نور مقدم قتل کیس: پاکستان میں ذہنی صحت کے علاج کا فروغ پاتا شعبہ جس کا نہ کوئی نگراں ہے اور نہ ذمہ دار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نہاں داگیا
- عہدہ, صحافی
دن بہ دن کم ہوتی اپنی خود اعتمادی کو دیکھ کر ایمن (فرضی نام) نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ان کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ان کی معالج بھی ان دنوں تعطیلات پر تھیں۔
جب اُنھوں نے اپنے جاننے والے لوگوں سے کسی اور معالج کے بارے میں دریافت کیا تو کسی نے اُنھیں ’تھیراپی ورکس‘ جانے کا مشورہ دیا۔
تھیراپی ورکس میں ہونے والے پہلے سیشن کے دوران ایمن نے وہاں موجود تھیراپسٹ کو آگاہ کیا کہ اُنھیں چیخ و پکار اور غصے سے سخت وحشت ہوتی ہے اور یہ کہ وہ اس معاملے میں کافی حساس ہیں۔
اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’غصہ مجھے بے چینی میں مبتلا کر دیتا ہے۔‘
’جب میں نے اس تھیراپسٹ کو اپنی کم خود اعتمادی کے بارے میں بتایا تو اُنھوں نے مجھے بہت غصیلے انداز میں جواب دیا۔‘
تھیراپسٹ نے پھر اُن سے سوال کیا کہ آخر وہ کیوں دوسروں کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ وہ ان کے جسم کی ساخت یا بناوٹ کو لے کر ان کے ساتھ کوئی مذاق کریں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ ’تم اپنے ساتھ ایسا کیوں کرتی ہو؟ تم نے اپنے آپ کو اتنی تکلیف کیوں پہنچائی؟‘
ایمن نے بتایا کہ شاید یہ سوال اُن کی معالج نے نیک نیتی سے کیے ہوں اور شاید وہ چاہتی ہوں کہ میرے اندر ایک بار پھر سے خود اعتمادی پیدا ہو مگر ان سوالات کی وجہ سے سحر کو لگا کہ لوگ اُن کو جو کچھ بھی کہتے ہیں اُس کی ذمہ دار دراصل وہ خود ہیں۔
26 سالہ ایمن نے بہت جلد محسوس کر لیا کہ اپنے معالج کے رویے اور غصیلے انداز کی وجہ سے وہ اُن کے سامنے اپنی بات بیان کرنے سے قاصر رہیں گی، لہٰذا صرف تین ہی سیشنز کے بعد اُنھوں نے اس تھیراپسٹ کے پاس جانا بند کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمن کی کہانی اس نوعیت کا کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ پاکستان میں کئی دہائیوں سے ذہنی صحت کے حوالے سے دستیاب سہولیات اور علاج کے شعبے کی کوئی خاص جانچ پڑتال نہیں کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں ایک نوجوان خاتون نور مقدم کے وحشیانہ قتل کے بعد اس حوالے سے مباحثہ شروع ہوا ہے اور وہ بھی اس وقت جب یہ معلوم ہوا کہ نور قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر بطور ماہر امراض نفسیات کے کام کرتا رہا تھا۔
گذشتہ کچھ برسوں میں تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات سے ذہنی صحت کے مسائل کے حل کے لیے مدد حاصل کرنے کا رواج خاصہ بڑھتا دکھائی دیا ہے، اگرچہ یہ ٹرینڈ ابھی بھی کافی حد تک کم ہے۔
تاہم بہت سے غیرتربیت یافتہ لوگ قابل و ماہر معالجین کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جو اکثر و بیشتر غلط اور خطرناک رائے دے کر دوسروں کی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
سائیکاٹری کا شعبہ ملک میں طبی سہولیات کے نگراں ادارے پاکستان میڈیکل کمیشن کے زیر انتظام کام کرتا ہے تاہم کمیشن کے نائب صدر علی رضا کا کہنا ہے کہ اُن کے یہاں اب تک کسی بھی ماہرِ نفسیات کے خلاف کوئی بھی شخص شکایت لے کر نہیں آیا۔
اُن کے مطابق ’جہاں لوگ ذہنی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں وہاں ظاہر ہے وہ شکایت درج کروانے سے بھی کتراتے ہوں گے۔‘
اسلام آباد میں قائم ’یونیسیف مینٹل ہیلتھ اینڈ سائیکوسوشل سپورٹ سروسز‘ کی روح رواں ڈاکٹر اسما ہمایوں کا ماننا ہے کہ کم علمی کی وجہ سے کوئی بھی شخص معالج کی جانب سے کیے جانے والے علاج پر تنقید کرتے ہوئے گھبراتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت سائیکولوجسٹس کو کام کرنے کی اجازت یا لائسنس فراہم کرنے کا کوئی بھی ادارہ موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے ماہرین امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن اور برٹش سائیکولوجیکل سوسائٹی سے رجوع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اُنھیں ’سائیکولوجسٹ‘ کا ٹائٹل دینے کے لیے کم سے کم پی ایچ ڈی کے لیول کی تعلیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
تاہم پاکستان میں غیر تربیت یافتہ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل افراد یہ ٹائٹل اپنے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں اس بات سے قطع نظر کے ان کے پاس اس شعبے میں مہارت کا شدید فقدان ہوتا ہے۔
ان میں سے بیشتر افراد نفسیاتی مسائل کا علاج مثلاً کونسلنگ وغیرہ تو دور، اس کی تشخیص تک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اسی طرح بہت سے ماہرینِ نفسیات برٹش ایسوسی ایشن فار کاؤنسلنگ اینڈ سائیکو تھیراپی (بی اے سی پی) کا رُخ کرتے ہیں۔
صحافی نیہا داگیہ کو بھیجے گئے اپنے جواب میں بی اے سی پی نے تصدیق کی ہے کہ اُن کے پاس پاکستان کے لیے نہ تو منظور شدہ کورسز ہیں اور نہ ہی کوالیفیکیشنز۔ اُن کے مطابق ’پاکستان میں ہمارے ادارے کا کوئی تنظیمی ممبر تک موجود نہیں ہے۔‘
یہ حقیقت تھیراپی ورکس اور سی پی پی ڈی پاکستان کے اُن دعوؤں کی قلعی کھولتی ہے کہ وہ پاکستان میں بی اے سی پی سے منظور شدہ ڈپلومہ کورسز کرواتے ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں ہی اسلام آباد انتظامیہ نے نور مقدم قتل کیس کے سلسلے میں تھیراپی ورکس کے دفاتر کو سیل کر دیا تھا۔ البتہ اس تنظیم کے دیگر شہروں میں قائم دفاتر اب تک کام کر رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سی پی پی ڈی پاکستان کے ایک پارٹنر اس بات پر مُصر تھے کہ اُن کا ادارہ بی اے سی پی کا تسلیم شدہ ایڈوانس ڈپلومہ فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
البتہ بی اے سی پی نے وضاحت کی کہ سی پی پی ڈی کا برطانیہ سے جاری ہونے والا ’ہیومینسٹک اینٹیگریٹو کاؤنسلنگ ایڈوانس ڈپلومہ‘ اُن کی جانب سے منظور شدہ ہوتا ہے مگر جب یہی ڈپلومہ جب پاکستان سے دیا جاتا ہے وہ قطعاً ان کے ادارے سے منظور شدہ نہیں ہوتا۔
سی پی پی ڈی کے پارٹنر نے ایک دن بعد ہی اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے ہم سے رابطہ کر کے کہا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ سی پی پی ڈی لندن سے پیشگی منظوری لیے بغیر کوئی بھی بات کریں۔
اُنھوں نے یہ بھی درخواست کی کہ ان کا نام نہ ظاہر کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آغا خان یونیورسٹی کراچی کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر مراد موسیٰ خان کا ماننا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی صحت کے ادارے، جن کی خاطر خواہ نگرانی کا نظام موجود نہیں ہے، پاکستان میں مختلف قسم کے سماجی مسائل کو جنم دے رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں مزید ذہنی انتشار پھیل رہا ہے اور نتیجتاً لوگ ماہرین کی طرف بڑے پیمانے پر رجوع کر رہے ہیں۔
'ایک بے روزگار شخص جو شدید مالی پریشانی سے گزر رہا ہو وہ یقیناً کسی کے سامنے کچھ علامات جیسا کہ سر درد، رات میں نیند نہ آنا، بھوک میں کمی، یا بے چینی کا ذکر کرے گا۔ ان علامات کی تشخیص اکثر غلط ہوتی ہے اور مریض کو بتا دیا جاتا ہے کہ اسے ڈپریشن یا اینگزائیٹی ہے۔‘
’سماجی مسائل کو پھر صحت کے مسائل سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے نام نہاد ماہرِ نفسیات اپنے مریضوں کی کمزوریوں کے متلاشی ہوتے ہیں۔ وہ مسائل کی بنیادی وجوہات کی کھوج لگانے سے قاصر ہوتے ہیں۔‘
پاکستان میں ذہنی و نفسیاتی صحت کو لے کر لوگوں میں اس کا رجحان تو بڑھا ہے مگر اس بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگوں کو نہیں معلوم کہ سائیکاٹرسٹ، سائیکولوجسٹ اور سائیکوتھیراپسٹ میں آخر کیا فرق ہے۔
ڈاکٹر مراد موسیٰ خان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ہر قسم کے لوگ آتے ہیں۔ کبھی کوئی شیزوفرینیا کا مریض آتا ہے تو کبھی کوئی بائی پولر ڈس آرڈر کا، جبکہ کبھی کبھی لوگ اپنے ساس بہو کے جھگڑے لے کر بھی اُن کے پاس حل نکلوانے کے لیے آ جاتے ہیں۔
’جب صحت کا کوئی مضبوط نظام موجود نہ ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ بنیادی صحت کا نظام ایک طرح سے چوکیداری کا کام کرتا ہے، جہاں مریضوں کے امراض کی نشاندہی ہوتی ہے اور چھوٹی بیماریوں کا علاج ہو جاتا ہے۔ اگر مرض بڑا اور پیچیدہ ہو تو دوسرے درجے پر اسے بھیجا جاتا ہے جہاں کسی بھی مرض کے ماہرین ہوتے ہیں۔ اگر وہاں بھی مرض کا علاج نہیں ہو سکتا تو پھر تیسرے درجے پر بات جاتی ہے جہاں سپیشلسٹ ماہرین اس کو دیکھتے ہیں۔‘
کورونا وائرس کی شکار ہونے کے بعد ایمن کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کچھ زیادہ اچھا محسوس نہیں کر رہیں، مگر اس بار وہ اپنے پہلے والے معالج کے پاس گئیں جو کہ اے پی اے کے ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ ایم فل کی ڈگری بھی رکھتے ہیں اور ’کوگنیٹیو بی ہیویئرل تھیراپی‘ (سی بی ٹی)، پرسن سینٹرڈ تھیراپی (پی سی ٹی)، اور سائیکوڈائینامک تھیراپی کی تربیت بھی رکھتے ہیں۔
ایمن کہتی ہیں کہ ’مگر یہ بھی ہے کہ تھیراپی ایک سست رو علاج ہے، اور کئی مرتبہ تو ایسے ہوتا ہے کہ جب آپ اپنے معالج کے سامنے اپنے صدمے کا ذکر کرنے لگتے ہیں تو اچھی تھیراپی بھی آپ کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔'
وہ کہتی ہیں کہ ذہنی مسائل سے صحتیابی کی طرف گامزن ہونے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔
’ایک اچھا معالج علاج کے رستے پر چلتے رہنے کے لیے ہمہ وقت آپ کی ہمت افزائی کرتا رہے گا۔‘

ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ ’پاکستان میں ماہرینِ نفسیات اور مختلف ادارے بڑی آسانی سے بچ جاتے ہیں اور وہ اس لیے کیونکہ دراصل تمام ہی ںفسیاتی بیماریاں جیسے کہ ڈپریشن، شیزوفرینیا یا بائی پولر اپنی کوئی جامد ساخت نہیں رکھتی ہیں یعنی سادہ الفاظ میں اُن کی تشخیص خون کے ٹیسٹ یا دماغ کے سکین کے ذریعے نہیں ہو سکتی۔ ایسے ٹیسٹ جسمانی بیماریوں کے لیے کیے جاتے ہیں، ذہنی بیماریوں کے لیے نہیں۔‘
’پھر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگوں کی کمزوریوں کے ساتھ کھیلنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ ان کو آرام سے بتا دیا جاتا ہے کہ اُنھیں ڈپریشن ہے، یا شیزوفرینیا ہے، یا یہ کہ آپ ٹراما سے گزر رہے ہیں۔ اور یہ کہہ کر اُنھیں علاج کاؤنسلنگ، دوائیوں، یا تھیراپی کی صورت میں فراہم کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص برے حالات سے گزر رہا ہو جس کا حل شعبہِ نفسیات میں نہ ہو بلکہ مسائل کی جڑ میں ہو جیسا کہ غربت، بے روزگاری، گھریلو تشدد یا ہراسانی وغیرہ۔‘
پاکستان عالمی ادارہ صحت کے ذہنی صحت کے ایکشن پلان 2013 تا 2030 کا دستخط کنندہ ملک ہے، البتہ اس حوالے سے ملک میں بہت کم کام ہوا ہے، اور اس کے لیے کوئی قانون سازی بھی نہیں کی گئی۔ ملک بھر میں نفسیاتی صحت کے لیے وسائل کی فراہمی پر بھی اب تک کوئی خاطر خواہ کام ہوتا دکھائی نہیں دیا۔
ڈاکٹر خان کا ماننا ہے کہ ’ایک ایسا ادارہ اب اشد ضروری ہو چکا ہے جو ماہرین کو لائسنس فراہم کرے اور معاملات کو نگرانی میں رکھے، تاکہ عوام میں آگاہی کا کام ہو سکے۔‘
ملک میں موجود کئی تنظیمیں جیسا کہ پاکستان سائیکولوجیکل ایسوسی اشن، پاکستان ایسوسی ایشن آف کلینکل سائیکولوجسٹس، پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی اور بورڈ آف مینٹل ہیلتھ پروفیشنلز گذشتہ برسوں میں منظر عام پر آئی ہیں مگر ان میں سے کسی کے پاس بھی یہ اختیار نہیں کہ نفسیات کے شعبے میں درست رویوں کا نفاذ کروائے۔ ایسا صرف حکومت ہی کر سکتی ہے۔
اس حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف کلینکل سائیکولوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ثوبیہ آفتاب کا کہنا ہے کہ کچھ کلینکل سائیکولوجسٹس نے سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کو یہ تجویز دی ہے کہ کیوں نہ اس پیشے سے وابستہ لوگوں کی ایک درست تعریف بیان کی جائے۔
جب سال 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا محکمہ صوبائی حکومتوں کو تفویض کر دیا گیا تھا تب تمام صوبوں نے مینٹل ہیلتھ ایکٹ 2001 کو برائے نام تبدیلیاں کر کے اپنا لیا تھا۔
ڈاکٹر ہمایوں جو اُس وقت یہ قانون بنانے والے چند ماہرینِ نفسیات میں سے تھے، کہتے ہیں کہ یہ اب خاصا فرسودہ ہو چکا ہے۔
کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے تو شکایت کنندہ صوبائی ہیلتھ کمشنر کے پاس درخواست جمع کروا کر قانونی کاروائی کر سکتا ہے مگر اس کا دائرہ کار کسی بااختیار اتھارٹی کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت کم ہے۔
ڈاکٹر آفتاب کا کہنا ہے کہ ’صوبائی ہیلتھ کیئر کمشنر جو اسلام آباد، پنجاب یا سندھ میں بیٹھے ہیں اُن سے جعلساز ڈاکٹروں کا معاملہ اور غیر قانونی صحت کی تعلیم کے مسائل کو بھی نہیں سنبھالا جاتا۔‘
مزید برآں، ایس ایم ایچ اے کو ابھی بھی کچھ قوانین بنانے کے لیے وقت درکار ہے۔
جون کے ماہ میں پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل بل 2021 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔
وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ یہ بل تعلیمی معاملے اور لائسنس دینے کے معیار کو طے کرے گا جس میں نفسیات اور کونسلنگ کے شعبہ جات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا۔
کونسل ایک خاص نصاب اور ضروریات طے کرے گی جو کہ لائسنس کے لیے ناگزیر ہوں گی، اس میں گریجوئیشن، پوسٹ گریجوئیشن اور تربیت بھی شامل ہوں گی۔
دیکھتے ہیں کہ یہ بل پارلیمان سے کب منظور ہوتا ہے۔











