اطالوی خاتون نے خود سے شادی کرلی!

،تصویر کا ذریعہMICAELA MARTINI
ایک اطالوی خاتون نے ایک پرتعیش تقریب میں اپنے آپ سے خود ہی شادی کر لی ہے۔ تقریب میں روایتی سفید جوڑا، تین منزلہ کیک، برائڈ میڈز اور ستر مہمان شامل تھے۔
چالیس سالہ فٹنس ٹرینر لائرہ میسی نے کہا ’میرا ماننا ہے کہ ہم سب کو پہلے خود سے پیار کرنا ہوگا۔ آپ سپنوں کے راجے کے بغیر بھی فری ٹیل مکمل کر سکتے ہیں۔‘
اس شادی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
مگر یہ اس بڑھتے ہویے رجحان کی علامت ہے کہ بہت سے لوگ اب خود سے شادی کرنے لگے ہیں۔ اس عمل کو ’سولو گیمی‘ کہا جا رہا ہے۔
اس طرح کی تقاریب کے حمایتی کہتے ہیں کہ خود سے پیار کرنے اور خود کو پسند کرنے کا معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس سماجی عزت حاصل کرنے کی کوشش ہے جو عموماً شادی شدہ جوڑوں کے لیے مختص ہوتی ہے۔
کائرہ کا کہنا ہے کہ خود سے شادی کرنے کا خیال انھیں دو سال پہلے آیا جب ان کا ایک بارہ سال طویل ریلیشنشپ ختم ہوا۔

،تصویر کا ذریعہMICAELA MARTINI
ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے عزیز و اقارب سے کہا تھا کہ اگر 40 سال کی عمر تک مجھے کوئی نہ ملا تو میں خود سے ہی شادی کر لوں گی۔‘
’اگر کسی دن مجھے کوئی مرد ملتا ہے جس کے ساتھ میں اپنا مستقبل پلان کر سکتی ہوں تو بہت اچھی بات ہے مگر میری خوشی اس پر منحصر نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلی اطالوی خاتون ہیں جس نے خود سے شادی کی ہے۔ مئی میں ایک اطالوی مرد نولو ریگوئیرہ نے ناپولی میں خود سے شادی کی تھی۔
2014 میں ایک جاپانی ٹریول ایجنسی نے غیر شادی شدہ خواتین کے لیے عروسی تقریبات کا پیکج آفر کرنا شروع کیا تھا۔ یاد رہے کہ خود سے شادی کرنے کی اطلاعات 1993 سے سامنے آ رہی ہیں۔ اس موضوع کو کئی کتابوں اور ٹی وی شوز میں چھوا گیا ہے۔
امریکہ میں ایک ویب سائٹ ’آئی میریڈ می‘ سیلف ویڈنگ کٹز فراہم کرتی ہے۔ کینیڈا میں ایک ایجنسی ’میری یوئر سلف وینکور‘ ایک سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ’سنگل ہی نیا نارمل ہے۔ اپنے غیر شادی شدہ ہونے کا جشن منائیں۔‘
مگر اس رجحان کو ہر کوئی خوش عین نہیں سمجھتا اور کچھ لوگ اسے خود نمائی کہتے ہیں جبکہ دیگر اسے شادی پر بے جا اصرار قرار دیتے ہیں۔
لائرہ کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ایسے پیغام بھی بھیجے ہیں کہ ’تم پاگل ہو۔‘ یا ’صد افسوس!‘
گذشتہ ماہ خود سے شادی کرنے والی ایک برطانوی خاتون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں ’افسوس ناک فیمنسٹ‘ پکارتے ہیں۔








