’ایک ڈالر میں شادی‘ پر داد تحسین

ایک کینیائی جوڑے کو اپنی شادی کی تقریب پر 'ایک ڈالر خرچ' کرنے پر لوگوں کی جانب سے داد تحسین کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔
وہ اپنی شادی کے اخراجات پورا نہیں کرسکے اور اس جوڑے نے سادہ لباس میں شادی کی۔
ولسن اور این موتورا نے سنہ 2016 میں دو بار اپنی شادی کی تقریب معطل کی کیونکہ وہ اس پر خرچ کرنے کے لیے 300 امریکی ڈالر جمع نہ کر سکے تھے۔
رواں سال انھوں نے کم از کم بجٹ میں شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
دولہے نے شادی کے لیے دو انگوٹھیوں پر صرف ایک امریکی ڈالر خرچ کیا تھا۔
شادی کی تقریب کا دیگر خرچ اور لائسنس فیس چرچ نے ادا کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آن لائن بے شمار افراد نے ان کے اس فیصلے کی تعریف کی اور اپنی رائے کا اظہار کیا کہ آج کل شادیاں بہت زیادہ مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔
27 سالہ ولسن اور 24 سالہ این کی رومانوی کہانی نے بہت سارے کینیائی باشندوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
تین سال تک ایک دوسرے کے ساتھ ڈیٹنگ کے بعد انھیں اپنے اس تعلق میں سب سے بڑی مشکل کا سامنا رقم کی کمی کی صورت میں کرنا پڑا تھا۔
گذشتہ سال دوستوں اور رشتے داروں سے تعاون کی درخواستوں سے بھی رقم جمع نہ ہوسکی۔
ولسن نے بی بی سی کو بتایا ان کی بڑے بھائی نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ شادی کے بجائے این کے ساتھ بغیر شادی کے ہی رہنا شروع کر دیں۔
لیکن پھل فروخت کرنے والے اس شخص اور ان کی منگیتر کو یہ فیصلہ قبول نہیں تھا اور وہ مستقل رشتہ قائم کرنا چاہتے تھے۔
نیروبی میں ہونے والی اس شادی میں کیک تھے نہ پھول اور نہ ہی کسی قسم کی آرائش۔
دولہا، دلہن نے سادہ سی جینز، ٹی شرٹ اور ٹریننگ شوز پہنے ہوئے تھے۔ ان کا کل سرمایہ دو چمکیلے سٹیل کے بنے ہوئے رنگ تھے جنھیں شادی کی انگوٹھی کے طور پر استعمال کیا گیا۔
اس شادی کے بارے میں آن لائن لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی تعریف کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نیروبی نیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے جے کین نے لکھا کہ 'کس نے کہا ہے کہ ہم بڑے بجٹ سے شادیوں کو پیچیدہ بنا دیں؟'
ڈینیئل وفولا نے ٹوئٹر پر لکھا: 'یہ شاندار ہے۔ اس سے اہم یہ ہے کہ یہ ایک شادی ہے۔'
بیٹرس اولو نے فیس بک کر لکھا: 'اس شادی میں کچھ نہیں تھا لیکن ان کی شادی خوبصورت ہوگی۔'
مارٹن مونگی نجوروج نے لکھا کہ 'اگر دونوں خاندان متفق ہیں تو اس کو سادہ ہی رکھیں۔ اس سے نوجوانوں پر کم بوجھ پڑے گا۔'
آن لائن اس ردعمل پر یہ جوڑا مسحور ہے اور انھیں مختلف لوگوں اور کمپنیوں کی جانب سے تحائف بھی مل رہے ہیں۔
ایک ٹریول ایجنسی کی جانب سے انھیں پانچ دن کی چھٹیوں کا پیکج بھی دیا گیا ہے اور وہ جلد ہی ہنی مون پر روانہ ہوں گے۔










