اندھیری سرد رات کے ساتھ ایک عفریت بھی

،تصویر کا ذریعہGAME OF THRONES
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد
امریکی ڈرامہ سیریل گیم آف تھرونز کا ساتواں سیزن مکمل ہوئے کئی روز گزر چکے ہیں اس لیے یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ جس کسی کو بھی اس ٹی وی سیریل میں دلچسپی ہے وہ یہ دیکھ چکا ہو گا۔ اس لیے اس کی کہانی اب بغیر ’سپائلرز‘ کے خطرے کے بیان کی جا سکتی ہے۔
یہ کہانی ایک ایسی تصوراتی ریاست کی ہے جس کی مختلف علاقوں اکائیوں میں مختلف خاندان (یا سیاسی گروہ) حکومت کرتے ہیں۔ مرکز میں آج کل سیاسی طور پر ایک بڑے اور مضبوط گھرانے کی حکومت ہے جسے وقتاً فوقتاً دیگر مضبوط سیاسی خانوادوں کی طرف سے انتشار کا سامنا رہتا ہے۔ اس سے پہلے مرکز میں ایک اور خاندان کی حکومت تھی اور ایک دوسرا خاندان سمجھتا ہے کہ اب مرکز میں اس کی حکومت کرنے کی باری ہے۔
ان میں سے بعض سیاسی گھرانے اچھے ہیں بعض برے۔ کہیں ظلم کی حکومت ہے اور کہیں انصاف کا بول بالا رہتا ہے۔ کوئی عیش و عشرت میں مصروف ہے تو کوئی علم و تحقیق میں۔ الغرض سب میں ملتی جلتی خصوصیات پائی جاتی ہے اور سب کا مفاد بھی ایک جیسا ہی ہے۔
وفاقی دارالحکومت پر قبضے کی لڑائی بھی ان خاندانوں یا قبیلوں یا سیاسی گروہوں کے درمیان چلتی رہتی ہے۔ کبھی ایک کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کا۔ مرکز میں کبھی ایک قابض ہوتا ہے تو کبھی دوسرا لیکن یہ اصل لڑائی نہیں ہے۔
اصل لڑائی تو اب شروع ہونی ہے۔
ساتویں سیزن کے ختم ہوتے ہوتے اس پوری ریاست ہی کی بقا خطرے میں پڑ چکی ہے۔ یہ خطرہ اس ریاست کو کسی ایک گروہ کے ظلم، نا انصافی یا عیش و عشرت سے نہیں بلکہ سرد رات سے ہے۔ یہ سرد رات نو سالہ بہار یا دوپہر کے بعد ایک بار پھر اس ریاست پر آنے والی ہے۔ کہانی میں بتایا جاتا ہے کہ آخری بار جب یہ سرد رات آئی تو دس برس تک یہاں قابض رہی تھی۔ اس دوران بھوک، افلاس اور موت نے اس ریاست پر ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ریاست کے مال و گودام جو اس سے پہلے کی بہار کے دوران بھرے گئے تھے، وہ خالی ہو چکے تھے۔
اس بار یہ اندھیری سرد رات اپنے ساتھ ایک عفریت بھی لے کر آ رہی ہے۔ یہ مافوق الفطرت مخلوق ’آرمی آف دی ڈیڈ‘ یعنی مُردوں کو فوج کہلاتی ہے۔ اس فوج سے اپنی ریاست کو بچانے کی ذمہ داری ایک سیاسی خانوادے کے سپرد ہے جو اس کہانی کا ہیرو خاندان ہے۔ اس خاندان نے ہزاروں سال پہلے سے اس ریاست کو مردوں کی فوج کے حملے سے بچانے کے لیے کئی میل اونچی اور طویل برف کی دیوار تعمیر کر رکھی ہے۔ اس دیوار کی حفاظت بھی پانچ ہزارسال سے اسی خاندان کی ذمہ داری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGame of Thrones
یہ خاندان اس دیوار کے قریب رہتا ہے اور اس کے اس پار موجود مافوق الفطرت آرمی آف دی ڈیڈ کی ریشہ دوانیوں اور منصوبوں سے چونکہ اچھی طرح باخبر ہے اس لیے وہ ریاست کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو خبردار کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ دیوار کے پیچھے کیا خطرات چھپے ہیں اور وہ ان کی ریاست پر حملہ کرنے کے کیا کیا منصوبے بنا رہے ہیں۔ ایک کے سوا تقریباً سب خاندان اس خطرے کو سمجھ چکے ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن وہ خاندان جس کے پاس سب سے بڑی فوج ہے، وہ اس اتحاد کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہے۔ اور باقیوں کا خیال ہے کہ اس خاندان کو آرمی آف دی ڈیڈ کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیے بغیر ریاست کی بقا ممکن نہیں ہے۔
اپنے طور پر یہ خاندان اور اس کا ایک مرکزی کردار ایک سے زائد دفعہ اس برف کی دیوار پار جا کر مردوں کی فوج سے ٹکر بھی لے چکا ہے۔ ایک دفعہ مر چکا ہے اور کئی مرتبہ مرتے مرتے بچ چکا ہے۔
ہزاروں سال سے ان کی ریاست پر قبضے کے منصوبے بنانے والی اس فوج کے لیڈرز وہائیٹ والکرز ہیں۔ یہ چند موفوق الفطرت لوگ ہیں جنہیں مارنا انسانوں کے بس میں نہیں ہے۔ یہ چند لوگ اس آرمی آف دی ڈیڈ کو دیوار کے اس پار ریاست پر حملے کے لیے کئی ہزار سال سے تیار کر رہے ہیں۔ یہ حملہ آور مردہ فوج اصل میں اسی ریاست کے مردہ شہری ہیں۔ اس فوج کے سربراہ میں یہ جادوئی خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ جس بھی انسان کے سر پر ہاتھ رکھ دے، اس کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور وہ آرمی آف دی ڈیڈ کا حصہ بن کر اپنی ہی ریاست کی تباہی پر تل جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGAME OF THRONES
ساتویں سیزن کی آخری قسط کے آخری سین میں مردوں کی یہ فوج ہزاروں سال سے ریاست کو ان کے حملوں سے محفوظ رکھنے والی دیوار میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ سردیاں بھی اس ریاست پر طاری ہو جاتی ہیں جس کے بارے میں ایک خاندان اپنے دیگر سیاسی خاندانوں اور اکائیوں کو تنبیہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن بیشتر نےاس کی سنی ان سنی کر دی تھی۔
اس سیریز کا آخری سیزن اگلے سال متوقع ہے۔
پاکستان میں بھی سردی کا موسم شروع ہونے کو ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس بار سردیاں پہلے سے زیادہ بے رحم ہونے کا امکان ہے۔











