بچوں کی جینیاتی ایڈٹنگ ٹیکنالوجی ابھی استعمال کے قابل نہیں: ماہرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک بین الاقوامی کمیٹی کا کہنا ہے کہ جینیاتی طور پر بچوں کی ایڈٹنگ کرنے کی ٹیکنالوجی ابھی استعمال کے لیے محفوظ نہیں ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے والدین سے بچوں میں جینیاتی بیماریاں منتقل ہونے کو روکا جا سکے گا۔
دنیا میں پہلی مرتبہ جینیاتی طور پر ایڈٹ شدہ بچے چین میں پیدا کیے گئے تھے۔ تاہم عالمی سطح پر اس حوالے سے شدید منفی ردعمل کے ساتھ ساتھ ذمہ دار سائنسدان کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ہی یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اب بیشتر ممالک میں اس سے متعلق ممانعت کے قوانین موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بچوں کی جینیاتی طور پر ایڈیٹنگ متنازع کیوں ہے؟
جین ایڈیٹنگ ممکنہ طور پر بہت ساری بیماریوں کو نسل در نسل منتقل ہونے سے روک سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایک ایمبریو کو جینیاتی طور پر ایڈٹ کرنے سے ان دیکھے نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے اور یہ نقصانات ایک فرد کو نہیں بلکہ اگلی نسلوں تک جا سکتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی ایک مثال کریسپر ٹیکنالوجی ہے جو کہ سنہ 2012 میں ایجاد کی گئی۔ کریسپر ٹیکنالوجی کی مدد سے جینوم کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مولیکیولر سطح پر خراب ڈی این اے کو کاٹ دیا جاتا ہے۔
اگرچہ لیب میں یہ کام صحیح کرنے والی ٹیکنالوجی ہے تاہم ممکن ہے کہ یہ تھوڑا سا زیادہ ڈی این اے عملی طور پر کاٹ دے۔ اس غیر ارادی ایڈٹنگ کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جیسے کہ کینسر۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
اس حوالے سے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ میں امریکہ اور برطانیہ سمیت دس ممالک کے ماہرین شامل ہیں۔
رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ:
- معاشرے میں اس حوالے سے ابھی تفصیلی بحث کی ضرورت ہے کہ کیا ایسی تبدیلیوں کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں
- اگر یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر محفوظ اور مؤثر ثابت ہو جاتی ہے تو ابتدائی طور پر اسے صرف انتہائی خطرناک جان لیوا امراض کے تناظر میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
- اس کے ہر مرحلے پر انتہائی سخت نگرانی ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی غیر ارادی نقصان کو معلوم کی جا سکے اور ایسے بچوں کی ماں کے پیٹ میں شدید نگرانی کی جانی چاہیے۔
- ایسے بچوں کی پیدائش کے بعد میں بہت زیادہ نگرانی لازمی ہونی چاہیے۔
- ایک بین الاقوامی مشاوراتی کونسل تشکیل دی جانی چاہیے جو اس حوالے سے تحقیق کی متواتر نگرانی کرے۔










