بائی پولر ڈس آرڈر: معاشرتی رویے بدلنے والا آن لائن گروپ جس نے لوگوں کو خودکشی سے بچا لیا

Representative image: bipolar disorder

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناعداد و شمار کے مطابق 0.3 فیصد انڈین بائی پولر ہیں

بائی پولر ڈس آرڈر کے ساتھ جینا آسان نہیں۔ کئی لوگ اس حالت کو سمجھ نہیں پاتے جس کے نتیجے میں مریض کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اروشی سرکاری بتاتی ہیں کہ انڈیا میں ایک آن لائن کمیونٹی ایسے رویوں کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وجے نلا والا 40 برس کے تھے جب اُن کے خاندان نے محسوس کیا کہ ان کے ساتھ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اچانک پُرجوش ہو جاتا تھا۔ اور پھر میں اچانک ہی ڈپریشن کا شکار ہو جاتا تھا، رات کو بیت الخلا جانے کے لیے اٹھتا تو مایوس کن شاعری لکھنے بیٹھ جاتا۔ میرے مزاج میں یہ بدلاؤ بہت اچانک ہوتے تھے۔‘

وجے کا کہنا ہے کہ اُن میں یہ علامات 14 برس کی عمر سے ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ ’کوئی نہیں جانتا تھا مسئلہ ہے کیا، سوائے اس کے کہ کچھ غلط ضرور ہے۔‘

انھوں نے اس وقت بھی طبی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن سنہ 2003 میں ان میں بائی پولر ڈس آرڈر کا انکشاف ہوا۔ یہ وہ حالت ہے جس میں لوگ بدلتے مزاج کی شدید حالتوں سے گزرتے ہیں۔ لوگوں کو ڈپریشن کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ بہت مایوسی اور کاہلی محسوس کرتے ہیں، یا پھر وہ جنونی ہو جاتے ہیں، یا بہت زیادہ متحرک۔

وجے اب 60 سال کے ہیں اور ان کے بقول وہ گذشتہ پانچ یا چھ برس سے بہتر محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی مشکلات نے انھیں احساس دلایا کہ اس حالت کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

سنہ 2012 میں انھوں نے اس بارے میں بلاگ لکھنا شروع کیا۔ پھر ان کے ایک دوست نے انھیں بائی پولر انڈیا کے نام سے ایک ویب سائٹ شروع کرنے کا مشورہ دیا جو اس کیفیت کے بارے میں آگہی پیدا کرے، ذہنی صحت کے دستیاب وسائل کا موازنہ کرے اور اس حالت کا شکار دوسرے افراد کو ان کے تجربات شیئر کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرے۔ آج اس کے 500 سے زیادہ ارکان ہیں۔

Vijay Nallawala

،تصویر کا ذریعہVijay Nallawala

،تصویر کا کیپشنوجے نلا والا نے 2013 میں بائی پولر انڈیا لانچ کی

سنہ 2016 میں کیے گئے انڈیا کی ذہنی صحت کے ایک سروے کے مطابق کم از کم 0.3 فیصد انڈین بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار ہیں۔ لیکن اس سے منسلک شرمندگی اور معلومات کی کمی ایسے مریضوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے جو پہلے ہی امتیازی رویوں کا شکار ہوتے ہیں۔

انڈیا میں اس کے لیے اہل پیشہ ور افراد کی کمی کے باعث ایک لاکھ افراد کے لیے صرف 0.75 ماہرین نفسیات موجود ہیں جو اس معاملے کی سنگینی کو بڑھاتا ہے۔

بائی پولر انڈیا بنانے کے نو برس بعد اب وجے اپنے دن کا ایک حصہ اس گروہ کے ٹیلی گرام گروپ میں آنے والے پیغامات کو پڑھنے میں صرف کرتے ہیں۔ اس میں تمام بڑے شہروں کے ارکان موجود ہیں جن میں ممبئی، چنئی، دہلی، بنگلور کے لوگ شامل ہیں جو باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

وجے کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں اس حوالے سے شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس حالت کا شکار افراد کو جذباتی اور کبھی کبھی مالی مدد بھی فراہم کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری برادری نے خود کشی کی نہج پر آنے والے چار معاملات میں صورتحال کو تبدیل کیا اگرچہ ہم خودکشی روکنے کے لیے تربیت یافتہ نہیں تھے۔ ایک معاملے میں ہم نے فوری طور پر ہسپتال داخل کیے جانے والے شخص کے لیے عطیات بھی اکٹھے کیے۔‘

مریض اکثر مشکلات کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ انھیں صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں ہوتی۔ انڈیا کے قوانین انشورنس کمپنیوں کو پابند کرتے ہیں کہ وہ ذہنی بیماریوں کو بھی کوریج دیں۔ لیکن وجے کہتے ہیں کہ یہ کمپنیاں کبھی کبھار ہی ایسا کرتی ہیں۔

بائی پولر انڈیا نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وجے کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ذہنی بیماری سے انسان اس وقت تک صحت یاب نہیں ہو سکتا جب اس کی بحالی پر کام نہ کیا جائے۔‘

Images depicting various moods during a mental health crisis. Woman lazy and sick and sitting on bed.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبائی پولر ڈس آرڈر کا شکار افراد وقتاً فوقتاً ڈپریشن سے گزرتے ہیں

اس گروپ نے 57 سالہ ترپتی مشرا جیسے لوگوں کی مدد کی ہے، جنھیں کم از کم 13 ڈاکٹروں سے ملنا پڑا جس کے بعد انھیں اس عارضے کی تشخیص کرنا والا معالج ملا۔

’مجھے نہیں لگتا کہ پہلے ڈاکٹرز واقعی مجھے سُن بھی رہے تھے۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور یہ کیوں ہو رہا ہے۔‘

ترپتی مشرا ریاست مغربی بنگال کے شہر درگاپور میں رہتی ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کی ایک ریٹائرڈ پروفیسر خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا خاندان انتہائی تعاون کرنے والا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ بائی پولر انڈیا میں شامل ہونے سے ان کی زندگی بدل گئی ہے۔ ’میں نے محسوس کیا کہ میں اکیلی نہیں ہوں اور یہ ایک طاقتور احساس ہے۔ میں دوسرے لوگوں سے بات کر سکتی ہوں، اس حالت سے مقابلہ کرنے کی حکمت عملی پر بات کر سکتی ہوں، اور باہمی خوف، پچھتاؤں اور عدم تحفظ کے خیالات شیئر کر سکتی ہوں۔‘

’خاندانوں میں، ان احساسات کو مکمل طور پر قبول یا تسلیم نہیں کیا جاتا۔‘ یہ گروپ دوسروں کا خیال کرنے والوں کو بھی خوش آمدید کہتا ہے۔

ممبئی کے رہنے والے ونکٹیش پرساد آئر اور ان کی اہلیہ اپنی 31 سالہ بیٹی کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جو شیزوافیکٹیو ڈس آرڈر کے ساتھ ساتھ بائی پولر بھی ہیں۔

انھوں نے بائی پولر انڈیا میں شمولیت اختیار کی، کیونکہ انھوں نے محسوس کیا کہ انھیں اپنا ’خیال رکھنا‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے محسوس کیا کہ آپ کے بچے کے جذباتی، روحانی اور مالی بحران سے نمٹنے کے علاوہ، ہمیں اپنا خیال بھی رکھنا ہے۔ دیکھ بھال کرنے والا بھی ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے لیکن ان میں اپنے بچے کے لیے مسلسل محبت اور ہمدردی کے ساتھ اور زندہ رہنے کا شوق ہونا بھی ضروری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

Venkateshprasad Narayan Iyer with his daughter

،تصویر کا ذریعہVenkateshprasad Iyer

،تصویر کا کیپشنVenkateshprasad Narayan Iyer is a caregiver to his 31-year-old daughter

لیکن مریضوں کی دیکھ بھال میں مدد کے لیے قابل اعتماد اداروں میں سستی سہولیات کی عدم موجودگی میں یہ بمشکل ممکن ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے کوئی وقتی آرام نہیں ہے۔

گڑگاؤں شہر میں مقیم دیباشیش گھوش اور ان کی اہلیہ سپریا (فرضی نام) 15 سال سے اپنی 38 سالہ بیٹی کی کُل وقتی دیکھ بھال کر رہے ہیں جسے سکٹزوفرینیا ہے۔ لیکن انھیں پھر بھی اپنی بیٹی کے ’دوسروں سے تھوڑا مختلف‘ ہونے کے ساتھ سمجھوتہ کرنا مشکل لگتا ہے۔

گھوش کہتے ہیں کہ ’وہ کرئیر، شادی اور بچے کی خواہش رکھتی ہے لیکن اس کے بدلتے مزاج اسے مستحکم ہونے سے روکتے ہیں۔ وہ چاہنے کے باوجود کما نہیں سکتی۔ ہمارے بعد اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘

ان دونوں کا کہنا ہے کہ جب سے ان کی بیٹی کے عارضے کی تشخیص ہوئی ہے، وہ دوستوں اور اہل خانہ سے ملنے سے گریز کرتے ہیں کہ وہ کہیں ان کی بیٹی کے بارے میں کچھ ایسا ویسا نہ کہہ دیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو شرمندگی کی علامت بنایا جاتا ہے کیونکہ انڈیا میں بائی پولر ڈس آرڈر اور سکٹزوفرینیا کی بات بہت کم ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ملان بالاکرشنن ایک کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ اور بامبے سائیکاٹرک سوسائٹی کے سابق سیکریٹری ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’اب ڈپریشن کے بارے میں پہلے کی نسبت زیادہ فراغ دلی اور قبولیت موجود ہے لیکن ڈپریشن کے بارے میں اس قدر عام انداز میں بات کی جاتی ہے اور ممکن ہے کہ لوگ درحقیقت اس بیماری کو سمجھتے ہی نہ ہوں جس کی بات کی جا رہی ہے۔‘

ڈاکٹر بالاکرشنن کا کہنا ہے کہ بائی پولر انڈیا جیسے اقدامات ایسے رویوں کو تبدیل کرنے میں بہت آگے جا سکتے ہیں۔

’اس طرح کے گروپس کا ایک طاقتور اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ مختلف حالات میں مدد فراہم کرتے ہیں اور ان پر نظر رکھتے ہیں کہ آیا انھوں نے دوائی لینا تو بند نہیں کر دی یا ان لوگوں کی صحت کچھ دیگر ادویات کے استعمال سے بگڑنا تو نہیں شروع ہو گئی۔ یہ چیز دیکھ بھال کرنے والوں کو بہت جلد تھکا دیتی ہے۔‘

’یہ گروپ ایسی کمیونٹیز کے لیے امید کی کرن ہے۔‘