۔ اگر آپ کے خاندان میں یہ ہے تو آپ کو برادری میں شادی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘

میچ میکنگ وہ طریقہ ہے جس سے اس کمیونٹی میں زیادہ تر شادیاں کی جاتی ہیں اور وہ ثقافتی عمل Tay-Sachs کے مسئلے کو حل کرنے کا ایک موقع بن گیا۔

ربی ایکسٹین نے نوجوانوں کے لیے ایک منصوبہ بنایا کہ وہ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے جینیاتی جانچ کرائیں۔ Tay-Sachs کے متاثرین کا رشتہ صرف غیر متاثرین سے ہو گا۔

Edgar Allan Poe y Virginia Clemm.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایڈگر پو اور ورجینیا کلیم بھی فرسٹ کزنز تھے اور ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی

چنگ کہتی ہیں کہ ’ثقافتی طور پر اسے بہت اچھی طرح سے قبول کیا گیا ہے، اچھی طرح سے سمجھا گیا ہے، اور یہ پروگرام اب قدامت پسند یہودی کمیونٹی کے لیے حقیقت میں تبدیلی کا باعث بن گیا ہے، اس لیے کہ ہمیں واقعی اس میں Tay-Sachs نظر نہیں آتا۔‘

لہذا اگرچہ کزنز کے درمیان شادی کچھ برادریوں میں خطرناک ہو سکتی ہے، لیکن عام طور پر یہ خطرہ عام آبادی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اور سائنس (جینیاتی کونسلنگ اور وٹرو فرٹیلائمیشن) کی مدد سے کمیونٹیز ان متروک جینوں کے خطرے کو مزید کم کر سکتی ہیں۔

’اسے معمول سمجھ کر قبول نہیں کیا جاتا‘

مونا چالبی اپنے پوڈ کاسٹ میں کہتی ہیں کہ کزن سے شادی کے جینیاتی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اور جدید سائنس کے ساتھ، کزن میرج شاید پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔

امریکہ میں کزنز کی شادی پر زیادہ تر پابندیاں 19ویں صدی کے وسط سے 20ویں صدی کے اوائل تک لاگو ہوئی تھیں۔

لیکن ٹیکساس میں یہ پابندی نسبتاً حالیہ ہے۔ اسے 2005 میں لاگو کیا گیا تھا۔ یہ ایک بنیاد پرست مورمن فرقے کی آمد کے ردعمل میں تھی جو بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے لیے مشہور تھا۔

Emma Wedgwood y Charles Darwin.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایما ویج وڈ اور ان کے کزن چارلز ڈارون اپنی جوانی میں۔ ان کے دس بچے تھے

وہاں کزنز کی شادیوں کو چائلڈ میرج میں شامل کر دیا گیا۔ بل کی تجویز پیش کرنے والے ریاستی نمائندے نے کہا کہ ’کزنز کی شادی بالکل اسی طرح نہیں ہو سکتی جس طرح بہن بھائیوں کی شادی نہیں ہوتی اور جب ایسا ہوتا ہے تو آپ کے لیے برا نتیجہ نکلتا ہے۔ اسے عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔‘

ٹیکساس کا قانون کزن کی شادی کے بدنما داغ کو ظاہر کرتا ہے اور ٹیبوز کو نافذ کرتا ہے۔

مونا چلیبی سوچتی ہیں کہ ٹیبوز سے کسے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ واقعی کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ وہ کہتی ہیں کہ کزنز میرج بڑی حد تک غیر سفید فام ثقافتوں میں رائج ہے اور اس کے خلاف تعصب محض نسل پرستی ہے۔

اگر عرب، شمالی افریقی اور جنوبی ایشیائی ایسا کرتے ہیں، تو کچھ لوگ اسے انتہائی نامناسب سمجھیں گے۔

لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے کزن کو پسند کرتے ہوں، اور ہو سکتا ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد آپ اس سے ڈیٹ پر باہر جانے کا بھی کہہ دیں۔