’چپڑاسی نہ رکھوں‘ سے وزارت عظمیٰ کے لیے حمایت تک

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سیاست میں یہ کہا جاتا ہے کہ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہوسکتے ہیں اور سیاست کے دروازے کبھی بھی بند نہیں کرنے چاہییں۔
یہی صورت حال اس وقت سامنے آئی جب میں وزارت عظمیٰ کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار شیخ رشید کے فارم کو دیکھ رہا تھا۔
اس فارم پر تجویز کنندہ پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی تھے جبکہ تائید کنندہ حزب مخالف کی ایک اور جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیر چیمہ تھے۔
شاہ محمود قریشی جو پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن تھے اور پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک سمجھے جاتے تھے، اُنھیں بھی معلوم ہے کہ شیخ رشید احمد جب پاکستان مسلم لیگ نواز میں تھے تو وہ قومی اسمبلی میں ان کی سابق لیڈر کو کس سطح پر جاکر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
اس وقت پاکستان مسلم لیگ نواز کے لوگ اس پر بہت خوش ہوا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج وہی شیخ رشید جب نواز شریف کو ’پپو‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو لیگی رہنما برہم ہوتے ہیں۔
شیخ رشید کے فارم کو دیکھ کر میرے ذہن میں ٹی وی ٹاک شوز اور خاص طور پر ایک پروگرام میں عمران خان اور شیخ رشید کے درمیان ہونے والا مکالمہ گھومنے لگا۔
شیخ رشید کی سیاست کے بارے میں عمران خان جن کی اس وقت پاکستان کی سیاست میں شناخت نہ ہونے کے برابر تھی، کہہ رہے تھے کہ اگر شیخ رشید کامیاب سیاست دان ہیں تو ’اللہ مجھے ان جیسا سیاست دان کبھی نہ بنائے‘ جبکہ شیخ رشید احمد عمران خان کو ایک معمولی کپتان کہہ کر پکارتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
پاکستان کی پارلیمنٹ میں ایک ہی سیٹ رکھنے والی جماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے بارے میں عمران خان نے کہا تھا کہ ’ایسے شخص کو تو میں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں‘۔
تاریخ نے دن پھیرے اور آج اسی عمران خان نے پاکستان کے سب سے بڑے ایگزیکٹو عہدے یعنی وزارت عظمیٰ کے لیے شیخ رشید احمد کی حمایت کر دی اور اس پر پاکستان تحریک انصاف کے کسی بھی عہدیدار نے اُف تک نہیں کی۔
بات صرف یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ اُنھوں نے اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کو حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کو انھیں ووٹ دینے کے لیے قائل کرنے کی بھی ذمہ داری سونپ دی۔
وزیر اعظم کے عہدے کے لیے چھ امیدواروں کے کاغزات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں اور اگر حزب مخالف کی جماعتیں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے متفقہ امیدوار لانے میں ناکام ہوئیں تو شیخ رشید کم آز کم 30 سے زیادہ ووٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی شیخ رشید کو ووٹ نہیں دیں گے۔
اب تو شیخ رشید احمد یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ 55 اور 56 سے عوامی مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کے متفقہ امیدوار ہوں گے۔
سنہ 2013 کے عام انتخابات میں عمران خان قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے ان میں سے اُنھوں نے جس سیٹ کو برقرار رکھا تھا وہ راولپنڈی کی سیٹ تھی۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے یہ سییٹ شیخ رشید کے کہنے پر ہی برقرار رکھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہFAROOQ NAEEM
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سنیچر کو صوبہ خیبر پختون خوا کی مخلوط حکومت میں شامل جماعت قومی وطن پارٹی کو اس لیے صوبائی حکومت سے الگ کردیا کیونکہ اُنھوں نے پاناما کے معاملے پر تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دیا تھا۔
ان کے صوبائی وزراء کا موقف تھا کہ قومی وطن پارٹی نے پاناما کے معاملے پر ان کا ساتھ نہیں دیا جبکہ ان کا منشور بھی ان کی جماعت سے مطابقت نہیں رکھتا لہٰذا دونوں جماعتوں کا چلنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر بابر اعوان جنہوں نے ماضی میں ایک ٹی وی ٹاک شو میں عمران خان کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ کیا تھا، وہ پاناما کے معاملے کے بعد عمران خان کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں۔










