قرونِ وسطی کے یورپ میں ’جادوگر‘ عورتیں: ’انھوں نے میرے آباؤ اجداد کو چڑیل کہہ کر مار دیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, پبلو اوچاؤ
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
شمال مغربی جرمنی کے ایک چھوٹے سے یونیورسٹی قصبے لمگو کی تاریخ بہت تلخ ہے۔
اور یہاں کی ایک انتہائی اہم عمارت ’ڈائن میئر ہاؤس‘ کا نام آپ کو اس کے متعلق یہ اشارہ دے سکتا ہے کہ آخر لمگو کی تاریخ تلخ کیوں ہے؟
یہ اُن ’ڈائن یا چڑیل‘ کے شکاریوں کی جانب اشارہ کرتا ہے جو 17ویں صدی کے دوران یہاں رہتے تھے اور جنھوں نے یہاں ’چڑیلوں‘ کے مقدمات کے تین ادوار دیکھے۔
سنہ 1628 کے آغاز میں تقریباً 50 برس کے عرصے کے دوران صرف لمگو قصبے میں 200 سے زائد خواتین اور پانچ مردوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔
اور ان سب میں جن کا نام سامنے آیا وہ تھیں مارگریٹ کریویٹسیک۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مس مارگریٹ کو ہاتھ کی صفائی دکھانے اور اپنے کمالات اور فن کو ایک نوجوان لڑکی کو سکھانے کے الزام میں سنہ 1653 کے موسم گرما میں گرفتار کیا گیا تھا۔
انھوں نے تشدد کے نتیجہ میں جادو کرنے کا جرم قبول کر لیا اور انھیں اسی برس دس اگست کو اتوار کے روز جلا دیا گیا تھا۔ حکام نے رعایت کے طور پر پہلے سر قلم کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
اور صدیوں تک مس مارگریٹ کی یہ ہی کہانی تھی۔ لیکن حال ہی میں ان کی اگلی نسل کے باعث مارگریٹ کی کہانی تبدیل ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خاندان کی تلاش
ایک ریٹائرڈ پولیس افسر اور ایک نووارد ماہرالانساب برنڈ کرامر کو اپنے اہلخانہ کا شجرہ نسب جانتے ہوئے یہ پتا چلا کہ ان کی بیوی اولا کا تعلق مس مارگریٹ کے خاندان کے ساتھ ہے۔
برنڈ کرامر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہمیں یہ علم ہوا کے ہمارے خاندان کے آباؤ اجداد میں ایک نام نہاد ’چڑیل‘ تھی میں ایک دم چونک گیا اور پرجوش ہو گیا۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو خاندان کا شجرہ نسب دیکھتے ہوئے میرے سامنے آئیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBernd Brammer
’میری بیوی کے ذہن میں فوراً اس بیچاری خاتون کا خیال آیا۔ لیکن ہم یہ جان کر خوفزدہ نہیں ہوئے کیونکہ ہمیں سکول کے دنوں سے علم تھا کہ ان برسوں میں یورپ میں بہت نا انصافیاں ہوئی تھیں۔‘
مس مارگریٹ پر اپنے چھ سالہ سوتیلے بیٹے کو پیٹنے اور سزا دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔
کرامر کا خاندان لمگو سے تین گھنٹے کی مسافت پر بریمرہاوین میں رہتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کی دور کی رشتہ دار کو چاہے اب جتنا بھی وقت گزر چکا ہے اس کے باوجود انصاف ملنا چاہیے۔
لہذا متعدد صدیاں گزرنے کے بعد انھوں نے سنہ 2012 میں سٹی کونسل کو ایک باقاعدہ درخواست دی جس میں کہا گیا کہ مس مارگرٹ کو عزت سے نوازا جائے۔
پانچ برس بعد ان کا اور جادو گری کرنے کے مقدمات کے دیگر متاثرین کا نام ریکارڈ سے نکال دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرامر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سوچا کہ ناانصافی کے باعث ان کا نام نکلوانا بہت ضروری ہے خاص طور پر اگر یہ نا انصافی ریاست یا کلیسا کی جانب سے کی گئی ہے، بہت زیادہ وقت گزرنے کے باوجود ان کا درست ہونا ضروری ہے۔
'ہر وہ (نا انصافی) کا مقدمہ جسے سامنے لایا گیا ماضی میں فراموش کر دیا گیا تھا۔‘
ایک بڑی جادو گرنی کی تلاش
17 ویں صدی میں میساچوسسٹں میں اور دنیا بھر میں سیلم کے مقدمات بہت مشہور ہوئے لیکن یورپ جادوگرنیوں کے حوالے سے غیر معمولی طور پر بڑا مرکز تھا۔
سیلِم میں 200 لوگوں پر الزامات لگے اور 20 نے اپنی زندگی گنوائی۔ موجودہ جرمنی میں اندازہ ہے کہ پھانسیوں کی مجموعی تعداد 25000 رہی ہوگی۔ مثال کے طور پر سوئزلینڈ کا ایک گاؤں مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ کہا جاتا ہے کہ 16ویں اور 17ویں صدی کے درمیان یورپ میں 40 ہزار سے 60 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
پروٹسٹینٹ فرقے سے تعلق رکھنے والے پادری ہارمٹ ہیگیلر اونا نامی ٹاؤن میں رہتے ہیں یہ کولون شہر سے نصف گھنٹے کی مسافت پر ہے۔
سنہ 2010 سے اب تک انھوں نے جرمنی میں جادوگرنیوں کی تلاش کے ماثرین کی مدد کی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں فادر ہیگیلر نے بتایا کہ میرے لیے یہ میرے عقیدے کے مستند ہونے کا سوال ہے۔ یسوع مسیح پر خود الزام لگا، ان پر تشدد ہوا اور انھیں مارا گیا اور ہم مسیحی یہ کہتے ہیں کہ وہ معصوم تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ وچ ہنٹ کا شکار ہونے والوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔
مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی جنگ فقط ماضی کے لوگوں کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ موجودہ دور میں بھی تشدد اور پسماندگی سے متعلق ہے۔
ایک ’جادوگرنی‘ نو سال کی عمر میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فادر ہیگیلر کہتے ہیں کہ ایک کیس سے پتا چلتا ہے کہ ایک نو سالہ بچی کرسٹین ٹائپل کو مئی سنہ 1630 میں پھانسی دی گئی۔ یہ واقعہ اوبرکرچن میں پیش آیا۔
کرسٹین نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ وہ ایک جادوگرنی ہے اور انھیں 15 لوگوں سمیت شیطان کے ساتھ ڈانس کے لیے ایک رات اٹھایا گیا۔ ان لوگوں میں چھ خواتین اور ایک لڑکی اور آٹھ مرد تھے۔
اس بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں کہ کرسٹین نے کیوں اپنی کہانی بیان کرنا شروع کی۔ اس بارے میں بہت سے تاریخ دان اسے بچوں کے ساتھ ہونے والے استحصال اور دیگر قسم کے ٹراما سے جوڑتے ہیں۔
حکام نے اسے اور دیگر 15 لوگوں کو جن کا اس بچی نے نام لیا تھا کو گرفتار کیا اور ان پر تشدد کیا۔ پھر انھوں نے دیگر لوگوں کا نام لیا۔ تین ماہ کے عرصے میں سات مقدمات درج ہوئے۔
بالآخر ان مقدمات کے نتیجے میں 58 لوگوں کو جلا دیا گیا جس میں کرسٹین کی سوتیلی ماں گریٹی اور ان کے والدین بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فادر ہیلیگر کہتے ہیں کہ اس لڑکی پر تشدد کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہے لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں ایک نو سالہ بچی بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی ہو گی جب اسے تشدد کے ہتھیار دکھائے گئے ہوں گے۔
یہ عام طریقہ کار ہے جس میں ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم سے دوستانہ انداز میں کیے جانے والی پوچھ گچھ میں انھیں تشدد کے آلات بھی دکھائے جاتے ہیں۔
جسمانی تشدد کی ایک بہت بہیمانہ قسم میں کسی کو رات بھر جگائے رکھنا اور جکڑے رکھنا بھی شامل ہے۔
ایک بہت عام طریقہ کار پانی میں ڈبکیاں دلوانا بھی ہوتا تھا۔ جب ایک کرسی سے بندھی ہوئی جادوگرنی کو پانی میں ڈبکیاں دی جاتی تھیں۔
اگر وہ پانی کی سطح پر رہتیں تو یہ سمجھا لیا جاتا تھا کہ وہ اوپر اس لیے رہیں کیونکہ انھوں نے جادو کا استعمال کیا تھا اس لیے پھر انھیں جلا دیا جاتا تھا۔
اگر وہ ڈوب جاتیں تو انھیں معصوم سمجھا جاتا جو غیر ارادی طور پر مرنا کہا جاتا تھا۔
'ناگوار ہوس‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ مردوں کو بھی جادو کے جرم میں پھانسی دی جاتی لیکن اس کا شکار ہونے والوں میں 85 فیصد سے زیادہ خواتین تھیں۔
ان پر اکثر یہ الزام لگتا تھا کہ انھوں نے شیطانوں کے ساتھ جنسی عمل کیا ہے۔
15 ویں صدی میں میلیس میلفیکارم نے جاوگرنیوں کی تلاش سے متعلق تحریر میں زیادہ زور خواتین کی شر انگیزی اور جنسی بھوک پر دیا اور انھیں نیکی اور اچھائی میں غیر اعتدال پسند مخلوق کے طور پر بیان کیا گیا۔
کلائیر مشیل ایک وکیل ہیں۔ انھوں نے سکاٹ لینڈ میں اس حوالے سے مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عورت سے نفرت کا عنصر اس دور سے موجودہ دور تک جاری ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جادو کو آج کے جدید دور میں بھی استعمال کیا جاتا ہے سماجی طور پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اور بچوں اور خواتین پر تشدد کرنے کے لیے۔
ان کی مہم میں معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ معافی نامہ اور ایک یادگار جسے ان لوگوں سے منسوب کیا جائے جنھیں سکاٹش وچ کرافٹ ایکٹ کے تحت سزا دی گئی۔ یہ ایکٹ سنہ 1563 میں نافذ العمل ہوا تھا اور 1763 تک موجود رہا۔

،تصویر کا ذریعہDundee University
حال ہی میں اس گروپ نے ان یادگاری تختیوں کے لیے مہم چلائی تھی جن کی نقاب کشائی ساحلی پٹی کے گرد کلروس کے تاریخی گاؤں میں ہوئی۔
گذشتہ برس قومی یادگار کی نقاب کشائی بھی اس مقام پر کی گئی جہاں لیلیاس ایڈی نامی خاتون دفن ہیں جو دوران حراست ہی 1704 میں انتقال کر گئی تھیں۔ اس سے پہلے ان سے زبردستی یہ اعتراف کروایا گیا تھا کہ انھوں نے ایک بھوت کے ساتھ سیکس کیا تھا۔
ان کی تصویر کمپیوٹر کی مدد سے ماہر ریسرچرز کی ٹیم نے دوبارہ بنائی ہے۔ اس ٹیم کی سربراہی ڈاکٹر کرسٹوفر ریان کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تعمیر نو جلد کی پرت تک ہوتی ہے تو یہ کچھ حد تک کسی سے ملنے جیسا ہی ہوتا ہے اور یہ آپ کو ان لوگوں کی یاد دلاتا ہے جنھیں آپ جانتے ہیں۔
میرے خیال سے لیلیاس کی کہانی میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا جس سے وہ آج کل خوفناک حالات کا شکار ہونے والی کے علاوہ کچھ اور سمجھی جاتیں۔
'شیطانی گھبراہٹ'

سکاٹ لینڈ کی ’شیطانی گھبراہٹ‘ بادشاہ جیمز ششم کے بعد شروع ہوئی۔ جو خود کو ایک ماہر جو اپنے آپ کو ماہر سمجھے اور یہاں تک کہ خفیہ معاملات پر ایک کتاب بھی لکھی ، ڈنمارک سے گھر جاتے ہوئے خاص طور پر طوفانی سمندری عبور کا سامنا کرنا پڑا۔
اس نے جادوگرنی پر خراب موسم کا الزام لگایا اور جادوگرنی کے بڑے پیمانے پر شکار کرنے کا حکم دیا۔
تقریباً چار ہزار افراد پر الزام لگا اور 2600 کو پھانسی دی گئی۔
مشیل ایک خاص کیس کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں جس سے انھیں بہت جھٹکا لگا۔ اورکنے کے جزائر جو کہ سکاٹ لینڈ کے شمال مشرقی ساحل کے ساتھ ہیں کی رہنے والی وہ خاتون اپنے گاؤں سے ایک ماہی گیر کے ہمراہ نکلی۔ ایک بار جب وہ ماہی گیر سمندر میں تھے کہ طوفان آ گیا۔
مشیل کہتی ہیں کہ اس نے بتایا کہ وہ سمندر میں گئے تو انھوں نے ایک سیل کو دیکھا۔ ان کا خیال ہے کہ سیل نے انھیں دیکھا اور انھوں نے یہ سوچا کہ یہ وہی چڑیل ہے۔
وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ چڑیل اپنی ساخت مختلف جانوروں میں بدل سکتی تھی اور یہ کافی تھا پھر اسے پھانسی دے دی گئی۔
تاریخ کو دوبارہ لکھنا

،تصویر کا ذریعہKathryn Rattray
لیکن تاریخ کو دوبارہ تحریر کرنا آسان نہیں ہے۔
جرمنی میں فادر ہیگیلر کہتے ہیں کہ کچھ مقامی حکام نے بحالی کے عمل سے انکار کیا انھیں خوف تھا کہ جادوگرنیو کی کہانیاں اس جگہ کی ساکھ اور یہاں ہونے والی سیاحت کو متاثر کرے گی۔
جرمنی کے مذہبی پیشواؤں نے ان کے اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ چرچ کو صرف سائل پر توجہ دینی چاہیے جیسا کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ اور غربت کے مسائل۔
آئرلینڈ میں متاثرین کی یاد گار کے لیے مہم اب بھی جاری ہے۔
لیکن مِس مشیل کا کہنا ہے کہ حال ہی میں غلامی کے دور کے مجسموں کو ہٹائے جانے کے لیے چلائی جانے والی مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ تاریخ کو اہمیت دیتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ لوگ جدید دور میں درست طریقے سے اپنی نمائندگی چاہتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی کہانی کو کسی اور وقت میں بیچ دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کریمرز میں اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں جاننے کی جستجو پھر سے پیدا ہوئی۔ یہ تب شروع ہوئی تھی جب برنڈ 15 برس کے تھے۔
وہ کہتے ہیں میری دادی یہودی تھیں اور وہ خوش قسمت تھیں کہ اس دور میں زندہ بچ گئیں۔ لیکن میرے پردادا اور پردادی اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔
انھوں نے پانچ سال تک اس جگہ کی تلاش کی جہاں ان کے آباؤ اجداد کی باقیات تھیں۔
سنہ 2001 میں دادا کی وفات کی چھ دہائیاں گزرنے کے بعد انھیں برلن کے قریب ایک بڑی قبر ملی۔ یہ تجربہ ان کے لیے بہت بڑا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ میں نے ان کی قبر پر دو گھنٹے گزارے میری نگاہیں وہیں مرکوز رہیں۔ جب میں ان کی تلاش کر رہا تھا تب بھی میں ان (خوفناک) چیزوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کر سکتے ہیں۔









