انڈیا کا ’بھوت میلہ‘ جہاں آج بھی ہزاروں لوگ جھاڑ پھونک کے ذریعے ’علاج‘ کروانے آتے ہیں

میلہ

،تصویر کا ذریعہVIKASH ARYAN

،تصویر کا کیپشن’ڈائن‘ بتا کر قتل ہونے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہیں
    • مصنف, آنند دت
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

انڈین ریاست جھارکھنڈ کے پلامو ضلع میں، چلچلاتی دوپہر اور گرمی میں گائے کے گوبر سے لگائی گئی آگ میں کوئی چاول پھینک رہا تھا اور کوئی ناریل۔

ایک طرف وہاں کالے بکرے کو لال ٹیکہ لگایا جا رہا تھا تو دوسری طرف کبوتر میں کیل چبھوئی جا رہی تھی۔ تو کسی عورت کے جسم میں دھاگا باندھا جا رہا تھا۔

اسی وقت ایک پنڈت کچھ منتر پڑھتے ہوئے مرغی کو چاول کھلا رہا تھا۔ وہاں بیٹھی عورتیں کچھ چوزے پکڑے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔

ان لوگوں کو لگ رہا تھا کہ کسی ’چڑیل‘ یا ’ڈائن‘ نے ان کے جسم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اور یہ لوگ اس کے علاج کے لیے وہاں پہنچے تھے کیونکہ وہاں 'بھوت میلہ' لگا ہوا تھا۔

یہ میلہ اس ریاست کی پولیس اور انتظامیہ کے علم میں ہے جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سات برسوں میں ’چڑیل‘ یا ’ڈائن‘ بتا کر 231 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے اور مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین ہیں۔

بھوت میلہ کب اور کہاں لگایا جاتا ہے؟

یہ میلہ پچھلی کئی دہائیوں سے چیتی نوراتری کے موقع پر لگایا جاتا ہے۔

رانچی ضلع ہیڈکوارٹر سے 252 کلومیٹر دور پلامو ضلع کے حیدر نگر میں لگنے والے اس میلے میں ہر روز ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ پولیس بھی اس تقریب کی نگرانی کے لیے تعینات تھی۔

پلامو کے ڈویژنل کمشنر جٹاشنکر چودھری کے مطابق انھیں پہلی بار یہ اطلاع ملی ہے۔

میلہ

،تصویر کا ذریعہVIKASH ARYAN

،تصویر کا کیپشنیہ میلہ پچھلی کچھ دہائیوں سے نوراتری کے موقع پر لگایا جا رہا ہے

دوسری جانب رانچی انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائیکیٹری اینڈ الائیڈ سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سبھاش سورین کا کہنا ہے کہ 21ویں صدی میں اس طرح کی تقریب کا انعقاد ہونا ہی نہیں چاہیے۔

اس میلے میں ایک عورت کو ایک اوجھا کے سامنے بیٹھا دیکھا گیا۔ وہ مسلسل گردن ہلا رہی تھی۔ مبینہ طور پر اوجھا اس کا علاج کر رہے تھے۔ پوچھنے پر انھوں نے اپنا پورا نام نہیں بتایا۔

صرف اتنا کہا کہ ان کا نام پانڈے جی ہے۔ وہ یوپی کے بنارس سے یہاں آئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ شیطان نے اس عورت کے جسم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس لیے وہ جھوم رہی ہے۔

لیکن آپ کو کیسے پتا چلے گا کہ اس عورت کے اوپر کوئی ’بھوت‘ ہے؟

اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'یہ 'ماں بھگوتی' کی مہربانی سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ بھوت ہے۔ اور یہ یہاں آنے سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ باہر نہیں معلوم کہ بھوت ہے۔‘

میلہ

،تصویر کا ذریعہVIKASH ARYAN

،تصویر کا کیپشناس میلے میں اوجھا مریضوں سے دس سے پندرہ ہزار روپے تک لیتے ہیں

'کبوتر میں بھوت سما گیا'

اسی وقت ریاست بہار کے روہتاس ضلع سے آنے والے ایک اور اوجھا سنجے بھگت کے پاس عورتوں، بچوں اور مردوں کا ایک ہجوم جمع تھا۔ سرخ دوپٹہ پہنے، آنکھوں میں کاجل لگائے سنجے مسلسل ناچ رہے تھے۔

تھوڑی دیر بعد ان کا ایک ساتھی ہاتھ میں دو کبوتر لے آیا۔ کچھ منتر پڑھنے کے بعد اس نے کبوتر کے جسم میں تین چار کیلیں چبھائیں۔ اس کے بعد اس نے اسے اڑا دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ بھوت کبوتر میں آ گیا اور اُڑ گیا۔

تاہم کبوتر زیادہ اُڑ نہیں سکتا تھا۔ وہ بمشکل پانچ میٹر پرواز کے بعد گر پڑا۔ پاس کھڑے ایک شخص نے اسے پکڑ لیا، تولیے میں لپیٹ کر آگے بڑھ گیا۔ اس کی جیب میں شراب کی بوتل تھی۔

سنجے کہتے ہیں کہ 'میں یہ کام گذشتہ 32 سال سے کر رہا ہوں۔ کبوتر نے جسم میں کیل چبھو کر اس کا علاج کیا ہے، اب وہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘ مختلف علاقوں کے لوگ بھوت سے چھٹکارا پانے کے لیے ان کے پاس آتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ سب دوا سے ٹھیک نہیں ہوتا۔

دوسری جانب ساسارام کے ایک ساتھی ماٹو چندراونشی سنجے کی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’زیادہ تر ایسے لوگ ان کے پاس آتے ہیں، جن کو ذہنی مرض ہوتا ہے۔ وہ علاج کروا کر ٹھیک جاتے ہیں۔ جادو ٹونا صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ سائنس اس کو نہیں مانتا، یقین کرو، اگر ہم سائنس کے مطابق چلیں گے تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ بھوت کا ذکر تو ویدوں میں بھی ہے۔‘

کیا آپ نے وید پڑھا ہے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'چلیے ٹھیک ہے آگے پوچھیے کیا پوچھنا ہے۔‘ پھر ماٹو سوال کرتے ہیں کہ ’اگر سائنس بھوتوں اور روحوں پر یقین نہیں رکھتی، حکومت نہیں مانتی، تو پھر اس میلے کو کیوں نہیں روکتی۔‘

میلہ

،تصویر کا ذریعہVIKASH ARYAN

،تصویر کا کیپشنیہ میلہ انتظامیہ کے علم میں ہے

ماٹو کے علاوہ سنجے کے کئی ساتھی وہاں نظر آئے جو بھوت بھگانے کے لیے آنے والے لوگوں کی بیماری کے حساب سے دس سے پندرہ ہزار روپے تک وصول کر رہے تھے۔

سنجے اپنے ساتھیوں کو کسی سے کم پیسے لینے پر ڈانٹ رہا تھا۔ مندر کے باہر پیسے کا حساب لگایا جا رہا تھا۔ تاہم علاج کا ریٹ پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ عقیدت مند اپنی مرضی سے جو کچھ دیتے ہیں وہ رکھ لیتے ہیں۔

مندر کے احاطے میں ایک مقبرہ بھی ہے۔ یہاں علاج کرنے والے عاشق علی نے بتایا کہ مزار پر تمام مذاہب کے لوگ بھوت کو بھگانے آتے ہیں۔ ’فاتحہ پڑھنے سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔‘

اتنی توہم پرستی کیوں؟

اتر پردیش سے آنے والے روشن کمار کہتے ہیں کہ ’میں پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔ اچانک میرا دماغ خراب ہو گیا۔ میں نے پاگلوں کی طرح حرکتیں کرنی شروع کر دیں کیونکہ میری چاچی نے مجھ پر بھوت چھوڑ دیا تھا۔‘

روشن اپنے گاؤں کی خاتون اوجھا منگری دیوی کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔ منگری دیوی نے ان کا علاج کیا ہے۔ دبلے پتلے جسم والے روشن نے سرکاری کالج سے ہندی اور قدیم تاریخ میں بی اے پاس کیا ہے۔

دوسری طرف سون آن ڈیہری سے آئی راج کماری دیوی کا کہنا ہے کہ ’ٹھیک ہے حکومت اس پر پابندی لگا دیتی ہے۔ لیکن کیا حکومت ہمارا علاج کرے گی؟ کیا لوگوں کو دیکھنے گھر گھر آئے گی؟ ہم مر رہے ہیں تو کیا حکومت ہماری کوئی خبر لے رہی ہے۔ ہم بھی ہسپتال جاتے ہیں وہاں ٹھیک نہیں ہوتا تو تانترک کے پاس چلتے ہیں۔‘

توہم پرستی کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ راجکماری دعویٰ کر رہی ہیں کہ انھوں نے بھوت دیکھا ہے۔

بہار کے ساسارام کے چندرما وشوکرما کا اپنا تجربہ ہے۔

چندر وشوکرما کہتے ہیں کہ 'ایک دن اچانک مجھے اپنے ہاتھ میں بجلی کے کرنٹ کی طرح جھٹکا محسوس ہوا۔ ہاتھ سُن ہونے کے ساتھ بہت بھاری ہو گیا۔ سات سال علاج کروایا، لیکن ٹھیک نہ ہوا۔ لیکن میری ایک مامی تھیں جنھوں نے تنتر منتر کیا اور میں ٹھیک ہو گیا، میں کیسے تسلیم کر لوں کہ تمام علاج دوائی سے ہوتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ بھوت ہوتے ہیں۔‘

آشا سنستھا کے سربراہ اجے جیسوال، جو گذشتہ 32 برسوں سے جھارکھنڈ میں چڑیل کے نام پر ہونے والے قتل کے خلاف کام کر رہے ہیں، ان کا تجربہ مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'جب مریض اوجھاؤں کے پاس پہنچتے ہیں تو اس دن ان کا علاج نہیں کیا جاتا۔ اگلے 10 دن کے بعد کا وقت دیا جاتا ہے۔‘

اس دوران ان کے ساتھی اس مریض کے گاؤں جاتے ہیں اور وہ سب کچھ معلوم کرتے ہیں کہ ان کے گھر میں کیا کیا ہے اور حاندان کس کو ’ڈائن‘ بتانا رہا ہے۔

پلامو کے ڈویژنل کمشنر جٹاشنکر چودھری

،تصویر کا ذریعہVIKASH ARYAN

،تصویر کا کیپشنپلامو کے ڈویژنل کمشنر جٹاشنکر چودھری کا کہنا ہے اس کے لیے بیداری مہم چلائی جانی چاہیے

ان کا کہنا ہے کہ 10 دن کے بعد جب مریض اس تانترک کے پاس پہنچتا ہے تو تانترک بغیر پوچھے ساری معلومات دینا شروع کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں مریض چونک جاتا ہے اور تانترک پر ان کا یقین پختہ ہو جاتا ہے۔

آخر یہ میلہ بند کیوں نہیں ہو رہا؟

پلامو کے ڈویژنل کمشنر جٹاشنکر چودھری بی بی سی ہندی کو بتاتے ہیں کہ ’میں نے یہ میلہ دیکھا نہیں، صرف اس کے بارے میں سنا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ برسوں سے چل رہا ہے۔ یہ توہم پرستی ہے۔ انتظامیہ کو مہم چلانا ہوگی۔ جھارکھنڈ کے علاوہ یہ مہم پڑوسی ریاستوں میں بھی چلانی ہوگی۔‘

'جہاں تک انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ سکیورٹی کا تعلق ہے، تو یہ انتظامیہ کی نگرانی میں نہیں ہو رہا بلکہ وہاں پہنچنے والے لوگوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ 'جیسے جیسے لوگوں کا تعلیمی معیار بڑھے گا، اس میلے میں لوگوں کی آمد کم ہوگی۔‘

میلے کی انتظامی کمیٹی کے سیکریٹری رام شری سنگھ کا کہنا ہے کہ اس بھوت میلے میں جھارکھنڈ کے علاوہ بہار، اتر پردیش، اڈیشہ، بنگال، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش سے لوگ آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ دوا کے ساتھ دعا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ’اگر کوئی بیماری دوائی سے ٹھیک نہیں ہوتی اور یہاں آکر ٹھیک ہوجاتی ہے تو کیا حرج ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

میلہ

،تصویر کا ذریعہVIKASH ARYAN

،تصویر کا کیپشنمیلے میں دوسری ریاستوں سے بھی لوگ پہنچتے ہیں

وہیں مقامی صحافی جتیندر راوت اس کے دوسرے پہلو پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے مطابق اسے انتظامی اور سماجی طور پر بند کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ اگر کوشش کی گئی تو بغاوت بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ اوجھا، ان کے ساتھیوں اور میلہ مینجمنٹ کمیٹی کے لوگوں کو نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔

جھارکھنڈ پولیس کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق 2015 سے 2022 تک ریاست میں ’ڈائن‘ بتا کر کل 231 لوگوں کا قتل کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ وہیں 2015 سے 2020 تک کل 4,560 مقدمات درج کیے گئے۔

ساتھ ہی، اجے کمار جیسوال کے مطابق، گذشتہ 26 برسوں میں صرف جھارکھنڈ میں تقریباً 1800 خواتین کو قتل کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت اس طرح کے واقعات کو روکنے میں ناکام ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں '2018 میں، ہم نے اپنی تنظیم 'آشا' کی جانب سے آٹھ اضلاع کے 332 گاؤں میں ایک سروے کیا، جس میں پتا چلا کہ 258 خواتین کو معاشرے نے ’ڈائن‘ قرار دیا۔‘

کیا یہ لوگ ذہنی مریض ہیں؟

جھارکھنڈ میں دماغی بیماریوں کے علاج کے لیے دو ہسپتال ہیں۔ ایک رِن پاس اور دوسرا سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکیٹری رانچی۔

فون پر بات چیت میں رن پاس کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’اگر اس طرح کی تقریب منعقد ہو رہی ہے تو حکومت کو وہاں ایک ٹیم بھیج کر دیکھنا چاہیے۔ کیا یہ واقعی دماغی صحت سے متعلق مسئلہ ہے یا یہ صرف توہم پرستی کا معاملہ ہے۔‘

ان کے مطابق 'رِن پاس میں کووڈ سے پہلے ہر سال تقریباً چار سو مریض علاج کے لیے آتے تھے۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد، مریضوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جھارکھنڈ کے علاوہ بہار، مغربی بنگال سے بھی مریض ہیں۔‘

دماغی صحت پر کام کرنے والی ایک تنظیم، ماری والا ہیلتھ انیشیٹو کے ایڈوائزری مینیجر بھاویش جھا کے مطابق 'حکومت ہند نے پورے ملک کے لیے سال 2021_ 22 میں ذہنی صحت کے لیے صرف 40 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

’اس میں سے صرف 20 کروڑ روپے ہی خرچ کیے گئے۔ اس سے حکومت کی ترجیح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جبکہ ڈبلیو ایچ او کا بھی کہنا ہے کہ کمیونٹی بیسڈ مینٹل ہیلتھ پروگرام ہونا چاہیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’دیہی علاقوں میں صحت کی دیگر سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے لوگ علاج کے لیے اوجھاؤں کے پاس جاتے ہیں۔‘

رات کے آٹھ بج چکے ہیں۔ کھیت میں لگائے گئے پلاسٹک کے خیموں میں بھیڑ جمع ہے۔ ہر تانترک کا اپنا ڈیرہ ہے۔ جن کا علاج ان تانترکوں نے کروایا ہے، وہ اینٹوں سے چولہا بنا کر کھانا پکا رہے ہیں۔

جبکہ کچھ کھلے میں ہی سو رہے ہیں۔ صبح یہ لوگ اپنے گھروں کو چلے جائیں گے، لیکن تانترکوں کے چیلے پھر نئے مریضوں کی تلاش میں لگ جائیں گے۔