ذہنی امراض اور پرتشدد رویے: کیا ذہنی بیماری کو سزا سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟

ذہنی امراض

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نہاں داگیا
    • عہدہ, کراچی

سنہ 2010 میں گرمیوں کی ایک شام خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی کے 11 سالہ ابوذر گھر سے قریبی میدان میں اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے نکلے۔ چھٹیوں کے دوران کرکٹ کھیلنا وہاں کے لڑکوں کا معمول تھا۔ ابوذر بالعموم رات کے کھانے تک گھر واپس آ جاتے تھے مگر اس رات وہ واپس نہیں آئے۔

ابوذر کے والد، فضل، رشتہ داروں کو لے کر ان کی تلاش میں نکلے تو میدان کے قریب ہی ایک ویران مکان کے صحن میں ان کی نظر تازہ مٹی کے ڈھیر پر پڑی۔ جب یہ مٹی کھودی گئی تو نیچے گڑھے میں ایک انسانی جسم کی موجودگی کے آثار دکھ رہے تھے۔ یہ فضل کے بیٹے ابوزر کی لاش تھی۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ابوزر کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد سر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

یہ مکان ابوذر کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے لڑکوں میں سے ایک لڑکے ابراراللہ کا تھا۔

اپنے اعترافی بیان میں ابراراللہ نے کہا کہ ’میچ کے بعد جب لڑکے اپنے گھروں کو چلے گئے تو میں نے ابوذر کو پیسے دیے کہ وہ تربوز خرید کر میرے پاس لائے۔‘ دونوں تنہا رہ گئے تو ابراراللہ نے ابوذر کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا اور لاش صحن میں دفنا دی۔

ابرار نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ یہ اس واقعے کا بدلہ تھا جس میں ان کے مطابق مقتول کے دادا نے ان کی والدہ کی بے حرمتی کی تھی۔

ذہنی مرض کا دعویٰ جسے عدالت نے قبول نہ کیا

ابرار اللہ کے خلاف مقدمہ شروع ہوا تو ایک ہی سال بعد ان کے وکلا کی جانب سے اس بنیاد پر کارروائی معطل کرنے کی درخواست کی گئی کہ ملزم ایک ذہنی مرض شیزوفرینیا میں مبتلا ہے۔ میڈیکل بورڈ کی سفارش پر اس مقدمے کی کارروائی تقریباً چار سال تک معطل رہی۔

مئی 2014 میں ایک بار اس وقت مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہوا جب ابراراللہ کو فِٹ قرار دیا گیا۔ سیشن کورٹ نے 23 دسمبر 2015 کو انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔

اس فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا جہاں جسٹس روح الامین خان نے درخواست رد کرتے ہوئے لکھا کہ ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی کہ ارتکاب جرم کرتے وقت مجرم سکِٹزوفرینیا کا مریض تھا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ابراراللہ نے جوڈیشنل میجسٹریٹ، تفتیشی افسر یا دوران ریمانڈ طبی معائنوں میں اپنی ’مبینہ بیماری‘ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ ’واردات کے دن یا اس سے پہلے کا کوئی میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ اپیل کنندہ اس مرض میں مبتلا رہا ہے۔‘

’اپیل کنندہ جیل میں بیمار مگر زیر علاج رہا ہوگا، جس سے وہ شفایاب ہو گیا۔ ان حقائق کی روشنی میں اپیل کنندہ کی جانب سے مریض ہونے کی استدعا کی بنیاد پر ان کی استدعا قبول نہیں کی جا سکتی۔‘ اس طرح ان کے نفسیاتی مریض ہونے کا مؤقف مسترد کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل مجاہد علی خان کا کہنا ہے کہ ابرار اللہ اگلے پانچ سے چھ برس کے اندر جیل سے رہا ہو جائیں گے۔

’عمر قید عام طور پر 25 سال کے لیے ہوتی ہے مگر صدارتی فرمانوں، نئی حکومت کی جانب سے رحم کے اعلانات، عید اور دوسری چھٹیوں، نیک چلن، تعلیم، قرآن پڑھنے اور دوسری اسلامی تعلیم کے حصول سے سزا میں رعایتیں ملتی رہتی ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ان تمام رعایتوں کا مطلب ہے کہ مجرم کو 10 سے 11 برس کی سزا ہی کاٹنا پڑتی ہے۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے سابق سفارتکار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی ذہنی صحت کے بارے میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے اسلام آباد کی مقامی عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ آٹھ دسمبر کو جب ملزم ظاہر جعفر کا طبی معائنہ ہوا تو اس دوران کوئی شواہد نہیں ملے کہ ملزم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں نیز میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کے ساتھ ظاہر جعفر کا کوئی سابقہ میڈیکل نہیں لگایا گیا جو ظاہر کرتا ہو کہ انھیں اس نوعیت کا کوئی مسئلہ ہے۔

ظاہر جعفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنظاہر جعفر کی ذہنی صحت کے بارے میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے اسلام آباد کی مقامی عدالت نے مسترد کر دیا تھا

ذہنی امراض اور پرتشدد رویے

نظام عدل سے رعایت حاصل کرنے کے لیے نفسیاتی یا ذہنی امراض کا بطور جواز پیش کیا جانا ایک متنازع بحث ہے۔ البتہ حالیہ برسوں کے دوران نیوروسائنس، نفسیات اور جنیٹکس میں ہونے والی دریافتوں نے ذہنی امراض اور تشدد کے درمیان تعلق کے بارے میں پائے جانے والے نظریات کی اہمیت کم کر دی ہے اور ایسے تصورات کی اصلاح بھی کی ہے جو قانون پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس کے باوجود عام تاثر یہی ہے کہ ذہنی بیماری اور تشدد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کیوںکہ ان کے لیے ایسے پرتشدد واقعات کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہی ہے جو اچانک رونما ہوتے ہیں اور جن کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

اسی لیے عام طور پر ایسے پرتشدد رویوں کو ذہنی امراض سے جوڑ دیا جاتا ہے جو صرف پاکستان ہی نہیں، عالمی طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

اس تصور کو جنونی قاتلوں کی فلم اور ڈرامے میں عکاسی کے ساتھ ساتھ ان خبروں سے بھی تقویت ملتی ہے جن میں بڑے عوامی اجتماعات پر کسی ایک شخص کی جانب سے فائرنگ کے ذریعے قتل عام کی کوشش کرنے والوں کے رویے کو نفسیات کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

’ذہنی امراض میں مبتلا لوگ نہ مزاحیہ ہوتے ہیں، نہ متشدد‘

نفسیاتی امراض اور بیہیویورل سائنسز (انسانی رویوں کا علم) کے پروفیسر مووادت رانا کہتے ہیں کہ ’ذہنی صحت ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کے تصورات لوک داستانوں، ادب اور فلموں کے ذریعے مضبوط ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے ذہنی مریضوں کو ’مذاق کا نشانہ‘ بنانے اور ٹیلی ویژن پر ان کی ’انتہائی متشدد‘ کردار نگاری کے بارے میں افسوس کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے مریضوں کی ’یہ ڈرامائی اور غیر سائنسی شبیہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ذہنی امراض میں مبتلا مریض نہ تو مزاحیہ ہوتے ہیں اور نہ ہی متشدد۔ وہ تو قابل رحم حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔‘

بہت سے لوگ گھبراہٹ، افسردگی، ذہنی دباؤ، اور غصے جیسی کیفیات سے دوچار ہوتے ہیں۔ بعض افراد میں یہ احساسات وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں مگر بہت سے دوسرے لوگوں میں دیرپا تبدیلیاں لاتے ہیں اور شدید اضطراب کو جنم دیتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نفسیاتی امراض

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پرتشدد رویوں کی وجہ ذہنی مرض یا کچھ اور؟

کافی عرصے تک سائنسی تحقیق کی توجہ اس نکتے کو ثابت کرنے میں رہی کہ آیا ذہنی امراض اور رویوں میں کوئی تعلق ہوتا ہے یا نہیں جس کے دوران سنگین جرائم کے مرتکب ہونے والے صحت مند افراد اور ایسے ذہنی مریضوں کا تقابلی جائزہ بھی کیا جاتا رہا۔

مگر حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تشدد کے لیے ذہنی بیماری کا ہونا نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی کافی ہے، اس کی بجائے اس کے پیچھے کار فرما عوامل معاشرتی اور معاشی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عوام ذہنی بیماری اور تشدد کے درمیان تعلق اور اپنے لیے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر رانا کا کہنا ہے کہ ’ایک شخص بالکل صحت مگر متشدد جبکہ دوسرا شخص ذہنی بیمار مگر غیر متشدد ہو سکتا ہے۔ تشدد اپنی ذات میں ایک فعل ہے۔ یہ بیماری سے زیادہ ایک علامت ہے۔ یہ ایک رویے کا اظہار ہے۔ایسے باپ اور مائیں ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ متشدد ہوتے ہیں۔ بعض شوہر اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں یا اس کے برعکس بیویاں شوہروں پر تشدد کرتی ہیں۔ یہ لوگ کسی ذہنی مرض میں مبتلا نہیں ہوتے۔‘

’امریکہ میں آتشی اسلحے سے قتل کرنے والوں میں کسی ذہنی مرض میں مبتلا افراد کا تناسب 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے اندازے کے مطابق صرف 3 سے 5 فیصد پرتشدد واقعات کا تعلق ایسے افراد سے ہو گا جو کسی شدید ذہنی مرض کا شکار ہوں۔‘

’شدید ذہنی امراض میں مبتلا افراد عام لوگوں کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ سنگین جرائم کا شکار بنتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی معاشرے کا رویہ

ذہنی بیماری کسی شخص کے سوچنے سمجھنے، مشکل کا حل نکالنے، حقیقت کو جانچنے، خطرے کو بھانپنے اور اس سے بچنے کی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کو نہ صرف اس کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے بلکہ اپنی بیماری سے جڑے تعصبات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ بدنامی اور امتیازی سلوک ان کے لیے زندگی کو مشکل تر بنا دیتے ہیں۔

ڈاکٹر رانا کہتے ہیں کہ ’ایک ذہنی مریض کو نفسیاتی ڈاکٹر تک پہنچنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں جبکہ دل کے مریض کو 20 منٹ میں ماہر امراض قلب کے پاس پہنچا دیا جاتا ہے۔‘

’جہاں ایک طرف ایسے افراد کے لیے ملازمت کا حصول مشکل ہوتا ہے وہیں سماج میں رہنا اور دوسروں سے میل جول بڑھانا دشوار ہوتا ہے جس سے ان کے اندر اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ وہ اس معاشرے میں رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس لیے یہ بات قابل تعجب نہیں ہے کہ ایسے لوگ اس خوف سے کہ کہیں انھیں ’پاگل‘ نہ قرار دے دیا جائے ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے۔‘

ذہنی مرض

ذہنی مرض اور ملازمت کا حصول

کیئر فار ہیلتھ انِیشی ایٹِیو کی علیزے والجی کا کہنا کہ ’عجیب بات یہ ہے کہ ذہنی امراض کا شکار بہت سے افراد ملازمت کر رہے ہیں مگر مالکان کو اس کا پتا نہیں۔‘

یہ ادارہ ذہنی امراض کا شکار افراد کے شفایاب ہو جانے کے بعد انھیں پھر سے معاشرے کا حصہ بننے میں مدد دیتا ہے۔

علیزے والجی کہتی ہیں کہ ’اگر آپ اس کا اعلان نہ کریں تو پتا نہیں چلتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’بہت سے مریض اپنی نفسیاتی ہسٹری کا ذکر کیے بغیر اپنے لیے ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں لیکن ان کے ادارے کو مریضوں کے لیے ملازمت حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ شدید ذہنی مرض کے ساتھ ملازمت کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔‘

والجی کا کہنا ہے کہ جو مالکان ذہنی امراض کا شکار رہنے والے افراد کو ملازمت دینے سے کتراتے ہیں انھیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں ’تماشا‘ نہ بن جائے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ذہنی خلل اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس سے قبل علامات سامنے آتی ہیں۔

غیر سائنسی تصورات

پروفیسر رانا ذہنی امراض سے جڑی ہوئی رسوائی کا سبب ان مریضوں کے روایتی علاج کو گردانتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’چونکہ ایک لمبے عرصے تک ذہنی امراض کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں تھا اس لیے زیادہ تر ایسے مریضوں کو آبادی سے دور کہیں پہاڑوں میں بھیج دیا جاتا تھا۔‘

ان کے بقول ایسے مریضوں کے معاشرے سے دور رہنے کی وجہ سے اس موضوع کے بارے میں بہت سے خام تصورات اور غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔

’مگر پچھلے 30 سے 40 سال کے دوران ان میں بڑی حد تک تبدیلیاں آئی ہیں اور اب ایسے مریض معاشرے سے جڑے رہتے ہیں۔ عام ہسپتالوں کے شعبہ ہائے نفسیات میں ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس لیے اب ان کے بارے میں پائے جانے والے خام اور غلط تصورات اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں، البتہ ان میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔‘

نظام انصاف

،تصویر کا ذریعہThinkstock

ذہنی امراض اور پاکستان کا نظام انصاف

ذہنی امراض میں مبتلا ملزموں اور قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے برتاؤ کی وجہ سے پاکستان کا نظام عدل بھی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ ضابطۂ فوجداری، ضوابطِ جیل اور تعزیرات پاکستان میں ایسے لوگوں کے لیے اب بھی ’مخبوط الحواس‘ اور ’پاگل‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔

جسٹس پاکستان پراجیکٹ کی سرکردہ مدعی ثنا فرخ کہتی ہیں کہ ’ہمارے قانون میں پاگل پن کا تصور نوآبادیاتی دور سے چلا آ رہا ہے، بعض اوقات اسے نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کمی محسوس ہوتی ہے۔‘

گزشتہ برس فروری میں سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے سے یہ تصور بدل گیا۔ اس میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی میڈیکل بورڈ اس بات کی تصدیق کر دے کہ مدعا علیہ جرم اور اس کی سزائے موت کے پیچھے جواز کو سمجھنے سے قاصر ہے، تو سزا پر عملدرآمد روک دیا جائے گا۔

فرخ کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی خوفناک جرم کا ارتکاب ہوا ہے تو جج کو لازماً دیکھنا چاہیے کہ کیا ذہنی مرض موجود ہے کیونکہ اس کا امکان ہے۔ شاید اسی سبب سے عوامی شعور سمت بدل دیتا ہے۔‘

کیا پاکستان میں ذہنی بیماری کا عذر ثابت کرنا آسان ہے؟

پاگل پن کے عذر کو کم سے کم پاکستان میں ثابت کرنا آسان نہیں۔ ہائی کورٹ کے وکیل شرافت علی چوہدری ایڈووکیٹ ذہنی بیماری کا عذر پیش کرنے کے لیے تین مواقع کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پولیس کے سامنے ابتدا ہی میں پیش کیا جانا چاہیے۔ دوئم جب ملزم پر فردِ جرم عائد کر دی جائے اور وہ اقبال جرم کرے اور اس کی وجوہات بتائے اور آخر میں جب استغاثہ کی جانب سے شہادتیں پیش کیے جانے کے بعد اور سزا سنانے سے پہلے، عدالت ملزم سے سوالات کرتی ہے اور بغیر حلف کے اس کا بیان ریکارڈ کرتی ہے۔‘

ثنا فرخ کہتی ہیں کہ پاکستان کا نظام عدل ذہنی بیماری کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور عجیب و غریب رویے کی علامات کو نظر انداز کر سکتا ہے۔

’اگر ذہنی مرض کا ذکر ابتدائی مراحل میں نہ آئے اور بعد میں کیا جائے تو اسے ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ذہنی مرض کا سچا کیس ایسے شخص سے نظر انداز ہو سکتا ہے جسے کوئی دلچسپی نہ ہو یا وہ تربیت یافتہ نہ ہو، یا ذہنی امراض میں مبتلا افراد سے تعصب رکھتا ہو۔‘

ثنا فرخ نے اس غلط فہمی کی وضاحت یوں کی کہ پاگل پن کا عذر سزا سے بچنے کے لیے ہی پیش کیا جاتا ہے۔

’اس کے باوجود اگلی سخت ترین سزا دی جا سکتی ہے۔ مثلاً اگر کسی کو قتل کے جرم میں عمر قید ہو جائے اور حکام اس نتیجے پر پہنچیں کہ سزا کاٹنے کے بعد ایسے شخص کی رہائی معاشرے کے لیے خطرناک ہے تو جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق اسے مزید وقت کے لیے قید میں رکھا جا سکتا ہے۔‘