انڈیا کی ریاست اوڑیسا میں ’جادوگرنی کے شکاریوں‘ نے ماں اور چار بچوں کو قتل کر دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں پولیس ایک عورت اور اس کے چار بچوں کے قتل میں ملوث مشتبہ افراد کی کھوج میں ہے جنھوں نے اس خاندان پر جادو کرنے کا الزام لگایا تھا۔
مشرقی ریاست اوڑیسا میں پہلے ہی چھ افراد گرفتار ہو چکے ہیں لیکن پولیس کا خیال ہے کہ اس جرم میں مزید لوگ ملوث تھے۔
26 جنوری کو منگری مُنڈا اور ان کے بچوں کی لاشیں ان کے گھر کے قریب ایک کنویں سے برآمد ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا کے بعض حصوں میں اب بھی خواتین کو ’جادو گرنی‘ ہونے کے الزام میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
سینیئر پولیس افسر کویتا جالن نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جادو گروں کا توڑ کرنے والے ’عامل‘ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُس نے ضلع سُندرگڑھ کی ایک آبادی میں رہنے والی منڈا اور ان کے بچوں پر گاؤں میں بسنے والے ایک اور گھرانے پر جادو کرنے کا الزام لگایا۔
25 جنوری کی رات کو کچھ لوگ منڈا کے گھر میں داخل ہوئے اور انھوں نے ان پر اور ان کے بچوں پر ڈنڈوں اور کلہاڑی سے حملہ کر دیا۔
منڈا کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں، جن کی عمریں ایک، چار، سات اور 12 سال تھیں، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
اس ریاست کی قبائلی برادریوں میں خواتین کا جادوگرنی قرار دیے جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مزید ملزمان کو ڈھونڈ رہے ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی ہوں گی۔
جالن نے کہا کہ: ’یہ بہت ضروری ہے کہ گاؤں کے لوگوں کو ان توہمات کے خلاف آگاہی دی جائے۔‘
اوریسا میں جادوگرنیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے پر پابندی کا قانون ہونے کے باوجود ’جادوگری‘ سے منسلک قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال جادوگری کے الزام میں ایک گھر کے تین افراد کو قتل کرنے کے جرم میں نو لوگوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔
آسام اور جھاڑکھنڈ کی ریاستوں میں بھی انہی وجوہات کی بنا پر کئی خواتین کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2017 کے دوران اوڑیسا میں ’جادوگرنیوں کے شکار‘ کے 99 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ اس سے پچھلے سال 83 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ واقعات کی وجہ دقیانوسی عقائد ہیں لیکن کچھ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جہاں خصوصاً بیوہ خواتین کو ان کی زمین اور وراثت کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے۔







